- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 128
باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 128
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّاَ فاَحْسَنَ الْوُضُوۡ ءَ، ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃَ، فَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ، غُفِرَ لَہُ مَابَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ وَزِیَادَۃُ ثَلَاثَۃِ اَیَّام، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا. ( )
عن ابی ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من توضا فاحسن الوضو ء، ثم اتی الجمعۃ، فاستمع وانصت، غفر لہ مابینہ وبین الجمعۃ وزیادۃ ثلاثۃ ایام، ومن مس الحصا فقد لغا. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جووضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے آئے اور خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے گناہ بھی اور جو کنکریوں کو چھوئے تو اس نے لغو کام کیا۔ ‘‘
شرح حدیث
جُمُعَہ کی وجہ تسمیہ:مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ چونکہ اس ( جمعہ کے ) دن میں تمام مخلوقات وجودمیں مجتمع ہوئی کہ تکمیلِ خلق اِسی دن ہوئی۔نیز حضرت آدم (عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کی مٹی اسی دن جمع ہوئی، نیز اس دن میں لوگ نمازِ جمعہ جمع ہوکر ادا کرتے ہیں اِن وجوہ سے اسے جُمُعہ کہتے ہیں۔اسلام سے پہلے اہل عرب اسےعَرُوْبَہکہتے تھے۔نماز جمعہ فرض ہے۔شعار اسلام میں سے ہے۔اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے مگر اس کی فرضیت کے لیے کچھ شرائط ہیں ۔چنانچہ یہ نماز مسلمان، مرد، عاقل، بالغ، آزاد، تندرست، شہری پر فرض ہے، اس کی ادا کے لیے جماعت، آزاد، جگہ، شہراور خطبہ شرط ہیں ۔ گاؤں والوں پر جمعہ فرض نہیں ہے۔ ‘‘ ( )
مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’ حدیثِ مذکورمیں اشارہ ہے کہ ( جمعہ ) کے دن غسل کرنا سنت ہے واجب نہیں اور وضو کرنے سے مراد سنن و مستحبات کا لحاظ رکھتے ہوئے کامل وضوکرنا ہے۔ ‘‘ ( )
¥دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا:شرح مسلم میں ہے: ’’ جس نے کسی کنکری کوچھوا تو اس نے لغو کام کیا ۔ ‘‘ اس فرمان عالی میں خطبہ سننے کی حالت میں کنکریاں اورہر بیکار و بے فائدہ چیز کو چھو نے سے منع کیاگیا ہےاور اس طرف اشارہ ہے کہ دل اور تمام اَعضاءکی توجہ خطبہ کی طرف ہونی چاہیے۔یہاں لغو سے مراد باطل مذموم اور مَردُود چیزیں ہیں ۔ ‘‘ ( )شیخ عبد الحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا لغو و باطل ہے کیونکہ ان کی وجہ سے بندہ خطبہ سننے سے غافل ہو جاتا ہے جیسا کہ گفتگو غفلت کا باعث بنتی ہے۔ کنکریاں چھو نے سےمراد ان سے کھیلنا یا بِلا ضرورت انہیں زمین پر ہموار کرناہے۔بعض نے کہا کہ اس سے مرادکنکریوں کو گھمانا اوربطور ِتسبیح استعمال کرنا ہے۔ ‘‘ ( )
¥غسل جمعہ کاوقت:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ) دوسرے جمعہ سے مراد آئندہ جمعہ ہے یا گذشتہ ۔دوسرے معنیٰ زیادہ قوی ہیں جیسا کہ ابن خُزیمہ بلکہ ابو داؤد کی روایا ت میں ہے۔معلوم ہو اکہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ۔ ربّتعالٰیفرماتا ہے: (اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-) بعض علماءفرماتے ہیں کہ غسل جمعہ نماز کے لیے مسنون ہے نہ کہ دنِ جمعہ کے لیے۔ لہٰذاجس پر جمعہ کی نمازنہیں ان کے لیے غسل سنت نہیں ، ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔بعض فرماتے ہیں کہ جمعہ کا غسل نمازِ جمعہ سے قریب کرو حتی کہ اس کے وضو سے جمعہ پڑھو۔مگر حق یہ ہے کہ غسلِ جمعہ کا وقت طلوعِ فجر سے شروع ہوجاتا ہے۔ (اور مزید تین دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ) یعنی دس دن کے گناہ کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔جتنا خشوع زیادہ، اتنا ثواب زیادہ یا اولًا آٹھ دن کی بخشش کا وعدہ تھا پھر دس دن کا وعدہ ہوا۔ ‘‘ ( )
¥جمعہ کی فضیلت پر 8فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1) ’’ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے بڑا ہے۔ اوروہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک عیدالاضحیٰ وعیدالفطر سے بڑاہے، اس میں پانچ خصلتیں ہیں :٭اللہ عَزَّوَجَلَّنےاسی میں حضرت سَیِّدُنَاآدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو پيدا کیا۔٭اور اسی میں زمین پر انہيں اتارا۔٭اور اسی میں انہيں وفات دی۔٭اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے وہ اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے۔ ٭اور اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، کوئی مقرب فرشتہ، آسمان و زمین اور ہوا اور پہاڑ اور دریا ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن سے نہ ڈرتا ہو۔ ‘‘ ( ) (2) ’’ جمعہ کے دن جس ساعت کی خواہش کی جاتی ہے اسے عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک تلاش کرو۔ ‘‘ ( ) (3) ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی مسلمان کو جمعہ کے دن بے مغفرت کیے نہ چھوڑے گا۔ ‘‘ ( )(4) ’’ جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے گا، عذاب قبر سے بچا لیا جائے گا اور قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس پر شہیدوں کی مُہر ہوگی۔ ‘‘ ( ) (5) ’’ جو مسلمان مرد یا مسلمان عورت جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے، عذابِ قبراورفتنۂ قبر سے بچا لیا جائے گااورخداعَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملے گا کہ اس پر کچھ حساب نہ ہوگااور اس کے ساتھ گواہ ہوں گے یا مُہر ہوگی۔ ‘‘ ( )(6) ’’ جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعہ کا دن چمکدار دن۔ ‘‘ ( ) (7) ”جو جمعہ کے دن نہائے اور جلدی آئے اور شروع خطبہ میں شریک ہو اور پیدل آئے، سواری پر نہ آئے اور امام سے قریب ہو اور کان لگا کر خطبہ سُنے اور لغو کام نہ کرے، اس کے ليے ہر قدم کے بدلے سال بھر کا عمل اورایک سال کے دنوں کے روزے اور راتوں کے قیام کا اجر ہے۔ ‘‘ ( ) (8) ’’ جو جمعہ کے دن نہائے اس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اور جب چلنا شروع کرے تو ہر قدم پر بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ ‘‘ اور دوسری روایت میں ہے: ’’ ہر قدم پر بیس سال کاعمل لکھا جاتا ہے اورجب نمازسے فارغ ہوتو اسےدوسو برس کے عمل کا اجر ملتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥مدنی گلدستہ
’’ نماز جمعہ ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)نمازِ جمعہ فرض ہے، شعارِ اسلام میں سے ہےاوراس کی فرضیت کاانکارکرنےوالا کافر ہے۔
(2) دورانِ خطبہ بات چیت کرناحرام ہے۔
(3) غسل جمعہ نمازِ جمعہ کے لیے مسنون ہے، نہ کہ جمعہ کے دن کے لیے۔
(4) جوشخص جمعہ کے دن غسل کرتاہے اس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں ۔
(5) جمعہ تمام دنوں کاسردار ہے۔(6) ∞جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو انتقال کرے گا اسے عذاب قبر سے بچالیا جائے گا۔
(7) جمعہ کے روز مرنےوالابغیرحساب جنت میں داخل ہوگا۔(8) ∞جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت بھی ہے کہ بندہ اس ساعت میں جو مانگے اسے عطا کیا جاتا ہے بشرطیکہ حرام کا سوال نہ کرے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خشوع وخضوع کے ساتھ نماز جمعہ اداکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 128