- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 121
باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 121
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوۡفِ شَیْئًاوَلَوْ اَنْ تَلْقَی اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلِیْقٍ. ( )
عن ابی ذر قال: قال لی النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا تحقرن من المعروف شیئاولو ان تلقی اخاک بوجہ طلیق. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُناابو ذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:”تم کسی نیکی کو حقیر نہ جانو اگر چہ وہ تمہارا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنا ہی ہو ۔ ‘‘
شرح حدیث
ہرنیکی پر ثواب دیا جاتا ہے:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ حدیث ِ مذکور میں بھلائی کے کاموں پر اُبھارا گیا ہے، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ ۔اوراس بات پر بھی کہ کسی چھوٹی نیکی کو بھی حقیر جان کرنہ چھوڑو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے: (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷)) (پ:۳۰، الزلزال:۷) (ترجمۂکنزالایمان: تو جو ایک ذرہ بھربھلائی کرے اسے دیکھے گا۔) یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں سے خندہ پیشانی سے ملنا شریعت میں محمود ہے اور اس پر اجر دیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )مسلمانوں کو خوش کرنا بھی نیکی ہے:دلیل الفالحین میں ہے: یعنی کسی بھی نیکی کو چھوٹی سمجھ کر نہ چھوڑو کیونکہ بسا اوقات چھوٹی نیکی رضائے الٰہی کا سبب بن جاتی ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہُسے مروی ہے: ”بے شک! بندہ بعض اوقات ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جو اس کی نظر میں اہم نہیں ہوتا لیکناللہ عَزَّوَجَلَّاس کی وجہ سے اس کے درجات بلند فرمادیتا ہے۔“ اپنے مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنا بھی نیکی ہے ، کیونکہ اس میں مسلمان بھائی کے لیے اُنسیت اور خوف و وحشت سے دُور ی ہے اور اِس سے آپس میں وہ اُلفت حاصل ہوتی ہے جو ( شریعت کو ) مطلوب ہے۔ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :”مسلمانوں سے خوشی و مسرت کے ساتھ ملنا بھی نیکی ہے کیونکہ یہ سامنے والے کے دل میں خوشی پیدا کرتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان کے دل کو خوشی پہنچانا نیکی ہے۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ صوفیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ کوئی نیکی حقیر جان کر چھوڑ نہ دو کہ کبھی ایک گھونٹ پانی جان بچا لیتا ہے اور کوئی گناہ حقیر سمجھ کر کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر پھونک دیتی ہے۔اِن کا ماخذ یہ حدیث ہے، مسلمان بھائی سے خوش ہو کر ملنا، اس کے دل کی خوشی کا باعث ہے اور مؤمن کو خوش کرنا بھی عبادت ہے۔ ‘‘ ( )مسکراکرملنا صَدَقہ ہے:حضرتِ سَیِّدُنَا حسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ تمہارا لوگوں کو گرم جوشی سے سلام کرنا بھی صدقہ ہے۔ ‘‘ ( )
آقائے دو جہاں ، سرورِ کون ومکاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ اپنےبھائی سے مسکرا کرملنا تمہارے لیے صَدَقہ ہے اور نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا صَدَقہ ہے۔ ‘‘ ( )
¥بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنت ہے:شیخ طریقت، امیرِاہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارقادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : ’’ بیان کردہ حدیثِ مبارکہ میں مُسکر ا کر ملنے، نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کو صَدَقہ کہا گیا۔سُبْحٰنَ اللہ! مُسکرا کر ملنے کی تو کیا بات ہے! مسکر اکرملنا، مسکرا کر کسی کو سمجھانا عُمُومًا نیکی کی دعوت کے مدنی کام کو نہایت سَہل و آسان بنا دیتا اور حیرت انگیز نتائج کا سبب بنتا ہے۔جی ہاں !آپ کی معمولی سی مُسکراہٹ کسی کا دل جیت کر اُس کی گناہوں بھری زندَگی میں مدنی انقلاب برپا کر سکتی ہے اور ملتے وَقت بے رُخی اور لاپرواہی سے اِدھر اُدھردیکھتے ہوئے ہاتھ ملانا کسی کا دل توڑ کر اُس کومَعاذَاللہگمراہی کے گہرے گڑھے میں گر اسکتا ہے۔لہٰذا جب بھی کسی سے ملیں ، گفتگو کریں اُس وَقت حتی الامکان مُسکراتے رہیے۔اگر خُشک مزاجی یا بے توجُّہی سے ملنے کی خصلت ہے تو مِلنساری اورمُسکرا کر ملنے کی عادت بنانے کےلیے خوب کوشش کیجئے، بلکہ مُسکرانے کی عادت پکی کرنے کےلیے ضَرورتًا کسی کی ذِمّے داری بھی لگایئے کہ وہ دوسروں سے بات کرتے ہوئے آپ کا منہ پھولا ہوا یا سَپاٹ مَحسوس کرے تو گاہے بہ گا ہے یاد دِہانی کرواتے ہوئے کہتا رہے یا آپ کو اِس طرح کی تحریر دکھا دیاکرے: ’’ بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنَّت ہے۔ ‘‘ جی ہاں واقعی یہ سنَّت ہے۔
چنانچِہ منقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ دَرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا، حضرتِ سیِّدُناابو دَرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مُتَعَلِّق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مُسکرا کر کیا کرتے، جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا: ’’ میں نے حُسن اخلاق کےپیکر، ملنساروں کے رہبر، غمزدوں کے یاوَر، محبوبِ ربِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدَورانِ گفتگو مسکراتے رہتے تھے۔ ‘‘ ( )جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اُس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلامصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ حبیب ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)مسلمانوں کا آپس میں خندہ پیشانی سے ملنا شریعت کومحبوب ہے، اس پر اَجر دیا جاتا ہے اور یہ آپس میں اُنسیت، محبت اور اُخوَّت کا پیش خیمہ ہے۔
(2) کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے کہ ہوسکتا ہے وہ نیکی رضائے الٰہی کا سبب بن جائے اور کل بروزِ قیامت اس کی وجہ سے مغفرت کا پروانہ جاری ہوجائے۔
(3) ہر چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنا چاہیےکہ ہوسکتا ہے وہی چھوٹاگناہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کا سبب بن جائے اور کل بروزِ قیامت اسی پر پکڑ ہوجائے۔
(4) رضائے الٰہی کے طلب گار نیکیوں کے ثواب سے زیادہ رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھتے ہیں وہ کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑتے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے محبوب حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طفیل اَعمالِ صالحہ بجالانےاور گناہوں سے بچنےکی توفیق عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 121