Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 136

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:اَرَادَ بَنُوْ سَلِمَۃَ اَنْ یَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُمْ: اِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِیْ اَنَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ فَقَالُوْا:نَعَمْ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْاَرَدْنَاذَلِکَ.فَقَالَ:بَنِی سَلِمَۃَ!دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ، دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ. وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ بِکُلّ خَطْوَۃٍ دَرَجَۃً. ( ) رَوَاہُ مُسْلِمٌ. وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ اَیْضًا بِمَعْنَاہُ مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ.

عن جابررضی اللہ عنہ قال:اراد بنو سلمۃ ان ینتقلوا قرب المسجد فبلغ ذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال لہم: انہ قد بلغنی انکم تریدون ان تنتقلوا قرب المسجد؟ فقالوا:نعم! یارسول اللہ! قداردناذلک.فقال:بنی سلمۃ!دیارکم، تکتب ا ثارکم، دیارکم، تکتب ا ثارکم. وفی روایۃ:ان بکل خطوۃ درجۃ. ( ) رواہ مسلم. ورواہ البخاری ایضا بمعناہ من روایۃ انس رضی اللہ عنہ.

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ قبیلہبَنُوسَلِمَہنے مسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کاارادہ کیا۔رسولِ اکرم شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو یہ خبر پہنچی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسجدکےقریب منتقل ہونےکاارادہ رکھتے ہو؟ ‘‘ عرض کی: ’’ جی ہاں !یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم نے اس بات کا ارادہ کیا ہے۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ بنوسلمہ! تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ بنوسلمہ تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ ‘‘ ایک اورروایت میں ہے: ’’ ہرقدم پرایک نیکی ہے۔ ‘‘ امام مسلم نے اسے روایت کیاہےاورامام بخاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِینےبھی اسی مفہوم کوحضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت کیا ہے۔

شرح حدیث

جتنی مشقت زیادہ اتنا ہی ثواب زیادہ:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ مسجد تک جانے میں قدموں کی کثرت ثواب کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔حضرت سَیِّدُنَاابوعبداللہبن لُبابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےپوچھا گیا کہ ’’ ایک شخص اپنی مسجد چھوڑ کربڑی جماعت پانے کے ‏لیے جامع مسجد جاتاہے تواس کا یہ عمل کیسا؟ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ اپنی مسجد کو نہ چھوڑے کیونکہ جامع مسجدمیں نماز پڑھنے کی فضیلت صرف جمعہ کے‏لیے ہے۔ ‘‘
حضرت سَیِّدُنَا اَنَس بن مالک
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں منقول ہے کہ وہ نئی مساجد چھوڑ کر پرانی مساجد کی طرف جاتے تھے۔سَیِّدُنَا امام حسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس بات کو ناپسند فرماتے کہ کوئی اپنی قریبی مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں جائے۔امام قُرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا بھی یہی موقف ہے۔
جس کا گھر مسجد کے قریب ہواوروہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے مسجدجائے حتی کہ اس کے قدم اس شخص کے قدموں کے برابر ہوجائیں جس کا گھرمسجدسے دور ہے۔تو کیا یہ دونوں فضیلت میں برابر ہوں گے؟ امام طَبری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ دونوں فضیلت میں برابر ہیں ۔ ‘‘ اورحضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ’’ میں حضرت سَیِّدُنَا زید بن ثابترَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ مسجد گیا توانہوں نے چھوٹے چھوٹے قدم رکھے اورفرمایا :میں چاہتا ہوں کہ ہمارے قدم مسجد کی طرف زیادہ ہوں ۔ ‘‘
علامہ بدرُالدین عینی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغنیفرماتے ہیں : ’’ میں کہتا ہوں ، اگرچہ یہ حدیث زیادہ قدموں کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے لیکن اس سےفضیلت میں برابری لازم نہیں آتی کیونکہ آسانی سے اُٹھائے جانے والے قدموں کا ثواب ، مشقت سے اُٹھائے جانے والے قدموں کے ثوا ب کے برابر نہیں ہو سکتا ۔اپنیقریبی مسجد کو آباد رکھنا زیادہ اَولیٰ ہےاور جب قریبی مسجد کا امام بدعتی ہو، قرا ءت میں غلطی کرتا ہویاقوم اسے ناپسند کرتی ہوتو قریبی مسجد کو چھوڑ کردُوروالی میں جانا چاہیے ۔ حدیث مذکور میں یہ بھی بیان ہوا کہ جب اَعمال میں اِخلاص ہوتواُس کے اَثرات نیکیوں کے طورپر لکھے جاتے ہیں ۔ جوکثرتِ ثواب کا اِرادا رکھتاہوتواس کے‏لیے مسجد سے دُور سکونت اختیارکرنا بہتر ہے۔ ‘‘ ( )مسجد کی طرف کثرت سے جانا:عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ بنو سَلِمہ انصار کا ایک قبیلہ تھا۔ان کے گھر مسجد سےدورتھے۔یہ رات کے اندھیرے میں ، بارش کے وقت اور سخت سردی میں بھی باجماعت نماز کی کوشش فرماتے۔انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہوجانے کا ارادہ کیا تو سرکارِمدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اس بات کو ناپسند فرمایاتاکہ مدینہ کےاردگرد کی جگہ خالی نہ ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک ہرقدم پر جو اجر ہے اس کی آپ نے انہیں رَغبت دلائی، یعنی قدموں کی کثرت ثواب میں زیادتی کا سبب ہے۔یا یہ مراد ہےکہ تمہاراعبادت میں کوشش کرنا کتابوں میں لکھا جائے گا اور لوگوں کے ‏لیےباعثِ ترغیب وتحریص ہوگا۔ ‘‘ ( )تفہیم البخاری میں ہے: ’’ سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو خبر ملی کہ مسجد نبوی کے ارد گرد جگہ خالی ہوگئی ہےاور بنوسلمہ اپنے مکان چھوڑکر مسجد کے قریب منتقل ہوناچاہتے ہیں توآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا :مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا:جی ہاں ،یارسولَ اللہ! (صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم) ہمارایہی ارادہ ہے۔فرمایا:اے بنی سلمہ!دِیَارَکُمْ تُکْتَبُ اٰثَارُکُم،تین باریہ فرمایا۔ یعنی اپنےگھروں ہی میں رہوتمہارے قدموں کاثواب لکھا جائے گا۔اس پر وہ لوگ اپنے گھر میں ٹھہرگئے۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ دُور سے چل کر مسجد میں آکر نماز پڑھنے میں ہرقدم پر ثواب ملتا ہےاوریہ کہ مسجد کے قریب مکان بنانا اچھا ہے کیونکہ سید عالَمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے بنو سلمہ کو منع نہیں فرمایا تھاصرف زیادہ ثواب کی ترغیب دلائی تھی اوریہ پسند نہ فرمایا کہ مدینہ منورہ کا ایک حصہ خالی ہوجائے۔ ‘‘ ( )گھر مسجدسے دور :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ (حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:تم اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔یعنی) تمہارے نامۂ اعمال میں ثواب کے ‏لیے۔ کیونکہ مسجد کی طرف ہرقدم عبادت ہےیاتمہاری اس مشقت کا تذکرہ حدیث کی کتب میں اور علماء کی تصانیف میں لکھا جائے گا۔ واعظین اس پر وعظ کریں گے جو تمہارے واقعے سن کر دُور سے مسجدمیں آیا کریں گے، ان سب کا ثواب تمہیں ملا کرے گا۔خیال رہے کہ گھر کا مسجدسے دُور ہونا متقی کے‏لیے باعثِ ثواب ہے کہ وہ دُور سے جماعت کےلیے آئے گا۔ مگر غافلوں کے ‏لیے ثواب سے محرومی کہ وہ دوری کی وجہ سے گھر میں ہی پڑھ لیا کریں گے۔ لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ منحوس وہ گھر ہےجس میں اذان کی آواز نہ آئے یعنی غافلوں کے لیے دُوریٔ گھرنحوست ہے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
دُورکی مسجد میں جانے سے اگرقریبی مسجدخالی ہوتی ہوتوقریبی مسجد کو آباد کرناضروری ہے۔
(2) اسلامی سرحدوں کی حفاظت کےلیےمسلمانوں کوسرحد کےقریب اپنے مکانات بنانے چاہییں تاکہ کفارکی نقل وحرکت پرنظررکھی جاسکے۔
(3) رات کےاندھیرے، سخت سردی اورشدیدبارش کے وقت بھی مسجدمیں آکرنمازپڑھنا نیک لوگوں کا طریقہ ہے۔
(4) بزرگوں کے نیک اَعمال کتابوں میں اس نیت سےلکھناتاکہ بعدمیں آنےوالےاُس پرعمل کریں کارِ ثواب ہے۔
(5) نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کےلیےاپنامحلہ چھوڑنا باعث سعادت ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مساجد کو عبادات کے ذریعے آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 136