- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 136
باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 136
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:اَرَادَ بَنُوْ سَلِمَۃَ اَنْ یَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُمْ: اِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِیْ اَنَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ فَقَالُوْا:نَعَمْ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْاَرَدْنَاذَلِکَ.فَقَالَ:بَنِی سَلِمَۃَ!دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ، دِیَارَکُمْ، تُکْتَبْ اٰ ثَارُکُمْ. وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ بِکُلّ خَطْوَۃٍ دَرَجَۃً. ( ) رَوَاہُ مُسْلِمٌ. وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ اَیْضًا بِمَعْنَاہُ مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ.
عن جابررضی اللہ عنہ قال:اراد بنو سلمۃ ان ینتقلوا قرب المسجد فبلغ ذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال لہم: انہ قد بلغنی انکم تریدون ان تنتقلوا قرب المسجد؟ فقالوا:نعم! یارسول اللہ! قداردناذلک.فقال:بنی سلمۃ!دیارکم، تکتب ا ثارکم، دیارکم، تکتب ا ثارکم. وفی روایۃ:ان بکل خطوۃ درجۃ. ( ) رواہ مسلم. ورواہ البخاری ایضا بمعناہ من روایۃ انس رضی اللہ عنہ.
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ قبیلہبَنُوسَلِمَہنے مسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کاارادہ کیا۔رسولِ اکرم شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو یہ خبر پہنچی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسجدکےقریب منتقل ہونےکاارادہ رکھتے ہو؟ ‘‘ عرض کی: ’’ جی ہاں !یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم نے اس بات کا ارادہ کیا ہے۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ بنوسلمہ! تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ بنوسلمہ تم اپنے گھروں میں رہو!تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔ ‘‘ ایک اورروایت میں ہے: ’’ ہرقدم پرایک نیکی ہے۔ ‘‘ امام مسلم نے اسے روایت کیاہےاورامام بخاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِینےبھی اسی مفہوم کوحضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت کیا ہے۔
شرح حدیث
جتنی مشقت زیادہ اتنا ہی ثواب زیادہ:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ مسجد تک جانے میں قدموں کی کثرت ثواب کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔حضرت سَیِّدُنَاابوعبداللہبن لُبابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےپوچھا گیا کہ ’’ ایک شخص اپنی مسجد چھوڑ کربڑی جماعت پانے کے لیے جامع مسجد جاتاہے تواس کا یہ عمل کیسا؟ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ اپنی مسجد کو نہ چھوڑے کیونکہ جامع مسجدمیں نماز پڑھنے کی فضیلت صرف جمعہ کےلیے ہے۔ ‘‘
حضرت سَیِّدُنَا اَنَس بن مالکرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں منقول ہے کہ وہ نئی مساجد چھوڑ کر پرانی مساجد کی طرف جاتے تھے۔سَیِّدُنَا امام حسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس بات کو ناپسند فرماتے کہ کوئی اپنی قریبی مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں جائے۔امام قُرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا بھی یہی موقف ہے۔
جس کا گھر مسجد کے قریب ہواوروہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے مسجدجائے حتی کہ اس کے قدم اس شخص کے قدموں کے برابر ہوجائیں جس کا گھرمسجدسے دور ہے۔تو کیا یہ دونوں فضیلت میں برابر ہوں گے؟ امام طَبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ دونوں فضیلت میں برابر ہیں ۔ ‘‘ اورحضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ’’ میں حضرت سَیِّدُنَا زید بن ثابترَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ مسجد گیا توانہوں نے چھوٹے چھوٹے قدم رکھے اورفرمایا :میں چاہتا ہوں کہ ہمارے قدم مسجد کی طرف زیادہ ہوں ۔ ‘‘
علامہ بدرُالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغنیفرماتے ہیں : ’’ میں کہتا ہوں ، اگرچہ یہ حدیث زیادہ قدموں کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے لیکن اس سےفضیلت میں برابری لازم نہیں آتی کیونکہ آسانی سے اُٹھائے جانے والے قدموں کا ثواب ، مشقت سے اُٹھائے جانے والے قدموں کے ثوا ب کے برابر نہیں ہو سکتا ۔اپنیقریبی مسجد کو آباد رکھنا زیادہ اَولیٰ ہےاور جب قریبی مسجد کا امام بدعتی ہو، قرا ءت میں غلطی کرتا ہویاقوم اسے ناپسند کرتی ہوتو قریبی مسجد کو چھوڑ کردُوروالی میں جانا چاہیے ۔ حدیث مذکور میں یہ بھی بیان ہوا کہ جب اَعمال میں اِخلاص ہوتواُس کے اَثرات نیکیوں کے طورپر لکھے جاتے ہیں ۔ جوکثرتِ ثواب کا اِرادا رکھتاہوتواس کےلیے مسجد سے دُور سکونت اختیارکرنا بہتر ہے۔ ‘‘ ( )مسجد کی طرف کثرت سے جانا:عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ بنو سَلِمہ انصار کا ایک قبیلہ تھا۔ان کے گھر مسجد سےدورتھے۔یہ رات کے اندھیرے میں ، بارش کے وقت اور سخت سردی میں بھی باجماعت نماز کی کوشش فرماتے۔انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہوجانے کا ارادہ کیا تو سرکارِمدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اس بات کو ناپسند فرمایاتاکہ مدینہ کےاردگرد کی جگہ خالی نہ ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک ہرقدم پر جو اجر ہے اس کی آپ نے انہیں رَغبت دلائی، یعنی قدموں کی کثرت ثواب میں زیادتی کا سبب ہے۔یا یہ مراد ہےکہ تمہاراعبادت میں کوشش کرنا کتابوں میں لکھا جائے گا اور لوگوں کے لیےباعثِ ترغیب وتحریص ہوگا۔ ‘‘ ( )تفہیم البخاری میں ہے: ’’ سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو خبر ملی کہ مسجد نبوی کے ارد گرد جگہ خالی ہوگئی ہےاور بنوسلمہ اپنے مکان چھوڑکر مسجد کے قریب منتقل ہوناچاہتے ہیں توآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا :مجھے خبر ملی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا:جی ہاں ،یارسولَ اللہ! (صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم) ہمارایہی ارادہ ہے۔فرمایا:اے بنی سلمہ!دِیَارَکُمْ تُکْتَبُ اٰثَارُکُم،تین باریہ فرمایا۔ یعنی اپنےگھروں ہی میں رہوتمہارے قدموں کاثواب لکھا جائے گا۔اس پر وہ لوگ اپنے گھر میں ٹھہرگئے۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ دُور سے چل کر مسجد میں آکر نماز پڑھنے میں ہرقدم پر ثواب ملتا ہےاوریہ کہ مسجد کے قریب مکان بنانا اچھا ہے کیونکہ سید عالَمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے بنو سلمہ کو منع نہیں فرمایا تھاصرف زیادہ ثواب کی ترغیب دلائی تھی اوریہ پسند نہ فرمایا کہ مدینہ منورہ کا ایک حصہ خالی ہوجائے۔ ‘‘ ( )گھر مسجدسے دور :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ (حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:تم اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں ۔یعنی) تمہارے نامۂ اعمال میں ثواب کے لیے۔ کیونکہ مسجد کی طرف ہرقدم عبادت ہےیاتمہاری اس مشقت کا تذکرہ حدیث کی کتب میں اور علماء کی تصانیف میں لکھا جائے گا۔ واعظین اس پر وعظ کریں گے جو تمہارے واقعے سن کر دُور سے مسجدمیں آیا کریں گے، ان سب کا ثواب تمہیں ملا کرے گا۔خیال رہے کہ گھر کا مسجدسے دُور ہونا متقی کےلیے باعثِ ثواب ہے کہ وہ دُور سے جماعت کےلیے آئے گا۔ مگر غافلوں کے لیے ثواب سے محرومی کہ وہ دوری کی وجہ سے گھر میں ہی پڑھ لیا کریں گے۔ لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ منحوس وہ گھر ہےجس میں اذان کی آواز نہ آئے یعنی غافلوں کے لیے دُوریٔ گھرنحوست ہے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)دُورکی مسجد میں جانے سے اگرقریبی مسجدخالی ہوتی ہوتوقریبی مسجد کو آباد کرناضروری ہے۔
(2) اسلامی سرحدوں کی حفاظت کےلیےمسلمانوں کوسرحد کےقریب اپنے مکانات بنانے چاہییں تاکہ کفارکی نقل وحرکت پرنظررکھی جاسکے۔
(3) رات کےاندھیرے، سخت سردی اورشدیدبارش کے وقت بھی مسجدمیں آکرنمازپڑھنا نیک لوگوں کا طریقہ ہے۔
(4) بزرگوں کے نیک اَعمال کتابوں میں اس نیت سےلکھناتاکہ بعدمیں آنےوالےاُس پرعمل کریں کارِ ثواب ہے۔
(5) نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کےلیےاپنامحلہ چھوڑنا باعث سعادت ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مساجد کو عبادات کے ذریعے آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 136