Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 123

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ اَوْ رَاحَ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُ فِیْ الْجَنَّۃِ نُزُلًا کُلَّمَا غَدَا اَوْ رَاحَ. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم:من غدا الی المسجد او راح اعد اللہ لہ فی الجنۃ نزلا کلما غدا او راح. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی اکرمنورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ ’’ جو شخص صبح یا شام کے وقت مسجد گیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّجنت میں اس کے ‏لیے ہر صبح وشام مہمانی تیار فرمائےگا۔ ‘‘

شرح حدیث

مسجدمیں بغرض عبادت آنے کی فضیلت:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکور کے ظاہر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص کسی بھی وقت مسجد آئےتو مطلقاًاسے فضیلت حاصل ہوگی لیکن یہ فضیلت اسی کے ساتھ خاص ہے کہ جو عبادت کی غرض سے مسجد میں آئے۔ ‘‘ ( )
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ صبح شام سے مراد ہمیشگی ہے یعنی جو ہمیشہ نماز کے ‏لیے مسجد جانے کا عادی ہوگااسے ہمیشہ جنتی رزق ملے گا۔
نُزُلٌاس کھانے کو کہتے ہیں جو مہمان کی خاطر پکایا جائے چونکہ وہ پُر تکلف ہوتا ہے اور میزبان کی شان کے لائق، اس ‏لیے جنتی کھانے کونُزُلٌفرمایا گیا، ورنہ جنتی لوگ وہاں مہمان نہ ہوں گے، مالک ہوں گے۔ ‘‘ ( )مسجد سے متعلق 4فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1) ’’ مسجدہر پرہیز گا ر کا گھر ہے اور جس کا گھر مسجد ہواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت ، رضا اور پل صِرا ط سے باحفاظت گزار کراپنی رضا والے گھر جنت کی ضمانت دیتا ہے۔ ‘‘ ( )(2) ’’ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد کی خدمت کرتا اور اسے آباد کرتا ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دو کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے: (اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ) (پ۱۰، التوبۃ:۱۸)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اللہکی مسجدیں وہی آبا د کرتے ہیں جواللہاور قیامت پر ایما ن لاتے۔ ‘‘ ( )(3) ’’ جب کوئی بندہ ذکر ونَماز کے ‏لیے مسجد کو ٹھکانا بنالیتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے ہاں اپنے ہی گمشدہ شخص کی آمد پر خوش ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ( )(4) ’’ رات کی تاریکیوں میں مسجد کی طرف آمدورفت رکھنے والےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت میں غوطے لگاتے ہیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدجنت کی اَبدی نعمتیں :زمانے کے مشہور ولی حضرت سَیِّدُنَا والان بن عیسیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :ایک مرتبہ میں تہجد کے ‏لیے مسجد میں گیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جتنی تو فیق دی اتنی دیر میں نے نماز پڑھی ، پھر میں سو گیا۔میں نے خواب دیکھا کہ نہایت حسین وجمیل اور نورانی چہروں والے بزرگوں کا ایک قافلہ مسجد میں آیا ۔میں سمجھ گیا کہ یہ انسان نہیں بلکہ کوئی اور مخلوق ہیں ۔ ان کے ہاتھوں میں تھال تھے جن میں عمدہ آٹے کی برف کی طرح سفیدروٹیاں تھیں ، ہر رو ٹی پر انگوروں کی طر ح چھوٹے چھوٹے قیمتی موتی تھے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ’’ یہ رو ٹیاں کھالو۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ میرا تو رو زہ ہے۔ ‘‘ کہنے لگے: ’’ مسجد جس کا گھر ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم یہ کھانا کھالو۔ ‘‘ پس میں کھا نے لگا۔کھانے کے بعد میں نے وہ موتی اٹھانا چاہے تو کہا گیا کہ: ’’ یہ چھوڑ دو، ہم تمہارے ‏لیے اِن کے بدلے ایسے درخت لگائیں گے جن کے پھل اِن موتیوں سے بہتر ہوں گے ۔ ‘‘ میں نے کہا : ’’ وہ درخت کہاں ہوں گے؟ ‘‘ جواب ملا : ’’ ایسے گھر میں جو کبھی بر باد نہ ہوگااور وہاں ہمیشہ پھل اُگتے رہیں گے، نہ کبھی ختم ہو ں گے نہ خراب ۔ وہ ایسی سلطنت ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی۔ وہاں ایسے کپڑے ہوں گے جو کبھی پرانے نہ ہوں گے۔اس گھر (یعنی جنت ) میں خوشی ہی خوشی ہے، میٹھے پانی کے چشمے ہیں ، سکون وآرام ہے اور ایسی پاکبازبیویاں ہیں جو فرمانبر دار، ہمیشہ خوش رہنے والی اوردل کو بھانے والی ہیں ۔وہ نہ تو کبھی ناراض ہوں گی اور نہ ہی ناراض کریں گی۔لہٰذا دنیا میں جتنا ہوسکے نیک اَعمال کی کثرت کرو۔ یہ دنیا تو نیند کی مانند ہے کہ آنکھ کھلتے ہی رخصت ہوجائے گی ۔ لہٰذا اس میں جتنا ہوسکے عمل کرواور جلدی سے جنت کی طر ف آجاؤ جہاں دائمی نعمتیں ہیں ۔ ‘‘ پھر میری آنکھ کھل گئی لیکن ابھی تک میرے ذہن میں وہ خواب سمایا ہوا تھا اور میں جلد اَز جلد اس گھر (یعنی جنت) میں پہنچنا چاہتا تھاجس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا۔راوی کہتے ہیں کہ اس واقعے کے تقریباً پندرہ دن بعد آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا انتقال ہوگیا ۔ انتقال کے بعد میں نے اسی رات اُنہیں خواب میں دیکھا تو پوچھا : ’’ آپ کے ‏لیےکیسے درخت لگائے گئے ہیں ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ وہ تو ایسے ہیں کہ جن کی تعریف بیان نہیں کی جاسکتی۔خداعَزَّ وَجَلَّکی قسم! جب کوئیاللہ عَزَّ وَجَلَّکا مہمان بنتا ہے تو وہ پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّاُسےایسی ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جن کے اَوصاف بیان نہیں ہوسکتے، اس کے کرم کی کوئی انتہا نہیں ، وہ اپنے بندو ں پر بے انتہا کرم فرماتا ہے۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔ آمین
¥
مدنی گلدستہ
’’ مسجد ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
جنت میں دی جانے والی نعمتوں کے اَوصاف بیان کرنا ممکن نہیں ۔
(2) اپنا اکثر وقت مسجد میں گزارنے والے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ہیں اور اُس کی رحمت میں غوطہ زن رہنے والے ہیں ۔
(3) بسا اوقات انسان کو ایسے نیک خواب دکھائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے عبادت وریاضت میں رغبت اور جنت کی طلب مزید بڑھ جاتی ہے ۔ مؤمن کے ‏لیے ایسے خواب
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا بہت بڑا انعام ہیں ۔
(4) ہم سب
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق و مملوک ہیں ۔ اس نے ہمیں انسان بنایا، ایمان دیا، حضور نبی آخر الزماںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دامنِ کرم دیا، یہ ہم پر اس کا بہت بڑا کرم واِحسان ہے ۔ اِن تمام نعمتوں کے باوجود وہ ہمیں جنت کی طرف راغب کرنے کے ‏لیے طرح طرح کی نعمتیں بیان فرماکر ہم پر مزید اِحسان فرماتا ہے ۔ یقینا ًاس کا جتنا شکر ادا کیاجائے اتنا ہی کم ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خوب خوب نیکیاں کرنے اور کثرت سے مسجد کی طرف جانے، نمازادا کرنے اورقرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کی سعادت عطافرمائے۔پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 123