Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 133

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُوسَی الاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِذَامَرِضَ الْعَبْدُ اَوْسَافَرَ کُتِبَ لَہُ مِثْلُ مَا کَانَ یَعْمَلُ مُقِیْمًا صَحِیْحًا. ( )

عن ابی موسی الاشعری رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:اذامرض العبد اوسافر کتب لہ مثل ما کان یعمل مقیما صحیحا. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوموسیٰ اشعریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ جب بندہ بیماری یاسفر میں ہوتاہے تو اُس کے لیے اُسی طرح ثواب لکھا جاتاہے جس طرح تندرستی اور حالت ِ اِقامت میں عمل کرتاتھا۔ ‘‘

شرح حدیث

نیک اَعمال پر ہمیشگی :عمدۃ القاری میں ہے : ’’ یہ فضیلت اس شخص کے بارے میں ہے جو ہمیشہ نیک اَعمال بجالاتاہواوریہ نیت ہو کہ کوئی مانع نہ ہواتو پابندی کے ساتھ عمل کرتارہوں گا۔پھرسفر یا بیماری کی وجہ سے اگر نیک اعمال ادا کرنے سے قاصررہے تو اُس کے ‏لیے اُن اَعمال کی مثل اَجرلکھا جائے گاجو وہ تندرستی و اِقامت کی حالت میں کیا کرتا تھااور یہی بات حدیث میں صراحتًا وارد ہوئی ہےکہ جب بندہ عبادات میں سے کسی اچھے طریقے کا عادی ہوپھر اسے کوئی مرض لاحق ہوجائےتو اس پر مقررفرشتےکوحکم دیاجاتا ہےکہ اُس کے ‏لیے اُسی عمل کی مثل اَجر لکھو جو یہ تندرستی کی حالت میں کیا کرتاتھایہاں تک کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے تندرست فرمادے یا موت آجائے ۔ ‘‘ ( )ختم نہ ہونے والااجر:عَلَّامَہ اَبُوالْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ علامہمُھَلَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ’’ اس حدیثِ پاک کی اصل قرآن کریم میں موجود ہے، چنانچہ ارشادِباریتعالٰیہے:لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ (۴) ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ (۵) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ (۶)(پ۳۰، التین:۴تا۶)ترجمۂ کنزالایمان: بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا، پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا، مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ انہیں بے حد ثواب ہے۔
یعنی ان کے ‏لیے ختم نہ ہونےوالا اجر ہے۔تو اس سےمراد یہ ہےکہ بندے کو بڑھاپےاور کمزوری کی حالت میں اسی عمل کی مثل ثواب ملتارہے گا جو وہ حالتِ صحت میں کیا کرتا تھا۔اسی طرح بیماری اورسفر وغیرہ میں آنے والی آفات سے چھوٹنے والے اُن اَعمال پر بھی اُسے اجر ملے گا جن کا وہ عادی تھا ۔ ‘‘ ( )
¥
یہ حدیث عُمُوم پر نہیں:عَلَّامَہ اَبُوالْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث عموم پر نہیں ہےبلکہ یہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو نفلی عبادت کے عادی ہوں اورمرض یا سفر کی وجہ سے وہ نفلی عبادت نہ کر سکیں بشرطیکہ ان کی یہ نیت ہو کہ اگروہ مقیم یا تندرست ہوتے تو یہ اَعمال ضرور بجا لاتے۔پساللہ عَزَّ وَجَلَّایسے لوگوں پر فضل فرماتا ہے کہ ان کے ‏لیے اس وقت سے اَجر عطا فرماتا ہے جب سے وہ بیماری کی وجہ سے یہ اَعمال بجا لانے سے قاصر رہے۔ بہر حال وہ شخص جو نوافل اور دیگراَعمالِ صالحہ کا عادی نہ ہووہ اِس حدیث کے تحت داخل نہیں ۔ کیونکہ اُس کےمرض نے اُسےکسی چیز سے نہیں روکا تو اُس کے ‏لیے اُس عمل کا ثواب کیسے لکھاجائے گا جو اس نے کیا ہی نہیں ۔اور حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےمروی حدیث پاک بھی اِس بات پر دلالت کرتی ہےکہ حدیثِ مذکورنوافل کے بارے میں ہے۔کیونکہ اُن سے مروی حدیث پاک کے یہ الفاظاِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِنوافل کےبارے میں بولے جاتے ہیں فرائض کے بارے میں نہیں ، کیونکہ مریض اورمسافر سے فرض نماز ساقط نہیں ہوتی بلکہ مریض بیٹھ کر نمازادا کر ے گااور مسافر قصر۔تواب مریض اور مسافر کے ‏لیے نوافل کااجر ہی لکھا جائے گا۔ (بشرطیکہ وہ حالت اِقامت وتندرستی میں نوافل کے عادی بھی ہوں ) جیسا کہ حضور نبی اَکرمنورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: ’’ جورات میں نماز پڑھنے کا عادی ہواور کسی رات اس پر نیند غالب آجائے تواللہ عَزَّوَجَلَّاُس کے‏لیے نماز کا ثواب لکھتا ہے اور نیند اُس کےلیے صدقہ ہوجا تی ہےاور اُس میں کوئی اِشکال نہیں ۔ ‘‘ ( )بیماری اورسفر میں فرائض معاف نہیں :مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’ اگر بیماری یا سفر کی وجہ سے وہ تہجد وغیرہ نوافل نہ پڑھ سکے یا جماعت میں حاضر نہ ہوسکے تو اُس کو اُن کا ثواب مل جائے گا بشرطیکہ
تندرستی میں اُن چیزوں کا پابند ہو، حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیماری یا سفر میں فرائض معاف ہوجاتے ہیں ، وہ تو ادا کرنے ہی پڑیں گے اور اگر ر ہ گئے ہوں تو اُن کی قضاء واجب ہوگی۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’ نماز ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
جونیک اَعمال کا عادی ہواورپھربیماری یا سفر کی وجہ سے اُس سے نیک اعمال چھوٹ جائیں تو اُسےاللہ عَزَّوَجَلّکے فضل وکرم سے اُن اَعمال کا ثواب دیا جائے گا۔
(2) جماعت سےنمازپڑھنے والااگرکسی عذرِشرعی کی وجہ سےجماعت میں شامل نہ ہوسکے مگر اس کی یہ نیت ہو کہ اگر عُذرِ شرعی لاحق نہ ہوتا تو جماعت میں ضرور شامل ہوتا تو رحمتِ الٰہی سے امید ہے کہ اسے بھی جماعت کاثواب ملے گا۔
(3) مریض اورمسافر سے فرض نماز ساقط نہیں ہوتی۔ اگر فرض چھوٹ جائیں تو قضاء لازم ہے ۔
(4) جو رات کو نفلی عبادت کرنے کا عادی ہواورکبھی نیند کے غلبے کی وجہ سے عبادت نہ کر سکے تو اسے اس رات بھی عبادت کا ثواب دیا جاتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں استقامت کے ساتھ نیک اَعمال پر کاربند رہنے کی توفیق فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 133