Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 132

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُوسَی الاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ. ( )
(قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) اَلْبَرْدَانِ:اَلَصُّبْحُ وَالْعَصْرُ.

عن ابی موسی الاشعری رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:من صلی البردین دخل الجنۃ. ( )
(قال النووی علیہ رحمۃ اللہ القوی) البردان:الصبح والعصر.

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوموسیٰ اَشعریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسول کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نےدوٹھنڈی نمازیں پڑھیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘
علامہ نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد فجر اورعصر کی نمازہے۔ ‘‘

شرح حدیث

ٹھنڈی نمازوں سےکیامرادہے؟دلیل الفالحین میں ہے: ’’ دو ٹھنڈی نماز وں سےمرادفجروعصر کی نمازیں ہیں ۔ جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں فجر وعصر کے الفاظ موجود ہیں ۔ ‘‘ اما م خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھادِیفرماتے ہیں : ’’ چونکہ یہ دونوں نمازیں دن کے ٹھنڈے اوقات میں پڑھی جاتی ہیں ۔ان اوقات میں ہوا خوشگوار ہوتی ہےاورگرمی کی شدّت ختم ہوجاتی ہےاس ‏لیے ان نمازوں کوٹھنڈی نمازوں سےتعبیرکیا گیا۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ان دونمازوں کو بطور خاص ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فجر کاوقت میٹھی نیند کاوقت ہےاورعصرکا وقت کام کاج وتجارت کے اختتام اور رات کےکھانے کی تیاری کا وقت ہوتا ہے۔ان تمام مشغولیت کے با وجود اس کا نماز ادا کرنا سستی سے دوری اور عبادت سے محبت پر دلیل ہے اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ دوسری نمازیں بھی پابندی سے ادا کرےگا کیونکہ جب وہ اتنی مشغولیت کے باوجود یہ نمازیں ادا کر رہا ہے تو بقیہ نمازوں کی ان سے بھی زیادہ حفاظت کرے گا ۔ ‘‘ ایک قول یہ ہے کہ ’’ دو ٹھنڈی نمازوں سے مرادفجروعشاءکی نمازہے۔ چونکہ عشاء کے وقت بندے پراُونگھ طاری ہوتی ہے، کھانا کھا لینے کی وجہ سے بدن بوجھل ہوجاتا ہےاوراس حالت میں نماز پڑھنا نفس پربہت گراں ہو تاہےلہٰذااس حالت میں نماز پڑھنا بلا عذاب جنت میں داخلے کاسبب ہے۔ ‘‘ ( )دونمازوں کے بطور خاص ذکر کی وجہ:اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مسلمانوں پرپانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔پھران دو نمازوں کو بطورِ خاص ذکر کیوں کیا؟ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ ان دو نمازوں کو خاص طور پر ذکر کرنے کا مقصود ان کی عظمت کو بیان کرنااوران کی محافظت پرترغیب دلاناہےکیونکہ ان نماز وں میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ( )
نزہۃالقاری میں ہے: ’’ (دو ٹھنڈی نمازوں ) سےمرادنمازِ عصر وفجرہےاورمرادپابندی کے ساتھ پڑھنا ہے۔ان دونوں نمازوں کی خصوصیت کی وجہ یہ ہے کہ فجر کا وقت سونے کا اور عصر کے بعد لوگ بازاروں میں خریدوفروخت میں مشغول ہوتے ہیں یا دوسرے کاموں میں۔نیز ملائکہ ان دونوں اوقات میں بدلتے ہیں جو ان نمازوں کاپابند ہوگااس کاآخری عمل جوخداکی بارگاہ میں پیش ہوگاوہ نماز ہوگی ۔علاوہ ازیں حضرت
عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپرموقوف ایک حدیث میں ہے:نمازِصبح کےوقت مُنادِی نِدا دیتاہے: اے بنی آدم!اٹھواوراپنےاوپرجوجَلارہےہوبجھاؤ، اسی طرح نمازعصر کے بعدبھی یہ ندا دیتاہےاس پرجولوگ طہارت کرکے نمازپڑھ لیتے ہیں توجب سوتے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔ ‘‘ ( )
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت
ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
اِمامِِ ’’ حَسَن ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
بندےکےاَعمال صبح وشام بارگاہِ الٰہی میں پیش کیے جاتے ہیں ۔
(2) اپنی مصروفیات کو چھوڑ کر عبادتِ الٰہی بجا لانا رضائے الٰہی اور جنت میں داخلے کاسبب ہے۔
(3) ہر نماز ہی عظمت و شرف والی ہے بالخصوص فجر وعصر کی بہت زیادہ ترغیب و فضیلت ہے ۔
اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہم تیری بارگاہ میں دست بستہ عرض گزار ہیں کہ تو ہمیں اپنے اُن بندوں میں شامل فرمادےجومال ودولت اورنرم وآرام دہ بستر چھوڑکراپنےنفس کو تیری بندگی پر آمادہ کرکےتیری بارگاہ میں حاضرہوتے ہیں ۔ اےپاک پروردگارعَزَّ وَجَلَّ! اپنےمخلص عبادت گزاروں کے صدقےہمیں بھی اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطافرما، ہماری حتمی مغفرت فرما اوربےحساب جنت میں داخلہ نصیب فرما۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 132