Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 128

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّاَ فاَحْسَنَ الْوُضُوۡ ءَ، ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃَ، فَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ، غُفِرَ لَہُ مَابَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ وَزِیَادَۃُ ثَلَاثَۃِ اَیَّام، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا. ( )

عن ابی ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من توضا فاحسن الوضو ء، ثم اتی الجمعۃ، فاستمع وانصت، غفر لہ مابینہ وبین الجمعۃ وزیادۃ ثلاثۃ ایام، ومن مس الحصا فقد لغا. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جووضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر جمعہ کی نماز پڑھنے کے ‏لیے آئے اور خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے گناہ بھی اور جو کنکریوں کو چھوئے تو اس نے لغو کام کیا۔ ‘‘

شرح حدیث

جُمُعَہ کی وجہ تسمیہ:مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ چونکہ اس ( جمعہ کے ) دن میں تمام مخلوقات وجودمیں مجتمع ہوئی کہ تکمیلِ خلق اِسی دن ہوئی۔نیز حضرت آدم (عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کی مٹی اسی دن جمع ہوئی، نیز اس دن میں لوگ نمازِ جمعہ جمع ہوکر ادا کرتے ہیں اِن وجوہ سے اسے جُمُعہ کہتے ہیں۔اسلام سے پہلے اہل عرب اسےعَرُوْبَہکہتے تھے۔نماز جمعہ فرض ہے۔شعار اسلام میں سے ہے۔اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے مگر اس کی فرضیت کے ‏لیے کچھ شرائط ہیں ۔چنانچہ یہ نماز مسلمان، مرد، عاقل، بالغ، آزاد، تندرست، شہری پر فرض ہے، اس کی ادا کے ‏لیے جماعت، آزاد، جگہ، شہراور خطبہ شرط ہیں ۔ گاؤں والوں پر جمعہ فرض نہیں ہے۔ ‘‘ ( )
مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’ حدیثِ مذکورمیں اشارہ ہے کہ ( جمعہ ) کے دن غسل کرنا سنت ہے واجب نہیں اور وضو کرنے سے مراد سنن و مستحبات کا لحاظ رکھتے ہوئے کامل وضوکرنا ہے۔ ‘‘ ( )
¥
دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا:شرح مسلم میں ہے: ’’ جس نے کسی کنکری کوچھوا تو اس نے لغو کام کیا ۔ ‘‘ اس فرمان عالی میں خطبہ سننے کی حالت میں کنکریاں اورہر بیکار و بے فائدہ چیز کو چھو نے سے منع کیاگیا ہےاور اس طرف اشارہ ہے کہ دل اور تمام اَعضاءکی توجہ خطبہ کی طرف ہونی چاہیے۔یہاں لغو سے مراد باطل مذموم اور مَردُود چیزیں ہیں ۔ ‘‘ ( )شیخ عبد الحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا لغو و باطل ہے کیونکہ ان کی وجہ سے بندہ خطبہ سننے سے غافل ہو جاتا ہے جیسا کہ گفتگو غفلت کا باعث بنتی ہے۔ کنکریاں چھو نے سےمراد ان سے کھیلنا یا بِلا ضرورت انہیں زمین پر ہموار کرناہے۔بعض نے کہا کہ اس سے مرادکنکریوں کو گھمانا اوربطور ِتسبیح استعمال کرنا ہے۔ ‘‘ ( )
¥
غسل جمعہ کاوقت:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ) دوسرے جمعہ سے مراد آئندہ جمعہ ہے یا گذشتہ ۔دوسرے معنیٰ زیادہ قوی ہیں جیسا کہ ابن خُزیمہ بلکہ ابو داؤد کی روایا ت میں ہے۔معلوم ہو اکہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ۔ ربّتعالٰیفرماتا ہے: (اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-) بعض علماءفرماتے ہیں کہ غسل جمعہ نماز کے لیے مسنون ہے نہ کہ دنِ جمعہ کے لیے۔ لہٰذاجس پر جمعہ کی نمازنہیں ان کے ‏لیے غسل سنت نہیں ، ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔بعض فرماتے ہیں کہ جمعہ کا غسل نمازِ جمعہ سے قریب کرو حتی کہ اس کے وضو سے جمعہ پڑھو۔مگر حق یہ ہے کہ غسلِ جمعہ کا وقت طلوعِ فجر سے شروع ہوجاتا ہے۔ (اور مزید تین دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ) یعنی دس دن کے گناہ کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔جتنا خشوع زیادہ، اتنا ثواب زیادہ یا اولًا آٹھ دن کی بخشش کا وعدہ تھا پھر دس دن کا وعدہ ہوا۔ ‘‘ ( )
¥
جمعہ کی فضیلت پر 8فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1) ’’ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے بڑا ہے۔ اوروہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک عیدالاضحیٰ وعیدالفطر سے بڑاہے، اس میں پانچ خصلتیں ہیں :٭اللہ عَزَّوَجَلَّنےاسی میں حضرت سَیِّدُنَاآدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو پيدا کیا۔٭اور اسی میں زمین پر انہيں اتارا۔٭اور اسی میں انہيں وفات دی۔٭اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے وہ اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے۔ ٭اور اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، کوئی مقرب فرشتہ، آسمان و زمین اور ہوا اور پہاڑ اور دریا ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن سے نہ ڈرتا ہو۔ ‘‘ ( ) (2) ’’ جمعہ کے دن جس ساعت کی خواہش کی جاتی ہے اسے عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک تلاش کرو۔ ‘‘ ( ) (3) ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی مسلمان کو جمعہ کے دن بے مغفرت کیے نہ چھوڑے گا۔ ‘‘ ( )(4) ’’ جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے گا، عذاب قبر سے بچا لیا جائے گا اور قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس پر شہیدوں کی مُہر ہوگی۔ ‘‘ ( ) (5) ’’ جو مسلمان مرد یا مسلمان عورت جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے، عذابِ قبراورفتنۂ قبر سے بچا لیا جائے گااورخداعَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملے گا کہ اس پر کچھ حساب نہ ہوگااور اس کے ساتھ گواہ ہوں گے یا مُہر ہوگی۔ ‘‘ ( )(6) ’’ جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعہ کا دن چمکدار دن۔ ‘‘ ( ) (7) ”جو جمعہ کے دن نہائے اور جلدی آئے اور شروع خطبہ میں شریک ہو اور پیدل آئے، سواری پر نہ آئے اور امام سے قریب ہو اور کان لگا کر خطبہ سُنے اور لغو کام نہ کرے، اس کے ليے ہر قدم کے بدلے سال بھر کا عمل اورایک سال کے دنوں کے روزے اور راتوں کے قیام کا اجر ہے۔ ‘‘ ( ) (8) ’’ جو جمعہ کے دن نہائے اس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اور جب چلنا شروع کرے تو ہر قدم پر بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ ‘‘ اور دوسری روایت میں ہے: ’’ ہر قدم پر بیس سال کاعمل لکھا جاتا ہے اورجب نمازسے فارغ ہوتو اسےدوسو برس کے عمل کا اجر ملتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
’’ نماز جمعہ ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)
نمازِ جمعہ فرض ہے، شعارِ اسلام میں سے ہےاوراس کی فرضیت کاانکارکرنےوالا کافر ہے۔
(2) دورانِ خطبہ بات چیت کرناحرام ہے۔
(3) غسل جمعہ نمازِ جمعہ کے لیے مسنون ہے، نہ کہ جمعہ کے دن کے لیے۔
(4) جوشخص جمعہ کے دن غسل کرتاہے اس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں ۔
(5) جمعہ تمام دنوں کاسردار ہے۔
(6) ∞جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو انتقال کرے گا اسے عذاب قبر سے بچالیا جائے گا۔
(7) جمعہ کے روز مرنےوالابغیرحساب جنت میں داخل ہوگا۔
(8) ∞جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت بھی ہے کہ بندہ اس ساعت میں جو مانگے اسے عطا کیا جاتا ہے بشرطیکہ حرام کا سوال نہ کرے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خشوع وخضوع کے ساتھ نماز جمعہ اداکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 128