Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 138

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَال: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَرْبَعُوۡنَ خَصْلَةً اَعْلَاهَا مَنِيۡحَةُ الْعَنْزِ، مَامِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَارَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيۡقَ مَوْعُوۡدِهَا اِلَّا اَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ. ( )
(قَالَ النَّوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) اَلْمَنِیْحَۃُ، اَنْ یُّعْطِیَہُ اِیَّاھَا لِیَاۡکُلَ لَبَنَھَا ثُمَّ یَرُدَّھَا اِلَیْہِ.

عن ابی محمد عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اربعون خصلة اعلاها منيحة العنز، مامن عامل يعمل بخصلة منهارجاء ثوابها وتصديق موعودها الا ادخله الله بها الجنة. ( )
(قال النوویعلیہ رحمۃ اللہ القوی:) المنیحۃ، ان یعطیہ ایاھا لیاکل لبنھا ثم یردھا الیہ.

حدیث ترجمہ

: حضرت سَیِّدُنَا ابو محمدعبد اللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ 40خصلتیں ہیں اور ان میں سے سب سے اعلیٰ یہ ہے کہ کسی کو عاریۃً دودھ والی بکری دینا، جو کوئی ان خصلتوں میں سے کسی خصلت پرثواب کی امید کرتے ہوئے اور جو اس پر وعدہ ہے اس کی تصدیق کرتے ہوئے عمل کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ‘‘
(علامہ نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں :)اَلْمَنِیْحَۃُکسی کوجانوردینا تاکہ وہ اس کا دودھ پی کر لوٹا دے ۔

شرح حدیث

جنت میں داخل کرانے والی خصلتیں :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَالفرما تے ہیں : ’’ بے شک مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے احادیث مبارکہ میں غور کیا تو چالیس سے زائد خصلتیں پائیں ۔ان میں سے چند خصلتیں بیان کی جاتی ہیں : (1) غلام آزاد کرنا (2) دودھ والاجانور کسی مسلمان کوعاریتًادینا (3) بھوکے کو کھانا کھلانا (4) پیاسے کو پانی پلانا (5) کسی مسلمان سے ملاقات کے وقت سلام کرنا (6) چھینکنے والے کو جواب دینا (7) راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا (8) کاریگر کی مددکرنا (9) کسی کو رسی کا ٹکڑا دینا (10) کسی کو جوتے کاتسمہ دینا (11) وَحشت زَدَہ کی وَحشت دُور کرنا۔ یعنی جووَحشت کے مقام پرہواسے مقامِ اُنس تک پہنچانا یا اچھی بات کے ذریعے کسی کی وَحشت دُور کرنا (12) کسی کی مصیبت کو دور کرنا (13) اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرنا (14) مسلمان کی پردہ پوشی کرنا (15) اپنےمسلمان بھائی کے ‏لیےمجلس میں کشادگی کرنا (16) کسی مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا (17) مظلوم کی مدد کرنا (18) تعلق توڑنے والے رشتہ دارسےتعلق جوڑنا (19) ظالم کوظلم سےروکنا (20) کسی کو بھلائی کی راہ بتانا (21) نیکی کی دعوت دینا (22) لوگوں کے درمیان صلح کروانا (23) مسکین سےاچھےطریقے سےبات کرنا (24) پانی کی بالٹی کسی دوسرے مسلمان کودے دینا (25) پڑوسی کو تحفہ دینا (26) کسی مسلمان کی (جائز) سفارش کرنا (27) اُس عزَّت دار پر رحم کرناجو رُسوا ہو گیا ہو (28) اُس غنی پر رحم کرنا جو مُفلس ہو گیا ہو (29) اُس عالِم پررحم کرنا جوجاہلوں کے درمیان گھِر گیا ہو (30) مریض کی عیادت کرنا (31) جو کسی مسلمان کی غیبت کرے اسے روکنا (32) مسلمان سے مصافحہ کرنا (33) رضائے الٰہی کے‏ لیے آپس میں محبت کرنا (34) رضائے الٰہی کے ‏لیے آپس میں مل بیٹھنا (35) رضائے الٰہی کے ‏لیے آپس میں ملاقات کرنا (36) رضائے الٰہی کے ‏لیے لین دین کرنا (37) کسی مسلمان کو اس کی سواری پر سوار کرا دینا (38) یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوا دینا (39) مسلمانوں کو نصیحت کرنا ۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
’’ جنت ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
کسی مسلمان کو عاریتًا کوئی چیز دینا بھی کارِ ثواب ہے۔
(2) وحشت زدہ کی وحشت دُور کرناجنت میں داخلے کا سبب ہے۔
(3) مسلمانوں کی آپس کی محبت، میل جول، لین دین اوردیگر معاملات اگر
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے ‏لیے ہوں تو دنیا وآخرت کی بھلائیوں کا باعث ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیر وبھلائی کے کاموں کو کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 138