- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 126
باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 126
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:بَیْنَمَارَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیۡقٍ اِشْتَدَّ عَلَیْہِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًافَنَزَلَ فِیْہَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَاِذَا کَلۡبٌ یَلْہَثُ یَاْکُلُ الثَّرٰی مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ ہٰذَاالۡکَلۡبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِیْ کَانَ قَدْ بَلَغَ مِنِّیْ، فَنَزَلَ البِئْرَ فَمَلَاَخُفَّہُ مَاءً ثُمَّ اَمْسَکَہُ بِفِیْہِ، حَتّٰی رَقِیَ فَسَقَی الْکَلْبَ، فَشَکرََ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!وَاِنَّ لَنَا فِیْ الْبَہَائِمِ اَجْرًا ؟ فَقَالَ:فِیْ کُلِّ کَبِدٍرَطْبَۃٍ اَجْرٌ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِلْبُخَارِیِّ: فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ ، فَاَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَا:بَیْنَمَاکَلْبٌ یُطِیْفُ بِرَکِیَّۃٍ قَدْ کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطَشُ اِذاَ رَاتْہُ بَغِیٌّ مِنْ بَغَایَا بَنِیْ اِسرَائِیْلَ فَنَزَعَتْ مُوْقَہَا فَاسْتَقَتْ لَہُ بِہِ فَسَقَتْہُ فَغُفِرَ لَھَا بِہِ. ( )
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:بینمارجل یمشی بطریق اشتد علیہ العطش، فوجد بئرافنزل فیہا فشرب ثم خرج، فاذا کلب یلہث یاکل الثری من العطش، فقال الرجل: لقد بلغ ہذاالکلب من العطش مثل الذی کان قد بلغ منی، فنزل البئر فملاخفہ ماء ثم امسکہ بفیہ، حتی رقی فسقی الکلب، فشکر اللہ لہ فغفر لہ، قالوا: یا رسول اللہ!وان لنا فی البہائم اجرا ؟ فقال:فی کل کبدرطبۃ اجر. ( ) وفی روایۃ للبخاری: فشکر اللہ لہ فغفر لہ ، فادخلہ الجنۃ. ( ) وفی روایۃ لہما:بینماکلب یطیف برکیۃ قد کاد یقتلہ العطش اذا راتہ بغی من بغایا بنی اسرائیل فنزعت موقہا فاستقت لہ بہ فسقتہ فغفر لھا بہ. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ایک دفعہ ایک آدمی کہیں جارہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگی، اسے ایک کنواں ملا ، ا سں نے کنویں میں اترکر پانی پیا ، جب باہر آیا تو ایک کتا پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکالے کھڑا تھا اور کیچڑ چاٹ رہاتھا ۔اس شخص نے کہا:اس کتے کو بھی اُسی طرح پیاس لگی ہے جس طرح مجھے لگی تھی۔ پس وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھرا، پھر اسےمنہ میں پکڑ کر کنویں سے باہر آگیا اور کتےکو پانی پلایا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے عمل کا اسے صلہ دیا اور اسے بخش دیا۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا جانوروں (کے ساتھ اچھا سلوک کرنے) میں بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ ہرترجگرمیں اجر ہے۔ ‘‘ اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہےکہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے ثواب دیا اور اس کی مغفرت فرماکر جنت میں داخل کردیا۔ ‘‘ بخاری ومسلم کی ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ ’’ ایک کتا کنویں کے گرد چکر لگارہا تھا، قریب تھا کہ پیاس کی شدت اسے ہلاک کردیتی اسی اثنامیں بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نےاسے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اُتارااوراس سے پانی کھینچ کراس کتے کو پلادیا پس اسی وجہ سے اس کی مغفرت کردی گئی۔ ‘‘
شرح حدیث
مخلوق پررحم کرو:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں تمام مخلوق، مؤمن، کافر، جانور وں اورپرندوں پر رحم و نرمی کرنے پر ابھارا گیا ہےاوریہ اُن اَعمال میں سے ہے جن کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کے گناہوں کو معاف کرتااورخطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔ پس ہر عقل مند مسلمان کو چاہیے کہ وہ انسانوں اور تمام حیوانات کے ساتھ رحم دلی ونرمی سے پیش آئے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے کوئی چیز بے کار نہیں بنائی اورہرشخص سے اس کی ملکیت اور رَعِیَّت (ماتحتوں ) کے بارے میں پوچھا جائے گا خواہ وہ انسان ہویاجانور، اگرچہ اپنا نہ ہو کیونکہ وہ اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جس کتے کو اس شخص نے جنگل میں پانی پلایا تھا وہ اس کا اپنا نہیں تھا مگراللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کی مغفرت فرمادی۔ ‘‘ ( )
¥ہرترجگر سے کیا مراد ہے؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ہر جاندارکے ساتھ بھلائی کرنے پرثواب ہے خواہ پانی پلا کر ہو یا کسی اور طرح ۔حدیث میں زندہ جانور کو تر جگر والا کہا گیا ہے کیونکہ مردار کا جسم اور جگر خشک ہوجاتا ہے۔ پس اس حدیث میں ہر اس جانور کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر اُبھارا گیا ہے جسے مارنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ہاں !جن کے قتل کا حکم دیا گیا ہے انہیں قتل کرنا ہی شریعت کی پیروی ہے۔حربی کافر، مرتداور فاسق جانور (یعنی، چوہا، کوا، بچھو، چیل، کاٹنےوالاکتا) اُنہیں قتل کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔ ‘‘ ( )مُوذِی جانورماردیناثواب ہے:مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ترکلیجے والے سے مراد ہر جاندار ہے مگر اِس سے مُوذی جانورمستثنیٰ ہیں ۔ لہٰذا سانپ، بچھو، شیروغیرہ کو ماردینا ثواب ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (1) ایک یہ کہ (کبھی) گناہ کبیرہ بغیر توبہ (بھی) معاف ہوسکتے ہیں ۔ (2) دوسرے یہ کہ کبھی معمولی نیکی بڑے سے بڑے گناہوں کے بخشے جانے کا سبب بن جاتی ہے۔ (3) تیسرے یہ کہ بعض صُوفیاء اپنے ہاں انسانوں کے لنگر کے ساتھ جانوروں کے دانے پانی کا بھی انتظام کرتے ہیں ، اُن کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ ‘‘ ( )¥مدنی گلدستہ
’’ غوث پاک ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)مخلوق پر رحم کرنےکی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّگناہوں کو بخش دیتاہے۔
(2) ہر جاندار سےبھلائی کرنےپرثواب ہے۔
(3) رحمتِ خدا وندی کی برکت سے بڑے بڑے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
(4) بسا اوقات کوئی چھوٹی سی نیکی بھی بڑےگناہوں کو بخشوادیتی ہے۔
(5) ہرانسان سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
(6) رضا ئے الٰہی کے لیے جو بھی نیک کام کیا جائے وہ کبھی رائیگا ں نہیں جاتا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں اپنےمسلمان بھائیوں پرخوب شفقت کرنے اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی توفیق رفیق مرحمت فرمائے، نیز ہمیں جانوروں پر بھی رحم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 126