- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 122
باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 122
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيۡهِ الشَّمْسُ، تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيۡنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَامَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ خَطْوَةٍ تَمْشِيۡهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيۡطُ الْاَذَى عَنِ الطَّرِيۡقِ صَدَقَةٌ. ( )
رَوَاہُ مُسْلِمٌ اَیْضًامِنْ رِوَایَۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ اِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّيۡنَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْشَوْكَةً اَوْ عَظْمًاعَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْاَمَرَ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ السِّتِّيۡنَ وَالثَّلَاثِ مِائَةٍ ، فَاِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ. ( )
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل سلامى من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع فيه الشمس، تعدل بين الاثنين صدقة وتعين الرجل في دابته فتحمله عليها او ترفع له عليهامتاعه صدقة، والكلمة الطيبة صدقة وبكل خطوة تمشيها الى الصلاة صدقة وتميط الاذى عن الطريق صدقة. ( )
رواہ مسلم ایضامن روایۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انه خلق كل انسان من بني آدم على ستين وثلاث مائة مفصل فمن كبر الله وحمد الله وهلل الله وسبح الله واستغفر الله وعزل حجرا عن طريق الناس اوشوكة او عظماعن طريق الناس اوامر بمعروف او نهى عن منكر عدد الستين والثلاث مائة ، فانه يمسي يومئذ وقد زحزح نفسه عن النار. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ انسان کے ہرجوڑ کے عوض ہر دن جس میں سورج چمکے اس پر صدقہ ہے، دو شخصوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا صدقہ ہے، کسی کو اس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد کرنا یا اس کا سامان اٹھا کرسواری پررکھ دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کے لیے جانے والا ہر قدم صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔ ‘‘
امام مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس حدیث پاک کواُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی روایت سے بھی بیان کیا ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ بنی آدم کو تین سو ساٹھ360 ہڈیوں پر بنایا گیا۔پس جس نےاللہ اکبرکہا ، یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد بیان کی ، یالَااِلٰہَ اِلَّا اللہکہا، یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی پاکی بیان کی، یااِسْتِغْفَارپڑھا، یا راستے سے پتھر ہٹایا، یاکسی کانٹے یا ہڈی کو راستے سے ہٹایا، یا نیکی کی دعوت دی یا بُرائی سے منع کیااور یہ تعدادتین سو ساٹھ تک پہنچ گئی تو اس دن ایسا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیا۔ ‘‘
شرح حدیث
ہر نعمت کے بدلے شکر :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث کا معنی یہ ہے کہ انسان کے جوڑ اس کے وجود کی اصل ہیں اور ان سے منافع حاصل ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کے ذریعے انسان حرکت کرتا ہے ۔ یہ انسان پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت عظیم نعمتیں ہیں ۔ پس جسے نعمت ملے اس پر لازم ہے کہ ہر ہر نعمت کا شکرادا کرےاور صدقہ دے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں پر لطف و کرم فرمایا کہ لوگوں کے درمیان عدل کرنے کو صدقہ قرار دیا۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ علماءکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ انسان پر صدقہ کرنا واجب یا لازم نہیں بلکہ مستحب ہے اور یہ فرمان عالیِ ترغیب کے لیے ہے۔ ‘‘ ( )روزانہ 360 نفلی نیکیاں ضرور کریں :مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ (انسان کے ہرجوڑ کے عوض اس پر صدقہ ہے ) انسان کی اس لیے قید لگائی تاکہ اس سے فرشتے اور جنات نکل جائیں کہ نہ ان کے جسموں میں اتنے جوڑ ہیں نہ ان کے یہ احکام۔ ہمارے یہ جوڑ، انگلی کے پوروں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک ہیں اگر ان میں سے ایک جوڑ خراب ہوجائے تو زندگی دشوار ہوجائے۔ قدرت نے ہڈی کو ہڈی میں اس طرح پیوست کیا ہے کہ کواڑ کی چول کی طرح ہڈی گھومتی، ہلتی ہے اس کے باوجود نہ گھستی ہے نہ خراب ہوتی ہے۔سُلَامٰیسین کے پیش سے ہے، جس کے لغوی معنی ہیں :عضو ، ہڈی اور جوڑ۔ یہاں تیسرے معنی مراد ہیں ۔انسان کے بدن میں 360جوڑ ہیں ۔اگر چہ ہمارا ہر رونگٹااللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمت ہے لیکن ہر جوڑ اس کی بے شمار نعمتوں کا مَظْہَر ہے۔ اس لیے خصوصیت سے اس کا شکریہ ضروری ہوا۔ صدقہ سے مراد نیک عمل ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص پر اَخلاقاً دیانۃً لازم ہے کہ روزانہ ہر جوڑ کے عوض کم از کم ایک نفل نیکی کیا کرے۔ اس حساب سے روزانہ تین سو ساٹھ360 نیکیاں کرنی چاہیئں تاکہ ا س دن جوڑوں کا شکریہ ادا ہو۔ سورج چمکنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سورج تو ہر شخص پر چمکتا ہے تو شکریہ بھی ہر شخص پر ہے۔تہذیبِ اَخلاق، تدبیرِ منزل، سیاستِ مدنی، لوگوں سے اچھے برتاؤ صدقہ ہیں بشرطیکہ رضائے الٰہی کے لیے ہوں ۔ہر معمولی سے معمولی کام جب ادائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو وہ بڑا ہوجائے گا، کیونکہ منسوب اگر چہ چھوٹا ہے مگر منسوب الیہ جن کی طرف نسبت ہے (یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم)صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّموہ تو بڑے ہیں ۔ (نماز کے لیے جانے والا ہر قدم صدقہ ہے) نماز کا ذکر مثالاً ہے ورنہ طواف، بیمار پرسی، جنازہ میں شرکت، علم دین کی طلب غرضکہ ہر نیکی کے لیے قدم ڈالنا صدقہ ہے۔ رستہ سے کانٹا، ہڈی، اینٹ، پتھر، گندگی غرض جس سے کسی مسلمان راہ گیر کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو ہٹا دینا بھی نیکی ہے جس پر صدقہ کا ثواب اور جوڑ کا شکریہ ہے۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُسْنِ نیت اوراِخلاص کے ساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کےلیےجوبھی نیک عمل کیاجائے وہ عبادت ہے ان میں سے بعض فرض وواجب ہیں جن کوادا کرناانسان پر لازم ہے جیسے نماز، روزہ اور زکوٰۃوغیرہ کہ ان کی ادائیگی پر بندے کواجروثواب سے نوازاجاتاہےاور ان کے ترک کرنے پر عذاب وعتاب کی وعیدہے۔اور بعض عبادتیں نفل ومستحب ہیں کہ ان کی ادائیگی پر ثواب ہے لیکن ان کے ترک پر عذاب نہیں ۔جیساکہ دومسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنا، کسی کوسواری پر سوار کرنا، اچھی بات کہنا اور مسجد کی طرف قدم اٹھانا وغیرہ۔ان تمام کے ذریعہ ربّعَزَّوَجَلَّکی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے۔لہٰذا عقل مند کو چاہیے کہ فرائض وواجبات کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات بھی بجالائے۔مدنی گلدستہ
’’ نماز ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)بظاہرمعمولی سےمعمولی کام بھی جب اَدائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو اس پر اَجر دیاجاتاہے۔
(2) انسان کے اپنے جسم میں اس پر اتنے اِنعاماتِ اِلٰہیہ ہیں کہ جن کا شکر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ سر سے لے کر پاؤں تک ہر آن ، ہر گھڑی وہ اپنے ربّ کی نعمتوں کے حِصار میں رہتا ہے ۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ہم پر یہ بہت کرم واِحسان اور اس کا فضلِ عظیم ہے کہ وہ بظاہر چھوٹے چھوٹے اُمور پر بھی صدقے کا عظیم اجر وثواب عطا فرماتا ہے۔
(4) نماز، طواف، بیمار پرسی، جنازہ میں شرکت، طلبِ علم دین، مسلمانوں کی خیر خواہی ، الغرض ہر نیکی کی طرف اٹھنے والا قدم صدقہ ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 122