Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 121

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوۡفِ شَیْئًاوَلَوْ اَنْ تَلْقَی اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلِیْقٍ. ( )

عن ابی ذر قال: قال لی النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا تحقرن من المعروف شیئاولو ان تلقی اخاک بوجہ طلیق. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابو ذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:”تم کسی نیکی کو حقیر نہ جانو اگر چہ وہ تمہارا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنا ہی ہو ۔ ‘‘

شرح حدیث

ہرنیکی پر ثواب دیا جاتا ہے:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ حدیث ِ مذکور میں بھلائی کے کاموں پر اُبھارا گیا ہے، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ ۔اوراس بات پر بھی کہ کسی چھوٹی نیکی کو بھی حقیر جان کرنہ چھوڑو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے: (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷)) (پ:۳۰، الزلزال:۷) (ترجمۂکنزالایمان: تو جو ایک ذرہ بھربھلائی کرے اسے دیکھے گا۔) یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں سے خندہ پیشانی سے ملنا شریعت میں محمود ہے اور اس پر اجر دیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )مسلمانوں کو خوش کرنا بھی نیکی ہے:دلیل الفالحین میں ہے: یعنی کسی بھی نیکی کو چھوٹی سمجھ کر نہ چھوڑو کیونکہ بسا اوقات چھوٹی نیکی رضائے الٰہی کا سبب بن جاتی ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہُسے مروی ہے: ”بے شک! بندہ بعض اوقات ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جو اس کی نظر میں اہم نہیں ہوتا لیکناللہ عَزَّوَجَلَّاس کی وجہ سے اس کے درجات بلند فرمادیتا ہے۔“ اپنے مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنا بھی نیکی ہے ، کیونکہ اس میں مسلمان بھائی کے ‏لیے اُنسیت اور خوف و وحشت سے دُور ی ہے اور اِس سے آپس میں وہ اُلفت حاصل ہوتی ہے جو ( شریعت کو ) مطلوب ہے۔ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :”مسلمانوں سے خوشی و مسرت کے ساتھ ملنا بھی نیکی ہے کیونکہ یہ سامنے والے کے دل میں خوشی پیدا کرتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان کے دل کو خوشی پہنچانا نیکی ہے۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ صوفیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ کوئی نیکی حقیر جان کر چھوڑ نہ دو کہ کبھی ایک گھونٹ پانی جان بچا لیتا ہے اور کوئی گناہ حقیر سمجھ کر کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر پھونک دیتی ہے۔اِن کا ماخذ یہ حدیث ہے، مسلمان بھائی سے خوش ہو کر ملنا، اس کے دل کی خوشی کا باعث ہے اور مؤمن کو خوش کرنا بھی عبادت ہے۔ ‘‘ ( )مسکراکرملنا صَدَقہ ہے:حضرتِ سَیِّدُنَا حسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ تمہارا لوگوں کو گرم جوشی سے سلام کرنا بھی صدقہ ہے۔ ‘‘ ( )
آقائے دو جہاں ، سرورِ کون ومکاں
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ اپنےبھائی سے مسکرا کرملنا تمہارے لیے صَدَقہ ہے اور نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا صَدَقہ ہے۔ ‘‘ ( )
¥
بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنت ہے:شیخ طریقت، امیرِاہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارقادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : ’’ بیان کردہ حدیثِ مبارکہ میں مُسکر ا کر ملنے، نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کو صَدَقہ کہا گیا۔سُبْحٰنَ اللہ! مُسکرا کر ملنے کی تو کیا بات ہے! مسکر اکرملنا، مسکرا کر کسی کو سمجھانا عُمُومًا نیکی کی دعوت کے مدنی کام کو نہایت سَہل و آسان بنا دیتا اور حیرت انگیز نتائج کا سبب بنتا ہے۔جی ہاں !آپ کی معمولی سی مُسکراہٹ کسی کا دل جیت کر اُس کی گناہوں بھری زندَگی میں مدنی انقلاب برپا کر سکتی ہے اور ملتے وَقت بے رُخی اور لاپرواہی سے اِدھر اُدھردیکھتے ہوئے ہاتھ ملانا کسی کا دل توڑ کر اُس کومَعاذَاللہگمراہی کے گہرے گڑھے میں گر اسکتا ہے۔لہٰذا جب بھی کسی سے ملیں ، گفتگو کریں اُس وَقت حتی الامکان مُسکراتے رہیے۔اگر خُشک مزاجی یا بے توجُّہی سے ملنے کی خصلت ہے تو مِلنساری اورمُسکرا کر ملنے کی عادت بنانے کےلیے خوب کوشش کیجئے، بلکہ مُسکرانے کی عادت پکی کرنے کے‏لیے ضَرورتًا کسی کی ذِمّے داری بھی لگایئے کہ وہ دوسروں سے بات کرتے ہوئے آپ کا منہ پھولا ہوا یا سَپاٹ مَحسوس کرے تو گاہے بہ گا ہے یاد دِہانی کرواتے ہوئے کہتا رہے یا آپ کو اِس طرح کی تحریر دکھا دیاکرے: ’’ بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنَّت ہے۔ ‘‘ جی ہاں واقعی یہ سنَّت ہے۔
چنانچِہ منقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ دَرداء
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا، حضرتِ سیِّدُناابو دَرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مُتَعَلِّق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مُسکرا کر کیا کرتے، جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا: ’’ میں نے حُسن اخلاق کےپیکر، ملنساروں کے رہبر، غمزدوں کے یاوَر، محبوبِ ربِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدَورانِ گفتگو مسکراتے رہتے تھے۔ ‘‘ ( )جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اُس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ حبیب ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
مسلمانوں کا آپس میں خندہ پیشانی سے ملنا شریعت کومحبوب ہے، اس پر اَجر دیا جاتا ہے اور یہ آپس میں اُنسیت، محبت اور اُخوَّت کا پیش خیمہ ہے۔
(2) کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے کہ ہوسکتا ہے وہ نیکی رضائے الٰہی کا سبب بن جائے اور کل بروزِ قیامت اس کی وجہ سے مغفرت کا پروانہ جاری ہوجائے۔
(3) ہر چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنا چاہیےکہ ہوسکتا ہے وہی چھوٹاگناہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کا سبب بن جائے اور کل بروزِ قیامت اسی پر پکڑ ہوجائے۔
(4) رضائے الٰہی کے طلب گار نیکیوں کے ثواب سے زیادہ رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھتے ہیں وہ کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑتے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے محبوب حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طفیل اَعمالِ صالحہ بجالانےاور گناہوں سے بچنےکی توفیق عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 121