Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 118

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ذَرٍّاَیْضًارَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یُصْبِحُ عَلَی کُلِّ سُلَامَی مِنْ اَحَدِکُمْ صَدَقَۃٌ، فَکُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَکْبِیْرۃٍصَدَقَۃٌ، وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ، وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ، وَیُجْزِءُ مِنْ ذَلِکَ رَکْعَتَانِ یَرْکَعُہُمَا مِنَ الضُّحَی. ( )

عن ابی ذرایضارضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: یصبح علی کل سلامی من احدکم صدقۃ، فکل تسبیحۃ صدقۃ، وکل تحمیدۃ صدقۃ، وکل تہلیلۃ صدقۃ، وکل تکبیرۃصدقۃ، وامر بالمعروف صدقۃ، و نہی عن المنکر صدقۃ، ویجزء من ذلک رکعتان یرکعہما من الضحی. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےہی مروی ہے کہ رسول ِاکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ تم میں سے جو شخص صُبح کرتا ہے اس کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔ تو ہرسُبْحَانَ اللہصدقہ ہے اور ہراَلْحَمْدُ لِلّٰہِصدقہ ہے اورہرلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُصدقہ ہے اور ہر تکبیراَللہُ اَکبَرصدقہ ہے اور نیکی کاحکم دینا اور برائی سے منع کرنابھی صدقہ ہےاوران سب کی طرف سے چاشت کی دو۲رکعتیں کفایت کرتی ہیں ۔ ‘‘

شرح حدیث

نیکیاں کمانے کا آسان طریقہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث پاک میں بھی نیکیاں کمانے کا کتنا آسان طریقہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہسُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اَللہُ اَکْبَرکہتے رہیں اور خوب ثواب کماتے رہیں اور چاشت کےوقت کی دو2 رکعتیں اِن تمام اَذکار کے برابر ہیں ۔سُبْحَان اللہ!دین ِاسلام میں نیکیاں کمانا کتنا آسان ہے۔اللہعَزَّ وَجَلَّہمیں نیکیوں سے محبت عطا فرمائے، خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمیننمازِچاشت کی فضیلت:دلیل الفالحین میں ہے :حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرما یا : ’’ تم میں سے جو صبح کرے، اس کے ہرعضو یعنی ہر ہڈی اور جوڑ پرصدقہ ہے۔ ‘‘ جب وہ آفات سے سلامتی کے ساتھ صبح کرے اور ایسی حالت میں ہو کہ اپنے تمام اَفعال و منافع مکمل کر سکے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنےبندے کو آفات و بلیّات سے محفوظ رکھا، اُس کے اِس عظیم اِحسان کا شکر ادا کرنے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ وہ ہر جوڑ کا صدقہ ادا کرے اور اذکارِ مذکورہ بھی ہر جوڑ کاصدقہ ہیں اورچاشت کے وقت کی دو رکعتیں تمام جوڑوں کا صدقہ ہیں ۔ حضرت سَیِّدُنَا بُرَیدہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ”آدمی کے تین سو ساٹھ 360جوڑ ہوتے ہیں ، اسے ہر جو ڑ کا صدقہ ادا کرنالازم ہے۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس کی طاقت کون رکھ سکتا ہے؟ ‘‘ فرمایا : ’’ مسجد میں پڑی ہوئی گندگی دُورکرنا اور راستے سے تکلیف دہ چیزہٹادینابھی صدقہ ہے۔اگر تم اس پر قدرت نہ رکھو توچاشت کی دورکعتیں تمہاری طرف سے کفایت کریں گی۔“ اسی طرحسُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اَللہُ اَکْبَرکہنا بھی صدقہ ہے اوراَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفیعنی اچھی بات کا حکم دینا اورنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَریعنی بُری بات سے منع کرنابھی صدقہ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
عمرے کا ثواب:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی ان سب میں صدقۂ نفلی کا ثواب ہے اور یہ بدن کے جوڑوں کی سلامتی کا شکریہ بھی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی انسان روزانہ تین سو ساٹھ360 نفلی نیکیاں کرے تو محض جوڑوں کا شکریہ ادا کرے گاباقی نعمتیں بہت دور ہیں ۔ یہاں چاشت سے مراد اشراق ہی ہے اس نماز کے بڑے فضائل ہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ نمازِ فجر پڑھ کر مصلّے پر ہی بیٹھا رہے، تلاوت یاذکرِخیرہی کرتارہے، یہ رکعتیں پڑھ کرمسجدسےنکلےاِنْ شَآءَﷲعمرہ کاثواب پائے گا۔ ‘‘ ( )
صدقے سے بلائیں ٹلتی اور رحمتیں اترتی ہیں ، بعض مرتبہ اخلاص سے دیا گیا تھوڑا سا صدقہ بھی بہت بڑی مصیبت سے نجات کا باعث بن جاتا ہے۔ اس ضمن میں ایک ایمان افروز حکایت ملاحظہ فرمائیے۔چنانچہ،
¥
ایک لقمہ صدقہ کی برکت:حضرتِ سیِّدُنا ثابترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہےکہ ایک عورت کھانا کھا رہی تھی آخری لقمہ کھانے کے ‏لیے اس نے جیسے ہی منہ کھولا، سائل نے یوں صدا لگائی: ”مجھے کھانا کھلاؤ۔“چنانچہ اس نے وہ لقمہ سائل کو دے دیا ۔ کچھ عرصے کے بعد اس کے ننھے بچے کوشیر چھین کر لے گیا۔ ابھی شیر تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوااوراس نے شیر کے دونوں جبڑے پھاڑ کر بچہ ا س کے منہ سے نکالااورعورت کو دیتے ہوئے کہا : ’’ لقمے کے بدلے لقمہ۔ ‘‘ ( ) ( یعنی تو نے سائل کو ایک لقمہ کھلایا اس کی بر کت سے تیرا بچہ شیر کا لقمہ بننے سے بچ گیا ۔)
¥
زبانی دلی اور عملی تبلیغ:مرآۃ المناجیحمیں ہے : ’’ اچھی باتوں کا حکم ا ور بُری باتوں سے ممانعت زبانی بھی ہوتی ہے ، دلی بھی اور عملی بھی ۔ عالم کا دینی وعظ زبانی تبلیغ ہے۔ دینی کتاب لکھ جانا قلمی تبلیغ کہ جب تک اس کتاب کا فیض جاری ہے اس کا ثواب باقی اور لوگوں کے سامنے اچھے اَعمال کرنا ، بُرے اَعمال سے بچنا، عملی تبلیغ کہ جتنےلوگ اُسے دیکھ کر نیک بنیں گے اُن سب کا ثواب اسے ملے گا بلکہ روزانہ ملتا رہے گا اور اُس کے جوڑوں کا شکریہ اَدا ہوتا رہے گا۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
’’ صدقہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
صدقہ صرف مال ودولت ہی سےادانہیں کیاجاتا بلکہ دیگراعمالِ صالحہ بھی صدقہ ہیں ۔ جیسےذکر و اذکار، مسلمانوں سے خیر خواہی، مسجد کی صفائی اوراچھی باتوں کا حکم دینا اوربُری بات سے منع کرنا۔
(2) صدقے کے‏لیے بہت سارا مال واسباب ضروری نہیں بلکہ اخلاص سےدیاہوا ایک لقمہ بھی
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں مقبول ہے۔
(3) چاشت کی دورکعتیں جسم کے تمام جوڑوں کی طرف سے صدقہ بن جاتی ہیں ۔
(4) صدقے کی جزاءآخرت کے ساتھ ساتھ دنیامیں بھی دے دی جاتی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کثرت کے ساتھ صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 118