- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 118
باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 118
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّاَیْضًارَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یُصْبِحُ عَلَی کُلِّ سُلَامَی مِنْ اَحَدِکُمْ صَدَقَۃٌ، فَکُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ تَکْبِیْرۃٍصَدَقَۃٌ، وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ، وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ، وَیُجْزِءُ مِنْ ذَلِکَ رَکْعَتَانِ یَرْکَعُہُمَا مِنَ الضُّحَی. ( )
عن ابی ذرایضارضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: یصبح علی کل سلامی من احدکم صدقۃ، فکل تسبیحۃ صدقۃ، وکل تحمیدۃ صدقۃ، وکل تہلیلۃ صدقۃ، وکل تکبیرۃصدقۃ، وامر بالمعروف صدقۃ، و نہی عن المنکر صدقۃ، ویجزء من ذلک رکعتان یرکعہما من الضحی. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےہی مروی ہے کہ رسول ِاکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ تم میں سے جو شخص صُبح کرتا ہے اس کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔ تو ہرسُبْحَانَ اللہصدقہ ہے اور ہراَلْحَمْدُ لِلّٰہِصدقہ ہے اورہرلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُصدقہ ہے اور ہر تکبیراَللہُ اَکبَرصدقہ ہے اور نیکی کاحکم دینا اور برائی سے منع کرنابھی صدقہ ہےاوران سب کی طرف سے چاشت کی دو۲رکعتیں کفایت کرتی ہیں ۔ ‘‘
شرح حدیث
نیکیاں کمانے کا آسان طریقہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث پاک میں بھی نیکیاں کمانے کا کتنا آسان طریقہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہسُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اَللہُ اَکْبَرکہتے رہیں اور خوب ثواب کماتے رہیں اور چاشت کےوقت کی دو2 رکعتیں اِن تمام اَذکار کے برابر ہیں ۔سُبْحَان اللہ!دین ِاسلام میں نیکیاں کمانا کتنا آسان ہے۔اللہعَزَّ وَجَلَّہمیں نیکیوں سے محبت عطا فرمائے، خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمیننمازِچاشت کی فضیلت:دلیل الفالحین میں ہے :حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرما یا : ’’ تم میں سے جو صبح کرے، اس کے ہرعضو یعنی ہر ہڈی اور جوڑ پرصدقہ ہے۔ ‘‘ جب وہ آفات سے سلامتی کے ساتھ صبح کرے اور ایسی حالت میں ہو کہ اپنے تمام اَفعال و منافع مکمل کر سکے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنےبندے کو آفات و بلیّات سے محفوظ رکھا، اُس کے اِس عظیم اِحسان کا شکر ادا کرنے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ وہ ہر جوڑ کا صدقہ ادا کرے اور اذکارِ مذکورہ بھی ہر جوڑ کاصدقہ ہیں اورچاشت کے وقت کی دو رکعتیں تمام جوڑوں کا صدقہ ہیں ۔ حضرت سَیِّدُنَا بُرَیدہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ”آدمی کے تین سو ساٹھ 360جوڑ ہوتے ہیں ، اسے ہر جو ڑ کا صدقہ ادا کرنالازم ہے۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس کی طاقت کون رکھ سکتا ہے؟ ‘‘ فرمایا : ’’ مسجد میں پڑی ہوئی گندگی دُورکرنا اور راستے سے تکلیف دہ چیزہٹادینابھی صدقہ ہے۔اگر تم اس پر قدرت نہ رکھو توچاشت کی دورکعتیں تمہاری طرف سے کفایت کریں گی۔“ اسی طرحسُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اَللہُ اَکْبَرکہنا بھی صدقہ ہے اوراَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفیعنی اچھی بات کا حکم دینا اورنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَریعنی بُری بات سے منع کرنابھی صدقہ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥عمرے کا ثواب:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی ان سب میں صدقۂ نفلی کا ثواب ہے اور یہ بدن کے جوڑوں کی سلامتی کا شکریہ بھی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی انسان روزانہ تین سو ساٹھ360 نفلی نیکیاں کرے تو محض جوڑوں کا شکریہ ادا کرے گاباقی نعمتیں بہت دور ہیں ۔ یہاں چاشت سے مراد اشراق ہی ہے اس نماز کے بڑے فضائل ہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ نمازِ فجر پڑھ کر مصلّے پر ہی بیٹھا رہے، تلاوت یاذکرِخیرہی کرتارہے، یہ رکعتیں پڑھ کرمسجدسےنکلےاِنْ شَآءَﷲعمرہ کاثواب پائے گا۔ ‘‘ ( )
صدقے سے بلائیں ٹلتی اور رحمتیں اترتی ہیں ، بعض مرتبہ اخلاص سے دیا گیا تھوڑا سا صدقہ بھی بہت بڑی مصیبت سے نجات کا باعث بن جاتا ہے۔ اس ضمن میں ایک ایمان افروز حکایت ملاحظہ فرمائیے۔چنانچہ،
¥ایک لقمہ صدقہ کی برکت:حضرتِ سیِّدُنا ثابترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہےکہ ایک عورت کھانا کھا رہی تھی آخری لقمہ کھانے کے لیے اس نے جیسے ہی منہ کھولا، سائل نے یوں صدا لگائی: ”مجھے کھانا کھلاؤ۔“چنانچہ اس نے وہ لقمہ سائل کو دے دیا ۔ کچھ عرصے کے بعد اس کے ننھے بچے کوشیر چھین کر لے گیا۔ ابھی شیر تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوااوراس نے شیر کے دونوں جبڑے پھاڑ کر بچہ ا س کے منہ سے نکالااورعورت کو دیتے ہوئے کہا : ’’ لقمے کے بدلے لقمہ۔ ‘‘ ( ) ( یعنی تو نے سائل کو ایک لقمہ کھلایا اس کی بر کت سے تیرا بچہ شیر کا لقمہ بننے سے بچ گیا ۔)
¥زبانی دلی اور عملی تبلیغ:مرآۃ المناجیحمیں ہے : ’’ اچھی باتوں کا حکم ا ور بُری باتوں سے ممانعت زبانی بھی ہوتی ہے ، دلی بھی اور عملی بھی ۔ عالم کا دینی وعظ زبانی تبلیغ ہے۔ دینی کتاب لکھ جانا قلمی تبلیغ کہ جب تک اس کتاب کا فیض جاری ہے اس کا ثواب باقی اور لوگوں کے سامنے اچھے اَعمال کرنا ، بُرے اَعمال سے بچنا، عملی تبلیغ کہ جتنےلوگ اُسے دیکھ کر نیک بنیں گے اُن سب کا ثواب اسے ملے گا بلکہ روزانہ ملتا رہے گا اور اُس کے جوڑوں کا شکریہ اَدا ہوتا رہے گا۔ ‘‘ ( )
¥مدنی گلدستہ
’’ صدقہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)صدقہ صرف مال ودولت ہی سےادانہیں کیاجاتا بلکہ دیگراعمالِ صالحہ بھی صدقہ ہیں ۔ جیسےذکر و اذکار، مسلمانوں سے خیر خواہی، مسجد کی صفائی اوراچھی باتوں کا حکم دینا اوربُری بات سے منع کرنا۔
(2) صدقے کےلیے بہت سارا مال واسباب ضروری نہیں بلکہ اخلاص سےدیاہوا ایک لقمہ بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں مقبول ہے۔
(3) چاشت کی دورکعتیں جسم کے تمام جوڑوں کی طرف سے صدقہ بن جاتی ہیں ۔
(4) صدقے کی جزاءآخرت کے ساتھ ساتھ دنیامیں بھی دے دی جاتی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کثرت کے ساتھ صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 118