Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 119

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ذَرٍّقَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَالَ: عُرِضَتْ عَلَیَّ اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُہَا وَسَیِّئُہَا، فَوَجَدْتُ فِیْ مَحَاسِنِ اَعْمَالِہَا الْاَذَی یُمَاطُ عَنِ الطَّرِیْق، وَوَجَدْتُ فِیْ مَسَاوِیءِ اَعْمَالِہَا النُّخَاعَۃَ تَکُوْنُ فِیْ الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ. ( )

عن ابی ذرقال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: قال: عرضت علی اعمال امتی حسنہا وسیئہا، فوجدت فی محاسن اعمالہا الاذی یماط عن الطریق، ووجدت فی مساویء اعمالہا النخاعۃ تکون فی المسجد لا تدفن. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ میری اُمَّت کے اچھے اوربُرے اعمال مجھ پر پیش کیے گئےتو میں نےان کے اچھےاعمال میں راستےسے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا بھی پایااوران کے بُرے اعمال میں سےاس تھوک کوبھی پایا جو مسجد میں ہواور اسے دُور نہ کیاگیا ہو۔ ‘‘

شرح حدیث

مسلمانوں کی خیر خواہی :دلیل الفالحین میں ہے: ’’ میں نےان کے اچھےاعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو بھی پایا۔ جیسے پتھراور کانٹے وغیرہ ہٹاناتاکہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو۔ اس فرمان ِ عالی سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور ان سے تکالیف دور کرنے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ ‘‘ ابنِ رسلانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ میں نے بعض مشائخ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے سنا کہ جو راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹائے تو اسے چاہیے کہلَااِلٰہَ اَلّااللہُبھی پڑھ لے تاکہ ایمان کا ادنیٰ اور اعلیٰ شعبہ اورقول وفعل جمع ہوجائیں ۔ ‘‘ ( ) (ایما ن کا اعلیٰ شعبہلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُاورادنیٰ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا نا ہےجو کہ فعل اور کلمہ طیبہ قول ہے۔)
شرح مسلم للنووی میں ہے: ’’ اس سےظاہر ہوا کہ اس قباحت اور مذمت میں تھوکنے والے کے ساتھ ہر وہ شخص بھی شامل ہے جواس تھوک کو دیکھے اوردفن یا صاف کرکے زائل نہ کرے۔ ‘‘ ( )
نگاہِ مصطفےٰ کی جولانی :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمِرا ۃُ المَناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی تا قیامت میراجواُمَّتی کوئی بھی اچھا برا عمل کرے گا مجھے سب دکھادیے گئے۔اس سے معلوم ہوا کہ نبیصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنے ہر اُمَّتی اور اس کے ہر عمل سے خبردار ہیں ۔ حضور انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی نگاہیں اندھیرے، اُجیالے کھلی چھپی، موجودو معدوم ہر چیز کو دیکھ لیتی ہیں ۔جس کی آنکھ میںمَازَاغَکاسرمہ ہواس کی نگاہ ہمارے خواب وخیال سے زیادہ تیز ہے۔ہم خواب وخیال میں ہر چیز کو دیکھ لیتے ہیں ۔حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنگاہ سے ہر چیز کا مشاہدہ کرلیتے ہیں ۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہاں اعمال میں دل کے اعمال بھی داخل ہیں لہٰذا حضورعَلَیْہِ السَّلَامہمارے دلوں کی ہر کیفیت سے خبردار ہیں ۔ ‘‘ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔راستے سے مسلمانوں کا راستہ مراد ہے یعنی جس راستے سے مسلمان گزرتے یا گزر سکتے ہوں وہاں سےکانٹا، اینٹ، پتھر دُور کردینا ثواب ہے۔ جانوروں ، جنات، حربی کُفّار کاراستہ مُراد نہیں ۔ اِن کافروں کے راستے میں کانٹے ، بارودبچھانا، اِن کے پل توڑنا، ڈائنامیٹ لگا کر راستے اُڑا دینا سب کچھ عبادت ہے کیونکہ جہاد میں یہ سب کچھ ہوتاہے۔ ‘‘ ( )شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ ہر وہ تکلیف دہ چیز مثلاً کانٹا، شیشہ، ٹھوکر کی چیزیں جس سے چلنے والوں کوایذا پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو راستوں سے ہٹا دینا بہت معمولی کام ہے لیکن یہ عملاللہ تعالٰیکو اِس قدر پسند ہے کہ وہ اس کی جزا میں اپنے فضل و کرم سے جنت عطا فرما دیتا ہے۔آج کل کے مسلمان اس عملِ صالح کی عظمت اوراِس کے اجروثواب سے بالکل ہی غافل ہیں ۔بلکہ اُلٹے راستوں میں تکلیف کی چیزیں ڈال دیاکرتے ہیں ۔ مثلاًعام طورپرلوگ کیلاکھاکراُس کاچھلکاریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرپھینک دیا کرتے ہیں ۔گاڑی آنے پرمسافربدحواس ہوکرٹرین میں چڑھنے کے ‏لیے دوڑتے او ر کیلے کے چھلکوں پرپاؤں پڑجانے سے پھسل کرگرجاتے ہیں اوربعض شدیدزخمی ہوجاتے ہیں ، اسی طرح ہڈیاں اورشیشے کے ٹکڑے عام طورپرلوگ راستوں میں ڈال دیاکرتے ہیں ۔اِن حرکتوں سے مسلمان کو بچنا چاہیے بلکہ راستوں میں کوئی تکلیف دہ چیزپر اگر نظر پڑجائے تو اس کو راستوں سے ہٹا دینا چاہیے۔اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالٰیاگر یہ عمل مقبول ہوگیا تو جنت ملے گی۔واللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ( )تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے سے متعلق3 فرامین مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : (1) ’’ جس نے مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹادی اس کے ‏لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور جس کے ‏لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس ایک نیکی لکھی جائے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس نیکی کے سبب اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ‘‘ ( )(2) حضرتِ سَیِّدُنا ابوبرزہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جو میرے ‏لیے فائدہ مند ہو۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز دور کر دو۔ ‘‘( )(3) حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسْ بن مَالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ راستے میں پڑاہواایک درخت لوگوں کوتکلیف دیتا تھا۔ ایک شخص نے اسے ہٹادیا تو مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالمیانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میں نے اُسے جَنّت میں اُس دَرَخْتْ کے سائے میں لیٹے ہوئے دیکھا ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ احمد ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ہمارے اچھے بُرے اَعمال پیش کیے
جاتے ہیں ، اس ‏لیے ہمیں اَعمال صالحہ کی کثرت اور بر ائیوں سے دُور رہنا چاہیے تاکہ بروزِ قیامت شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
(2) ہروہ کام باعث ِفضیلت ہے جومسلمانوں کے ‏لیے فائدہ مند اوران سے تکلیف دور کرنے والا ہواور اسے کرنا شرعا ًبھی جائز ہو ۔
(3) مسجد میں تھوکنا، ناک صاف کرنا یا کسی بھی طریقے سے گندگی پھیلانا ناجائز وگناہ ہے۔ بلکہ جو مسجد میں ایسی گندگی دیکھے اور باوجود قدرت اسے دُور نہ کرے وہ بھی قابلِ مذمت ہے۔
(4) جہاں موقع ملے نیکیوں کی کثرت کرنی چاہیے کہ نیکیاں جتنی زیادہ ہوں گی آخرت کے حساب وکتاب اور اس کی مختلف منزلوں میں اتنی ہی آسانی ہوگی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی ، نیکیوں کی کثرت اور تمام برائیوں سے دُور رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 119