Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 120

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ: اَنَّ نَاسًا قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!ذَہَبَ اَہْلُ الدُّثُوْرِ بِالاُجُوْرِ، یُصَلُّوْنَ کَمَانُصَلِّیْ، وَیَصُوْمُوْنَ کَمَانَصُوْمُ، وَیَتَصَدَّقُوْنَ بِفُضُوْلِ اَمْوَالِہِم، قَالَ: اَوَلَیْسَ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مَا تَصَدَّقُوْنَ بِہ؟ اِنَّ بِکُلِّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃً، وَکُلِّ تَکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃً، وَکُلِّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃً، وَکُلِّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃً، وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف ِصَدَقَۃٌ، وَنَہْیٌ عَنْ مُنْکَرٍ صَدَقَۃٌ، وَفِیْ بُضْعِ اَحَدِکُمْ صَدَ قَۃٌ.قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیَاتِیْ اَحَدُنَاشَہْوَتَہُ وَیَکُوْنُ لَہُ فِیْہَا اَجْرٌ ؟ قَالَ:اَرَاَیْتُمْ لَوْ وَضَعَہَا فِیْ حَرَامٍ اَ کَانَ عَلَیْہِ فِیْہَا وِزْرٌ ؟ فَکَذٰلِکَ اِذَا وَضَعَہَا فِی الْحَلَالِ کَانَ لَہُ اَجْرٌ. ( )

عن ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہ: ان ناسا قالوا: یارسول اللہ!ذہب اہل الدثور بالاجور، یصلون کمانصلی، ویصومون کمانصوم، ویتصدقون بفضول اموالہم، قال: اولیس قد جعل اللہ لکم ما تصدقون بہ؟ ان بکل تسبیحۃ صدقۃ، وکل تکبیرۃ صدقۃ، وکل تحمیدۃ صدقۃ، وکل تہلیلۃ صدقۃ، وامر بالمعروف صدقۃ، ونہی عن منکر صدقۃ، وفی بضع احدکم صد قۃ.قالوا: یارسول اللہ! ایاتی احدناشہوتہ ویکون لہ فیہا اجر ؟ قال:ارایتم لو وضعہا فی حرام ا کان علیہ فیہا وزر ؟ فکذلک اذا وضعہا فی الحلال کان لہ اجر. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوذررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ لوگوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:
’’
یا رسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ثواب تو سارا مالدار لے گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں ، ہماری ہی طرح روزہ رکھتے ہیں اوراپنے زائدمال سے صدقہ بھی کرتے ہیں ۔ ‘‘ (جبکہ ہمارے پاس مال نہیں جس سے ہم صدقہ کریں ) ارشادفرمایا: ’’ کیااللہعَزَّ وَجَلَّنے تمہارے ‏لیے وہ چیز نہیں بنائی جس کے ذریعے تم صدقہ کرو! (سنو!) بے شک!ہر تسبیح (سُبْحَانَ اللہکہنا) صدقہ ہےاور ہرتکبیر (اَللہُ اَکْبَرکہنا) صدقہ ہے، ہرتحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہکہنا) صدقہ ہے اور ہرتہلیل (لَااِلٰہَ اِلَّا اللہکہنا) صدقہ ہے ، نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہےاوراپنی زوجہ سےصحبت کرنابھی صدقہ ہے۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: ’’یا رسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے کوئی اپنی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے تو کیا اس پر بھی اس کے ‏لیے اجر ہے؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ تمہاراکیا خیال ہے اگر وہ حرام جگہ اپنی خواہش پوری کرتا تو اسےگناہ نہ ملتا؟ اسی طرح جب وہ حلال جگہ اپنی خواہش پوری کرےگاتو اسے اس پر اَجر ملےگا۔ ‘‘

شرح حدیث

صدقہ سے موسوم کرنے کی وجہ:شرح صحیح مسلم للنووی میں ہے: ’’ ان تمام امور کو صدقہ سے موسوم کیا گیا ہے ۔ایک احتمال تو یہ ہے کہ اِن اُمور میں حقیقتاً صدقہ کرنے کا ثواب ہےاوربطورِ مقابلہ اُنہیں صدقہ کا نام دیا گیا ۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ اُمور نفس پر صدقہ ہیں ۔ ‘‘ ( )امربالمعروف ونہی عن المنکر کا ثواب زیادہ:نیکی کاحکم دینا اور برائی سے منع کرنا یہ بھی صدقہ ہے۔ اسی طرحسُبْحَانَ اللہ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ،اَللہُ اَکْبَرُاورلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہنا بھی صدقہ ہے۔ اَذکارِمذکورہ کے مقابلے میں ’’اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرْیعنی نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سےمنع کرنے ‘‘ کا ثواب زیادہ ہےکیونکہ یہ فرض کفایہ ہے۔ جبکہ تسبیح ، تحمیداور تہلیل کا شمار نوافل میں ہوتا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ فرض کاثواب نفل سے زیادہ ہے۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی ہےکہ ”میرا بندہ کسی چیزکےذریعےبھی میرا اتنا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا قرب فرائض کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔“ اسی طرح حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ ’’ فرض کا ثواب نوافل سےستر 70گنازیادہ ہے۔ ‘‘ ( )مباح شے اچھی نیت سے عبادت:اپنی زوجہ سےصحبت کرنا بھی صدقہ ہے۔اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ مباح چیزیں بھی اچھی نیت سے عبادت بن جاتی ہیں ۔پس حقِ زوجیت کی ادا ئیگی، اچھےسلو ک، نیک اولادکی طلب، خوداپنی یا زوجہ کی پاک دامنی ، حرام اشیاء کی طرف نظر اوران میں غور وفکر سے بچنےیا اور کسی نیک کام کی نیت سےاپنی زوجہ سے صحبت کرنا بھی ثواب ہے۔ ( )اچھی نیت پر ثواب کا بیان:حدیثِ مذکور میں تسبیح اور دیگراذکا راوراَمْرٌبِالْمَعْرُوف وَنَھْیٌ عَنْ المُنْکَرکی فضیلت اور مُباحات میں اچھی نیت پر ثواب کا بیان ہے ۔عالِم یا مفتی کو چاہیے کہ حسبِ موقع بعض پیچیدہ مسائل کے دلائل بیان کر دے۔ سائل پر جس مسئلے کی دلیل مَخْفِی ہواورمعلوم ہو کہ دلیل پوچھنا عالِم کو نا گوار نہ ہوگاتو دلیل پوچھنے میں کوئی حرج و بے ادبی نہیں ۔ ( )فی نفسہ قضائے شہوت پر اَجر نہیں :مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’ (حلال جگہ اپنی خواہش پوری کرنے پراجر ملتا ہے) فی نفسہ قضائے شہوت پر اَجر نہیں بلکہ اجر اسی وقت ہے جب جائز طریقے سےہو ۔جیساکہ عید کے دن جلدی کھانا اورسحری کا کھانا۔ اسی طرح دیگرخواہشات جو اُمورِشرعیَّہ کے موافق ہوں ۔اسی ‏لیے کہا گیا کہ جب خواہش ہدایت کے موافق ہو جائے تو اس طرح ہے جیسے مکھن شہد کے ساتھ مل جائے اور اس کی طرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان عالی سے بھی اشارہ ملتا ہے: (وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِؕ-)(پ۲۰، القصص:۵۰)ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرےاللہکی ہدایت سےجدا۔ ‘‘ ( )تبلیغِ دین ذِکر و اَذکار سے اَفضل ہے:(ہرتسبیح وتحمید وتکبیر وتہلیل صدقہ ہے) ”مرآۃ المناجیح“میں ہے: ’’ اس فرمانِ عالی شان سے معلوم ہوا کہ جو کوئیسُبْحَانَ اللہیااَللہُ اَکْبَریااَلْحَمْدُلِلّٰہِیالَااِلٰہَ اِلَّا اللہُکسی طرح بھی کہے صدقہ نفلی کاثواب پائے گا۔خواہذِکرُاللہکی نیت سے کہے یاکسی حاجت کے ‏لیے بطورِ وظیفہ یہ الفاظ پڑھے یا عجیب بات سن کرسُبْحانَ ﷲوغیرہ کہےیاخوشخبری پا کراَلْحَمْدُلِلّٰہِپڑھے، بہرحال ثواب ملے گا۔ کیونکہاللہ(عَزَّ وَجَلَّ) کا نام لینا بہرحال عبادت ہے۔ اگر کوئی شخص ٹھنڈک کے لیے اَعضائے وضو دھوئے تب بھی وضو ہوجائے گا کہ اس سے نمازجائز ہوگی۔اللہ(عَزَّ وَجَلَّ) کانام زبان کاوضو ہے۔ (نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے) یعنی ہر تبلیغ میں خیرات کا ثواب ہے۔ بلکہ اس کا ثواب پہلے ثوابوں سے زیادہ کہ اس میںذِکرُ ﷲبھی ہے اور لوگوں کو فیض پہنچنا بھی۔قلمی تبلیغصدقۂ جاریہ ہے کہ جب تک لوگ اس کی کتاب سے دینی فائدہ اٹھائیں گے، تب تک اسے ثواب ملتا رہے گا۔ یہ ایک کلمہ بہت جامع ہے۔ ‘‘ ( )سنتیں عام کریں ، دین کا ہم کام کریں :اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّتبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیرغیر سیاسی تحریک”دعوتِ اسلامی“کے مہکے مہکے مدنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں ، دعوتِ اسلامی کا مدنی مقصد یہ ہے کہ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ“اپنی اصلاح کی کوشش کے لیے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔ نیز اسی مُقَدَّس جذبے کے تحت دنیا بھر میں ہر جمعرات کو بعد نمازِ مغرب”دعوتِ اسلامی“کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں ۔ سنتوں کی تبلیغ کے ‏لیے عاشقانِ رسول راہِ خدامیں سفر کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔ ’’ دعوتِ اسلامی“کے مدنی ماحول میں رہ کراَمْرٌ بَالْمَعْرُوْف وَ نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرکا خوب موقع ملتا ہے۔ آپ بھی”دعوتِ اسلامی“ کے مدنی ماحول سے وابستہ جائیے، خود بھی نیک بنیے اور دوسروں کو بھی نیک بنانے کی اس مدنی مہم میں شریک ہوجائیے، خوب خوب سنتیں پھیلا کر دینِ اسلام کی خدمت کیجئے۔
سنتیں عام کریں دین کا ہم کام کریں ………نیک ہو جائیں مسلمان مدینے والے!
اللہکرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں ………اے دعوت اسلامی تری دھوم مچی ہوصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ بغداد ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
نیک اعمال میں ایک دوسرے سے سبقت کی خواہش رکھنا صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا طریقہ ہے۔
(2) مباح چیزیں اچھی نیت کی برکت سے عبادت بن جاتی ہیں ۔
(3) ’’
اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر‘‘ (یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا) فرض کفایہ ہے۔
(4) زوجہ کے حقوق ادا کرنااوراس کے ذریعے سے نفس کو گناہوں سےمحفوظ رکھنا باعث ِ ثواب ہے۔
(5) تبلیغ دین یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کا ثواب ذکر واذکار سے زیادہ ہےکیونکہ یہ فرض کفایہ ہے، اس میں ذکربھی ہے اور لوگوں کی اصلاح وخیر خواہی بھی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال کرنے، دوسروں کو ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے، نیکی کی دعوت دینے، برائی سے منع کرنے، گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 120