Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 126

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:بَیْنَمَارَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیۡقٍ اِشْتَدَّ عَلَیْہِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًافَنَزَلَ فِیْہَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَاِذَا کَلۡبٌ یَلْہَثُ یَاْکُلُ الثَّرٰی مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ ہٰذَاالۡکَلۡبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِیْ کَانَ قَدْ بَلَغَ مِنِّیْ، فَنَزَلَ البِئْرَ فَمَلَاَخُفَّہُ مَاءً ثُمَّ اَمْسَکَہُ بِفِیْہِ، حَتّٰی رَقِیَ فَسَقَی الْکَلْبَ، فَشَکرََ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!وَاِنَّ لَنَا فِیْ الْبَہَائِمِ اَجْرًا ؟ فَقَالَ:فِیْ کُلِّ کَبِدٍرَطْبَۃٍ اَجْرٌ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِلْبُخَارِیِّ: فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ ، فَاَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَا:بَیْنَمَاکَلْبٌ یُطِیْفُ بِرَکِیَّۃٍ قَدْ کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطَشُ اِذاَ رَاتْہُ بَغِیٌّ مِنْ بَغَایَا بَنِیْ اِسرَائِیْلَ فَنَزَعَتْ مُوْقَہَا فَاسْتَقَتْ لَہُ بِہِ فَسَقَتْہُ فَغُفِرَ لَھَا بِہِ. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:بینمارجل یمشی بطریق اشتد علیہ العطش، فوجد بئرافنزل فیہا فشرب ثم خرج، فاذا کلب یلہث یاکل الثری من العطش، فقال الرجل: لقد بلغ ہذاالکلب من العطش مثل الذی کان قد بلغ منی، فنزل البئر فملاخفہ ماء ثم امسکہ بفیہ، حتی رقی فسقی الکلب، فشکر اللہ لہ فغفر لہ، قالوا: یا رسول اللہ!وان لنا فی البہائم اجرا ؟ فقال:فی کل کبدرطبۃ اجر. ( ) وفی روایۃ للبخاری: فشکر اللہ لہ فغفر لہ ، فادخلہ الجنۃ. ( ) وفی روایۃ لہما:بینماکلب یطیف برکیۃ قد کاد یقتلہ العطش اذا راتہ بغی من بغایا بنی اسرائیل فنزعت موقہا فاستقت لہ بہ فسقتہ فغفر لھا بہ. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ایک دفعہ ایک آدمی کہیں جارہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگی، اسے ایک کنواں ملا ، ا سں نے کنویں میں اترکر پانی پیا ، جب باہر آیا تو ایک کتا پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکالے کھڑا تھا اور کیچڑ چاٹ رہاتھا ۔اس شخص نے کہا:اس کتے کو بھی اُسی طرح پیاس لگی ہے جس طرح مجھے لگی تھی۔ پس وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھرا، پھر اسےمنہ میں پکڑ کر کنویں سے باہر آگیا اور کتےکو پانی پلایا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے عمل کا اسے صلہ دیا اور اسے بخش دیا۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا جانوروں (کے ساتھ اچھا سلوک کرنے) میں بھی ہمارے ‏لیے اجر ہے؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ ہرترجگرمیں اجر ہے۔ ‘‘ اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہےکہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے ثواب دیا اور اس کی مغفرت فرماکر جنت میں داخل کردیا۔ ‘‘ بخاری ومسلم کی ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ ’’ ایک کتا کنویں کے گرد چکر لگارہا تھا، قریب تھا کہ پیاس کی شدت اسے ہلاک کردیتی اسی اثنامیں بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نےاسے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اُتارااوراس سے پانی کھینچ کراس کتے کو پلادیا پس اسی وجہ سے اس کی مغفرت کردی گئی۔ ‘‘

شرح حدیث

مخلوق پررحم کرو:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں تمام مخلوق، مؤمن، کافر، جانور وں اورپرندوں پر رحم و نرمی کرنے پر ابھارا گیا ہےاوریہ اُن اَعمال میں سے ہے جن کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کے گناہوں کو معاف کرتااورخطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔ پس ہر عقل مند مسلمان کو چاہیے کہ وہ انسانوں اور تمام حیوانات کے ساتھ رحم دلی ونرمی سے پیش آئے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے کوئی چیز بے کار نہیں بنائی اورہرشخص سے اس کی ملکیت اور رَعِیَّت (ماتحتوں ) کے بارے میں پوچھا جائے گا خواہ وہ انسان ہویاجانور، اگرچہ اپنا نہ ہو کیونکہ وہ اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جس کتے کو اس شخص نے جنگل میں پانی پلایا تھا وہ اس کا اپنا نہیں تھا مگراللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کی مغفرت فرمادی۔ ‘‘ ( )
¥
ہرترجگر سے کیا مراد ہے؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ہر جاندارکے ساتھ بھلائی کرنے پرثواب ہے خواہ پانی پلا کر ہو یا کسی اور طرح ۔حدیث میں زندہ جانور کو تر جگر والا کہا گیا ہے کیونکہ مردار کا جسم اور جگر خشک ہوجاتا ہے۔ پس اس حدیث میں ہر اس جانور کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر اُبھارا گیا ہے جسے مارنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ہاں !جن کے قتل کا حکم دیا گیا ہے انہیں قتل کرنا ہی شریعت کی پیروی ہے۔حربی کافر، مرتداور فاسق جانور (یعنی، چوہا، کوا، بچھو، چیل، کاٹنےوالاکتا) اُنہیں قتل کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔ ‘‘ ( )مُوذِی جانورماردیناثواب ہے:مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ترکلیجے والے سے مراد ہر جاندار ہے مگر اِس سے مُوذی جانورمستثنیٰ ہیں ۔ لہٰذا سانپ، بچھو، شیروغیرہ کو ماردینا ثواب ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (1) ایک یہ کہ (کبھی) گناہ کبیرہ بغیر توبہ (بھی) معاف ہوسکتے ہیں ۔ (2) دوسرے یہ کہ کبھی معمولی نیکی بڑے سے بڑے گناہوں کے بخشے جانے کا سبب بن جاتی ہے۔ (3) تیسرے یہ کہ بعض صُوفیاء اپنے ہاں انسانوں کے لنگر کے ساتھ جانوروں کے دانے پانی کا بھی انتظام کرتے ہیں ، اُن کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ ‘‘ ( )¥مدنی گلدستہ
’’ غوث پاک ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
مخلوق پر رحم کرنےکی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّگناہوں کو بخش دیتاہے۔
(2) ہر جاندار سےبھلائی کرنےپرثواب ہے۔
(3) رحمتِ خدا وندی کی برکت سے بڑے بڑے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
(4) بسا اوقات کوئی چھوٹی سی نیکی بھی بڑےگناہوں کو بخشوادیتی ہے۔
(5) ہرانسان سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
(6) رضا ئے الٰہی کے ‏لیے جو بھی نیک کام کیا جائے وہ کبھی رائیگا ں نہیں جاتا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں اپنےمسلمان بھائیوں پرخوب شفقت کرنے اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی توفیق رفیق مرحمت فرمائے، نیز ہمیں جانوروں پر بھی رحم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 126