- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 2
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذرجُندب بن جُناد ہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں ، میں نے عرض کیا: ’’یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!اَعما ل میں سے کو نسا عمل افضل ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّپر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ کونسا غلام (آزاد کرنا ) بہتر ہے ؟ ‘‘ فرمایا:
’’ جو اپنے مالک کے نزدیک سب سےعُمدہ اور سب سے زیادہ قیمتی ہو۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ اگر میں اس طرح نہ کر سکوں تو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ کسی شخص کے کام میں اس کی مددکرویا کسی بے ہنر وصحیح طرح کام نہ کر سکنے والے شخص کے لیے کام کرو ۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کا کیاخیال ہے اگر میں اُن میں سے بعض کام نہ کرسکوں تو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ لوگوں کواپنے شر سے محفوظ رکھویہ بھی تمہاری طرف سے تمہاری اپنی ذات پرصد قہ ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!اَیُّ الاَعْمَالِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: اَلاِْیْمَانُ بِاللّٰہِ وَالْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِہِ.قَالَ: قُلْتُ: اَیُّ الرِّقَابِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: اَنْفَسُہَا عِنْدَ اَہْلِہَا وَاَکْثَرُہَا ثَمَنًا. قَالَ: قُلْتُ: فَاِنْ لَمْ اَفْعَلْ؟ قَالَ:تُعِیْنُ صَانِعًا اَوْتَصْنَعُ لِاَخْرَقَ. قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَ یْتَ اِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: تَکُفُّ شَرَّکَ عَنِ النَّاسِ فَاِنَّہَا صَدَقَۃٌ مِنْکَ عَلَی نَفْسِکَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 117 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےہی مروی ہے کہ رسول ِاکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ تم میں سے جو شخص صُبح کرتا ہے اس کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔ تو ہرسُبْحَانَ اللہصدقہ ہے اور ہراَلْحَمْدُ لِلّٰہِصدقہ ہے اورہرلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُصدقہ ہے اور ہر تکبیراَللہُ اَکبَرصدقہ ہے اور نیکی کاحکم دینا اور برائی سے منع کرنابھی صدقہ ہےاوران سب کی طرف سے چاشت کی دو۲رکعتیں کفایت کرتی ہیں ۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّاَیْضًارَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یُصْبِحُ عَلَی کُلِّ سُلَامَی مِنْ اَحَدِکُمْ صَدَقَۃٌ، فَکُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَکْبِیْرۃٍصَدَقَۃٌ، وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ، وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ، وَیُجْزِءُ مِنْ ذَلِکَ رَکْعَتَانِ یَرْکَعُہُمَا مِنَ الضُّحَی. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 118 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابوذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ میری اُمَّت کے اچھے اوربُرے اعمال مجھ پر پیش کیے گئےتو میں نےان کے اچھےاعمال میں راستےسے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا بھی پایااوران کے بُرے اعمال میں سےاس تھوک کوبھی پایا جو مسجد میں ہواور اسے دُور نہ کیاگیا ہو۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّقَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَالَ: عُرِضَتْ عَلَیَّ اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُہَا وَسَیِّئُہَا، فَوَجَدْتُ فِیْ مَحَاسِنِ اَعْمَالِہَا الْاَذَی یُمَاطُ عَنِ الطَّرِیْق، وَوَجَدْتُ فِیْ مَسَاوِیءِ اَعْمَالِہَا النُّخَاعَۃَ تَکُوْنُ فِیْ الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 119 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابوذررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ لوگوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:
’’یا رسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ثواب تو سارا مالدار لے گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں ، ہماری ہی طرح روزہ رکھتے ہیں اوراپنے زائدمال سے صدقہ بھی کرتے ہیں ۔ ‘‘ (جبکہ ہمارے پاس مال نہیں جس سے ہم صدقہ کریں ) ارشادفرمایا: ’’ کیااللہعَزَّ وَجَلَّنے تمہارے لیے وہ چیز نہیں بنائی جس کے ذریعے تم صدقہ کرو! (سنو!) بے شک!ہر تسبیح (سُبْحَانَ اللہکہنا) صدقہ ہےاور ہرتکبیر (اَللہُ اَکْبَرکہنا) صدقہ ہے، ہرتحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہکہنا) صدقہ ہے اور ہرتہلیل (لَااِلٰہَ اِلَّا اللہکہنا) صدقہ ہے ، نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہےاوراپنی زوجہ سےصحبت کرنابھی صدقہ ہے۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: ’’یا رسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے کوئی اپنی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے تو کیا اس پر بھی اس کے لیے اجر ہے؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ تمہاراکیا خیال ہے اگر وہ حرام جگہ اپنی خواہش پوری کرتا تو اسےگناہ نہ ملتا؟ اسی طرح جب وہ حلال جگہ اپنی خواہش پوری کرےگاتو اسے اس پر اَجر ملےگا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ: اَنَّ نَاسًا قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!ذَہَبَ اَہْلُ الدُّثُوْرِ بِالاُجُوْرِ، یُصَلُّوْنَ کَمَانُصَلِّیْ، وَیَصُوْمُوْنَ کَمَانَصُوْمُ، وَیَتَصَدَّقُوْنَ بِفُضُوْلِ اَمْوَالِہِم، قَالَ: اَوَلَیْسَ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مَا تَصَدَّقُوْنَ بِہ؟ اِنَّ بِکُلِّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃً، وَکُلِّ تَکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃً، وَکُلِّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃً، وَکُلِّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃً، وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف ِصَدَقَۃٌ، وَنَہْیٌ عَنْ مُنْکَرٍ صَدَقَۃٌ، وَفِیْ بُضْعِ اَحَدِکُمْ صَدَ قَۃٌ.قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیَاتِیْ اَحَدُنَاشَہْوَتَہُ وَیَکُوْنُ لَہُ فِیْہَا اَجْرٌ ؟ قَالَ:اَرَاَیْتُمْ لَوْ وَضَعَہَا فِیْ حَرَامٍ اَ کَانَ عَلَیْہِ فِیْہَا وِزْرٌ ؟ فَکَذٰلِکَ اِذَا وَضَعَہَا فِی الْحَلَالِ کَانَ لَہُ اَجْرٌ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 120 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابو ذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:”تم کسی نیکی کو حقیر نہ جانو اگر چہ وہ تمہارا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنا ہی ہو ۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوۡفِ شَیْئًاوَلَوْ اَنْ تَلْقَی اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلِیْقٍ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 121 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ انسان کے ہرجوڑ کے عوض ہر دن جس میں سورج چمکے اس پر صدقہ ہے، دو شخصوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا صدقہ ہے، کسی کو اس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد کرنا یا اس کا سامان اٹھا کرسواری پررکھ دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کے لیے جانے والا ہر قدم صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔ ‘‘
امام مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس حدیث پاک کواُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی روایت سے بھی بیان کیا ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ بنی آدم کو تین سو ساٹھ360 ہڈیوں پر بنایا گیا۔پس جس نےاللہ اکبرکہا ، یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد بیان کی ، یالَااِلٰہَ اِلَّا اللہکہا، یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی پاکی بیان کی، یااِسْتِغْفَارپڑھا، یا راستے سے پتھر ہٹایا، یاکسی کانٹے یا ہڈی کو راستے سے ہٹایا، یا نیکی کی دعوت دی یا بُرائی سے منع کیااور یہ تعدادتین سو ساٹھ تک پہنچ گئی تو اس دن ایسا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیا۔ ‘‘
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيۡهِ الشَّمْسُ، تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيۡنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَامَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ خَطْوَةٍ تَمْشِيۡهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيۡطُ الْاَذَى عَنِ الطَّرِيۡقِ صَدَقَةٌ. ( )
رَوَاہُ مُسْلِمٌ اَیْضًامِنْ رِوَایَۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ اِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّيۡنَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْشَوْكَةً اَوْ عَظْمًاعَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْاَمَرَ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ السِّتِّيۡنَ وَالثَّلَاثِ مِائَةٍ ، فَاِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 122 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی اکرمنورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ ’’ جو شخص صبح یا شام کے وقت مسجد گیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّجنت میں اس کے لیے ہر صبح وشام مہمانی تیار فرمائےگا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ اَوْ رَاحَ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُ فِیْ الْجَنَّۃِ نُزُلًا کُلَّمَا غَدَا اَوْ رَاحَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 123 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبمُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْبصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ اے مسلمان عورتو!کوئی عورت اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ جانے ، اگرچہ وہ بکری کا کُھر ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘
علّامہ جوہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےفرمایا: ’’فِرْسِناُونٹ کے کُھرکوکہتے ہیں جیسےحَافِردوسرے جانوروں کے کھُر کو کہا جاتا ہے ۔البتہ بسا اوقات بطورِ استعارہ بکری کے کُھر کوبھیفِرسِنکہا جاتا ہے ۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ!لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِہَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ. ( )
قَالَ الْجَوْھَرِیُّ:اَلْفِرْسِنُ مِنَ الْبَعِیْرِ:کَا الْحَافِرِ مِنَ الدَّابَّۃِ، قَالَ:وَرُبَّمَا اُسْتُعِیْرَ فِیْ الشَّاۃِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 124 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبّی کریمرؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ ایمان کی ستّرسے کچھ زائد شاخیں ہیں یا ایمان کی ساٹھ سے کچھ زائد شاخیں ہیں ، اوراُن میں سب سے افضل ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ‘‘ کہنا ہے اور ان میں سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز دُور کرنا ہے۔اور حیا (بھی) اِیمان کی ایک شاخ ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ اَوْبِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً، فَاَفْضَلُہَا قَوْلُ لَا اِلَہَ اِلَّااللّٰہُ، وَاَدْنَاہَااِمَاطَۃُالْاَذَی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَالْحَیَاءُشُعْبَۃٌمِنَ الْاِیْمَانِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 125 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ایک دفعہ ایک آدمی کہیں جارہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگی، اسے ایک کنواں ملا ، ا سں نے کنویں میں اترکر پانی پیا ، جب باہر آیا تو ایک کتا پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکالے کھڑا تھا اور کیچڑ چاٹ رہاتھا ۔اس شخص نے کہا:اس کتے کو بھی اُسی طرح پیاس لگی ہے جس طرح مجھے لگی تھی۔ پس وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھرا، پھر اسےمنہ میں پکڑ کر کنویں سے باہر آگیا اور کتےکو پانی پلایا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے عمل کا اسے صلہ دیا اور اسے بخش دیا۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا جانوروں (کے ساتھ اچھا سلوک کرنے) میں بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ ہرترجگرمیں اجر ہے۔ ‘‘ اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہےکہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے ثواب دیا اور اس کی مغفرت فرماکر جنت میں داخل کردیا۔ ‘‘ بخاری ومسلم کی ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ ’’ ایک کتا کنویں کے گرد چکر لگارہا تھا، قریب تھا کہ پیاس کی شدت اسے ہلاک کردیتی اسی اثنامیں بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نےاسے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اُتارااوراس سے پانی کھینچ کراس کتے کو پلادیا پس اسی وجہ سے اس کی مغفرت کردی گئی۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:بَیْنَمَارَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیۡقٍ اِشْتَدَّ عَلَیْہِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًافَنَزَلَ فِیْہَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَاِذَا کَلۡبٌ یَلْہَثُ یَاْکُلُ الثَّرٰی مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ ہٰذَاالۡکَلۡبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِیْ کَانَ قَدْ بَلَغَ مِنِّیْ، فَنَزَلَ البِئْرَ فَمَلَاَخُفَّہُ مَاءً ثُمَّ اَمْسَکَہُ بِفِیْہِ، حَتّٰی رَقِیَ فَسَقَی الْکَلْبَ، فَشَکرََ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!وَاِنَّ لَنَا فِیْ الْبَہَائِمِ اَجْرًا ؟ فَقَالَ:فِیْ کُلِّ کَبِدٍرَطْبَۃٍ اَجْرٌ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِلْبُخَارِیِّ: فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ ، فَاَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَا:بَیْنَمَاکَلْبٌ یُطِیْفُ بِرَکِیَّۃٍ قَدْ کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطَشُ اِذاَ رَاتْہُ بَغِیٌّ مِنْ بَغَایَا بَنِیْ اِسرَائِیْلَ فَنَزَعَتْ مُوْقَہَا فَاسْتَقَتْ لَہُ بِہِ فَسَقَتْہُ فَغُفِرَ لَھَا بِہِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 126 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منورہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ بے شک!میں نےایک ایسے آدمی کوجنت میں سیرکرتے دیکھا جس نے اس درخت کو کاٹا تھا جو کہ راستے میں تھا اور مسلمانوں کی تکلیف کاباعث تھا ۔ ‘‘ اورایک روایت میں یوں ہے: ’’ ایک آدمی ایسے راستے سے گزراجس پر ایک خار دار شاخ تھی۔ وہ کہنے لگا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم میں اسے مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔پس (اسی وجہ سے) اسے جنت میں داخل کر دیا گیا۔ ‘‘ بخاری ومسلم کی ایک روایت میں یوں ہے: ’’ ایک آدمی کہیں جا رہا تھا ، راستے میں اسے ایک کانٹےدار شاخ ملی تو اس نے اس شاخ کو راستے سے ہٹا دیا، پساللہ عَزَّ وَجَلَّنےاسے اس کا اجر عطا فرمایا اوراس کی مغفرت فرما دی۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَن النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَقَدْرَاَیْتُ رَجُلًا یَتَقَلَّبُ فِیْ الْجَنَّۃِ فِیْ شَجَرَۃٍ قَطَعَہَا مِنْ ظَہْرِ الطَّرِیْقِ کَانَتْ تُؤْذِی الْمُسْلِمِیْنَ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَۃٍ عَلٰی ظَہْرِطَرِیْقٍ فَقَالَ: وَاللّٰہِ لَاُنَحِّیَنَّ ہَذَا عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ لَا یُؤْذِیْہِمْ فَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَا:بَیْنَمَارَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیْقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِیْقِ، فَاَخَّرَہُ فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 127 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جووضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے آئے اور خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے گناہ بھی اور جو کنکریوں کو چھوئے تو اس نے لغو کام کیا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّاَ فاَحْسَنَ الْوُضُوۡ ءَ، ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃَ، فَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ، غُفِرَ لَہُ مَابَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ وَزِیَادَۃُ ثَلَاثَۃِ اَیَّام، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 128 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ جب کوئی مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اوراپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے كے وہ تمام گناہ جو اس نے آنکھوں سے کیے تھے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں ، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کےوہ تمام گناہ جو کسی (ناجائزچیز ) کو پکڑ نے کے ذریعے کیے تھے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں ، پھرجب وہ اپنے پاؤں دھوتاہےتوپاؤں سےجن گناہوں کی طرف چل کر گیا وہ تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک وصاف ہو جاتا ہے۔‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرۃََ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا تَوَضَّاَالْعَبْدُالْمُسْلِمُ اَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَ مِنْ وَجْہِہِ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ نَظَرَ اِلَیْہَا بِعَیْنِہِ مَعَ الْمَاءِ، اَ وْمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَ مِنْ یَدَیْہِ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ کَانَ بَطَشَتْہَا یَدَاہُ مَعَ الْمَاءِ، اَوْمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَاِذَا غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتْ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ مَشَتْہَارِجْلَاہُ مَعَ الْمَاء ِ اَ وْمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاء ِ حَتّٰی یَخْرُجَ نَقِیًّا مِنَ الذُّنُوْبِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 129 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ پانچ نمازیں اورایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اورایک رمضان دوسرے رمضان تک یہ اپنے درمیان میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے والے ہیں جب تک کبائر سے اجتناب کیا جائے ۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ قَالَ:اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ، وَرَمَضَانُ اِلَی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 130 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ کیامیں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعےاللہ عَزَّ وَجَلَّخطاؤں کومٹاتا اور درجات بلند فرماتا ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: ’’ جی ہاں ! کیوں نہیںیَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ مَشقّت کے وقت کامل وضو کرنا، مساجد کی طرف قدموں کی کثرت کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نمازکا انتظار کرنااور تمہارے لیے یہی رِباط ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلَی مَا یَمْحُواللّٰہُ بِہ ِالْخَطَایَا وَیَرْفَعُ بِہِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوْا:بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!قَالَ:اِسْبَاغُ الْوُضُوْ ءِعَلَی الْمَکَارِہِ، وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلَی الْمَسَاجِدِ، وَاِنْتِظَارُالصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، فَذَ الِکُمُ الرِّبَاطُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 131 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابوموسیٰ اَشعریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسول کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نےدوٹھنڈی نمازیں پڑھیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘
علامہ نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد فجر اورعصر کی نمازہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ مُوسَی الاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ. ( )
(قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) اَلْبَرْدَانِ:اَلَصُّبْحُ وَالْعَصْرُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 132 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناابوموسیٰ اشعریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ جب بندہ بیماری یاسفر میں ہوتاہے تو اُس کے لیے اُسی طرح ثواب لکھا جاتاہے جس طرح تندرستی اور حالت ِ اِقامت میں عمل کرتاتھا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ مُوسَی الاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِذَامَرِضَ الْعَبْدُ اَوْسَافَرَ کُتِبَ لَہُ مِثْلُ مَا کَانَ یَعْمَلُ مُقِیْمًا صَحِیْحًا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 133 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے سرکارِ مکہ مکرمہ سردارِ مدینہ منورہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ ہر نیکی صدقہ ہے۔ ‘‘
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 134 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جوبھی مسلمان کوئی درخت لگائےتواس سے جو کھایا جائے وہ اس کےلیےصدقہ ہے اور جوچوری ہوجائے وہ بھی اس کےلیےصدقہ ہے بلکہ اگر کوئی اس میں نقصان کرے توبھی اس کے لیےصدقہ ہے۔ ‘‘ مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ’’ مسلمان جودرخت لگائے پھر اس سے انسان، چوپائے اور پرندے کھائیں تووہ قیامت تک اس کےلیےصدقہ ہے۔ ‘‘ مسلم ہی کی ایک اور روایت میں ہے: ’’ کوئی مسلمان درخت لگاتاہےاورکاشت کاری کرتاہےتو اس سے انسان، چوپائےیا کوئی اورچیز کھائے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ ‘‘ امام بخاری ومسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَادونوں ہی نے اسےحضرتِ سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْ مُسْلِمٍ یَغْرِسُ غَرْسًااِلَّا کَانَ مَا اُکِلَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃً، وَمَاسُرِقَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃٌ، وَلَا یَرْزَءُہُ اَحَدٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃٌ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:فَلَا یَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا، فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّۃٌ وَلَاطَیْرٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ: لَا یَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا یَزْرَعُ زَرْ عًا، فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّۃٌ وَلَا شَیْء ٌ اِلّا کَانَتْ لَہُ صَدَقَۃً. وَرَوَیَاہُ جَمِیْعًا مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 135 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ قبیلہبَنُوسَلِمَہنے مسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کاارادہ کیا۔رسولِ اکرم شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو یہ خبر پہنچی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسجدکےقریب منتقل ہونےکاارادہ رکھتے ہو؟ ‘‘ عرض کی: ’’ جی ہاں !یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم نے اس بات کا ارادہ کیا ہے۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ بنوسلمہ! تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ بنوسلمہ تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ ‘‘ ایک اورروایت میں ہے: ’’ ہرقدم پرایک نیکی ہے۔ ‘‘ امام مسلم نے اسے روایت کیاہےاورامام بخاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِینےبھی اسی مفہوم کوحضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت کیا ہے۔
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:اَرَادَ بَنُوْ سَلِمَۃَ اَنْ یَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُمْ: اِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِیْ اَنَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ فَقَالُوْا:نَعَمْ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْاَرَدْنَاذَلِکَ.فَقَالَ:بَنِی سَلِمَۃَ!دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ، دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ. وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ بِکُلّ خَطْوَۃٍ دَرَجَۃً. ( ) رَوَاہُ مُسْلِمٌ. وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ اَیْضًا بِمَعْنَاہُ مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 136 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- 1
- 2