Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 122

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيۡهِ الشَّمْسُ، تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيۡنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَامَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ خَطْوَةٍ تَمْشِيۡهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيۡطُ الْاَذَى عَنِ الطَّرِيۡقِ صَدَقَةٌ. ( )
رَوَاہُ مُسْلِمٌ اَیْضًامِنْ رِوَایَۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ اِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّيۡنَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْشَوْكَةً اَوْ عَظْمًاعَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْاَمَرَ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ السِّتِّيۡنَ وَالثَّلَاثِ مِائَةٍ ، فَاِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل سلامى من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع فيه الشمس، تعدل بين الاثنين صدقة وتعين الرجل في دابته فتحمله عليها او ترفع له عليهامتاعه صدقة، والكلمة الطيبة صدقة وبكل خطوة تمشيها الى الصلاة صدقة وتميط الاذى عن الطريق صدقة. ( )
رواہ مسلم ایضامن روایۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انه خلق كل انسان من بني آدم على ستين وثلاث مائة مفصل فمن كبر الله وحمد الله وهلل الله وسبح الله واستغفر الله وعزل حجرا عن طريق الناس اوشوكة او عظماعن طريق الناس اوامر بمعروف او نهى عن منكر عدد الستين والثلاث مائة ، فانه يمسي يومئذ وقد زحزح نفسه عن النار. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ انسان کے ہرجوڑ کے عوض ہر دن جس میں سورج چمکے اس پر صدقہ ہے، دو شخصوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا صدقہ ہے، کسی کو اس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد کرنا یا اس کا سامان اٹھا کرسواری پررکھ دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کے ‏لیے جانے والا ہر قدم صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔ ‘‘
امام مسلم
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس حدیث پاک کواُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی روایت سے بھی بیان کیا ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ بنی آدم کو تین سو ساٹھ360 ہڈیوں پر بنایا گیا۔پس جس نےاللہ اکبرکہا ، یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد بیان کی ، یالَااِلٰہَ اِلَّا اللہکہا، یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی پاکی بیان کی، یااِسْتِغْفَارپڑھا، یا راستے سے پتھر ہٹایا، یاکسی کانٹے یا ہڈی کو راستے سے ہٹایا، یا نیکی کی دعوت دی یا بُرائی سے منع کیااور یہ تعدادتین سو ساٹھ تک پہنچ گئی تو اس دن ایسا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیا۔ ‘‘

شرح حدیث

ہر نعمت کے بدلے شکر :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث کا معنی یہ ہے کہ انسان کے جوڑ اس کے وجود کی اصل ہیں اور ان سے منافع حاصل ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کے ذریعے انسان حرکت کرتا ہے ۔ یہ انسان پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت عظیم نعمتیں ہیں ۔ پس جسے نعمت ملے اس پر لازم ہے کہ ہر ہر نعمت کا شکرادا کرےاور صدقہ دے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں پر لطف و کرم فرمایا کہ لوگوں کے درمیان عدل کرنے کو صدقہ قرار دیا۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ علماءکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ انسان پر صدقہ کرنا واجب یا لازم نہیں بلکہ مستحب ہے اور یہ فرمان عالیِ ترغیب کے ‏لیے ہے۔ ‘‘ ( )روزانہ 360 نفلی نیکیاں ضرور کریں :مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ (انسان کے ہرجوڑ کے عوض اس پر صدقہ ہے ) انسان کی اس لیے قید لگائی تاکہ اس سے فرشتے اور جنات نکل جائیں کہ نہ ان کے جسموں میں اتنے جوڑ ہیں نہ ان کے یہ احکام۔ ہمارے یہ جوڑ، انگلی کے پوروں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک ہیں اگر ان میں سے ایک جوڑ خراب ہوجائے تو زندگی دشوار ہوجائے۔ قدرت نے ہڈی کو ہڈی میں اس طرح پیوست کیا ہے کہ کواڑ کی چول کی طرح ہڈی گھومتی، ہلتی ہے اس کے باوجود نہ گھستی ہے نہ خراب ہوتی ہے۔سُلَامٰیسین کے پیش سے ہے، جس کے لغوی معنی ہیں :عضو ، ہڈی اور جوڑ۔ یہاں تیسرے معنی مراد ہیں ۔انسان کے بدن میں 360جوڑ ہیں ۔اگر چہ ہمارا ہر رونگٹااللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمت ہے لیکن ہر جوڑ اس کی بے شمار نعمتوں کا مَظْہَر ہے۔ اس ‏لیے خصوصیت سے اس کا شکریہ ضروری ہوا۔ صدقہ سے مراد نیک عمل ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص پر اَخلاقاً دیانۃً لازم ہے کہ روزانہ ہر جوڑ کے عوض کم از کم ایک نفل نیکی کیا کرے۔ اس حساب سے روزانہ تین سو ساٹھ360 نیکیاں کرنی چاہیئں تاکہ ا س دن جوڑوں کا شکریہ ادا ہو۔ سورج چمکنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سورج تو ہر شخص پر چمکتا ہے تو شکریہ بھی ہر شخص پر ہے۔تہذیبِ اَخلاق، تدبیرِ منزل، سیاستِ مدنی، لوگوں سے اچھے برتاؤ صدقہ ہیں بشرطیکہ رضائے الٰہی کے ‏لیے ہوں ۔ہر معمولی سے معمولی کام جب ادائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو وہ بڑا ہوجائے گا، کیونکہ منسوب اگر چہ چھوٹا ہے مگر منسوب الیہ جن کی طرف نسبت ہے (یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم)صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّموہ تو بڑے ہیں ۔ (نماز کے ‏لیے جانے والا ہر قدم صدقہ ہے) نماز کا ذکر مثالاً ہے ورنہ طواف، بیمار پرسی، جنازہ میں شرکت، علم دین کی طلب غرضکہ ہر نیکی کے ‏لیے قدم ڈالنا صدقہ ہے۔ رستہ سے کانٹا، ہڈی، اینٹ، پتھر، گندگی غرض جس سے کسی مسلمان راہ گیر کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو ہٹا دینا بھی نیکی ہے جس پر صدقہ کا ثواب اور جوڑ کا شکریہ ہے۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُسْنِ نیت اوراِخلاص کے ساتھ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے‏لیےجوبھی نیک عمل کیاجائے وہ عبادت ہے ان میں سے بعض فرض وواجب ہیں جن کوادا کرناانسان پر لازم ہے جیسے نماز، روزہ اور زکوٰۃوغیرہ کہ ان کی ادائیگی پر بندے کواجروثواب سے نوازاجاتاہےاور ان کے ترک کرنے پر عذاب وعتاب کی وعیدہے۔اور بعض عبادتیں نفل ومستحب ہیں کہ ان کی ادائیگی پر ثواب ہے لیکن ان کے ترک پر عذاب نہیں ۔جیساکہ دومسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنا، کسی کوسواری پر سوار کرنا، اچھی بات کہنا اور مسجد کی طرف قدم اٹھانا وغیرہ۔ان تمام کے ذریعہ ربّعَزَّوَجَلَّکی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے۔لہٰذا عقل مند کو چاہیے کہ فرائض وواجبات کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات بھی بجالائے۔مدنی گلدستہ
’’ نماز ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
بظاہرمعمولی سےمعمولی کام بھی جب اَدائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو اس پر اَجر دیاجاتاہے۔
(2) انسان کے اپنے جسم میں اس پر اتنے اِنعاماتِ اِلٰہیہ ہیں کہ جن کا شکر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ سر سے لے کر پاؤں تک ہر آن ، ہر گھڑی وہ اپنے ربّ کی نعمتوں کے حِصار میں رہتا ہے ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ہم پر یہ بہت کرم واِحسان اور اس کا فضلِ عظیم ہے کہ وہ بظاہر چھوٹے چھوٹے اُمور پر بھی صدقے کا عظیم اجر وثواب عطا فرماتا ہے۔
(4) نماز، طواف، بیمار پرسی، جنازہ میں شرکت، طلبِ علم دین، مسلمانوں کی خیر خواہی ، الغرض ہر نیکی کی طرف اٹھنے والا قدم صدقہ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 122