- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 123
باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 123
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ اَوْ رَاحَ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُ فِیْ الْجَنَّۃِ نُزُلًا کُلَّمَا غَدَا اَوْ رَاحَ. ( )
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم:من غدا الی المسجد او راح اعد اللہ لہ فی الجنۃ نزلا کلما غدا او راح. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی اکرمنورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ ’’ جو شخص صبح یا شام کے وقت مسجد گیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّجنت میں اس کے لیے ہر صبح وشام مہمانی تیار فرمائےگا۔ ‘‘
شرح حدیث
مسجدمیں بغرض عبادت آنے کی فضیلت:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکور کے ظاہر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص کسی بھی وقت مسجد آئےتو مطلقاًاسے فضیلت حاصل ہوگی لیکن یہ فضیلت اسی کے ساتھ خاص ہے کہ جو عبادت کی غرض سے مسجد میں آئے۔ ‘‘ ( )
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ صبح شام سے مراد ہمیشگی ہے یعنی جو ہمیشہ نماز کے لیے مسجد جانے کا عادی ہوگااسے ہمیشہ جنتی رزق ملے گا۔نُزُلٌاس کھانے کو کہتے ہیں جو مہمان کی خاطر پکایا جائے چونکہ وہ پُر تکلف ہوتا ہے اور میزبان کی شان کے لائق، اس لیے جنتی کھانے کونُزُلٌفرمایا گیا، ورنہ جنتی لوگ وہاں مہمان نہ ہوں گے، مالک ہوں گے۔ ‘‘ ( )مسجد سے متعلق 4فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1) ’’ مسجدہر پرہیز گا ر کا گھر ہے اور جس کا گھر مسجد ہواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت ، رضا اور پل صِرا ط سے باحفاظت گزار کراپنی رضا والے گھر جنت کی ضمانت دیتا ہے۔ ‘‘ ( )(2) ’’ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد کی خدمت کرتا اور اسے آباد کرتا ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دو کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے: (اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ) (پ۱۰، التوبۃ:۱۸)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اللہکی مسجدیں وہی آبا د کرتے ہیں جواللہاور قیامت پر ایما ن لاتے۔ ‘‘ ( )(3) ’’ جب کوئی بندہ ذکر ونَماز کے لیے مسجد کو ٹھکانا بنالیتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے ہاں اپنے ہی گمشدہ شخص کی آمد پر خوش ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ( )(4) ’’ رات کی تاریکیوں میں مسجد کی طرف آمدورفت رکھنے والےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت میں غوطے لگاتے ہیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدجنت کی اَبدی نعمتیں :زمانے کے مشہور ولی حضرت سَیِّدُنَا والان بن عیسیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :ایک مرتبہ میں تہجد کے لیے مسجد میں گیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جتنی تو فیق دی اتنی دیر میں نے نماز پڑھی ، پھر میں سو گیا۔میں نے خواب دیکھا کہ نہایت حسین وجمیل اور نورانی چہروں والے بزرگوں کا ایک قافلہ مسجد میں آیا ۔میں سمجھ گیا کہ یہ انسان نہیں بلکہ کوئی اور مخلوق ہیں ۔ ان کے ہاتھوں میں تھال تھے جن میں عمدہ آٹے کی برف کی طرح سفیدروٹیاں تھیں ، ہر رو ٹی پر انگوروں کی طر ح چھوٹے چھوٹے قیمتی موتی تھے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ’’ یہ رو ٹیاں کھالو۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ میرا تو رو زہ ہے۔ ‘‘ کہنے لگے: ’’ مسجد جس کا گھر ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم یہ کھانا کھالو۔ ‘‘ پس میں کھا نے لگا۔کھانے کے بعد میں نے وہ موتی اٹھانا چاہے تو کہا گیا کہ: ’’ یہ چھوڑ دو، ہم تمہارے لیے اِن کے بدلے ایسے درخت لگائیں گے جن کے پھل اِن موتیوں سے بہتر ہوں گے ۔ ‘‘ میں نے کہا : ’’ وہ درخت کہاں ہوں گے؟ ‘‘ جواب ملا : ’’ ایسے گھر میں جو کبھی بر باد نہ ہوگااور وہاں ہمیشہ پھل اُگتے رہیں گے، نہ کبھی ختم ہو ں گے نہ خراب ۔ وہ ایسی سلطنت ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی۔ وہاں ایسے کپڑے ہوں گے جو کبھی پرانے نہ ہوں گے۔اس گھر (یعنی جنت ) میں خوشی ہی خوشی ہے، میٹھے پانی کے چشمے ہیں ، سکون وآرام ہے اور ایسی پاکبازبیویاں ہیں جو فرمانبر دار، ہمیشہ خوش رہنے والی اوردل کو بھانے والی ہیں ۔وہ نہ تو کبھی ناراض ہوں گی اور نہ ہی ناراض کریں گی۔لہٰذا دنیا میں جتنا ہوسکے نیک اَعمال کی کثرت کرو۔ یہ دنیا تو نیند کی مانند ہے کہ آنکھ کھلتے ہی رخصت ہوجائے گی ۔ لہٰذا اس میں جتنا ہوسکے عمل کرواور جلدی سے جنت کی طر ف آجاؤ جہاں دائمی نعمتیں ہیں ۔ ‘‘ پھر میری آنکھ کھل گئی لیکن ابھی تک میرے ذہن میں وہ خواب سمایا ہوا تھا اور میں جلد اَز جلد اس گھر (یعنی جنت) میں پہنچنا چاہتا تھاجس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا۔راوی کہتے ہیں کہ اس واقعے کے تقریباً پندرہ دن بعد آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا انتقال ہوگیا ۔ انتقال کے بعد میں نے اسی رات اُنہیں خواب میں دیکھا تو پوچھا : ’’ آپ کے لیےکیسے درخت لگائے گئے ہیں ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ وہ تو ایسے ہیں کہ جن کی تعریف بیان نہیں کی جاسکتی۔خداعَزَّ وَجَلَّکی قسم! جب کوئیاللہ عَزَّ وَجَلَّکا مہمان بنتا ہے تو وہ پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّاُسےایسی ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جن کے اَوصاف بیان نہیں ہوسکتے، اس کے کرم کی کوئی انتہا نہیں ، وہ اپنے بندو ں پر بے انتہا کرم فرماتا ہے۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔ آمین
¥مدنی گلدستہ
’’ مسجد ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)جنت میں دی جانے والی نعمتوں کے اَوصاف بیان کرنا ممکن نہیں ۔
(2) اپنا اکثر وقت مسجد میں گزارنے والےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ہیں اور اُس کی رحمت میں غوطہ زن رہنے والے ہیں ۔
(3) بسا اوقات انسان کو ایسے نیک خواب دکھائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے عبادت وریاضت میں رغبت اور جنت کی طلب مزید بڑھ جاتی ہے ۔ مؤمن کے لیے ایسے خواباللہ عَزَّ وَجَلَّکا بہت بڑا انعام ہیں ۔
(4) ہم سباللہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق و مملوک ہیں ۔ اس نے ہمیں انسان بنایا، ایمان دیا، حضور نبی آخر الزماںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دامنِ کرم دیا، یہ ہم پر اس کا بہت بڑا کرم واِحسان ہے ۔ اِن تمام نعمتوں کے باوجود وہ ہمیں جنت کی طرف راغب کرنے کے لیے طرح طرح کی نعمتیں بیان فرماکر ہم پر مزید اِحسان فرماتا ہے ۔ یقینا ًاس کا جتنا شکر ادا کیاجائے اتنا ہی کم ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خوب خوب نیکیاں کرنے اور کثرت سے مسجد کی طرف جانے، نمازادا کرنے اورقرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کی سعادت عطافرمائے۔پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 123