- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 129
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرۃََ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا تَوَضَّاَالْعَبْدُالْمُسْلِمُ اَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَ مِنْ وَجْہِہِ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ نَظَرَ اِلَیْہَا بِعَیْنِہِ مَعَ الْمَاءِ، اَ وْمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَ مِنْ یَدَیْہِ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ کَانَ بَطَشَتْہَا یَدَاہُ مَعَ الْمَاءِ، اَوْمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَاِذَا غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتْ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ مَشَتْہَارِجْلَاہُ مَعَ الْمَاء ِ اَ وْمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاء ِ حَتّٰی یَخْرُجَ نَقِیًّا مِنَ الذُّنُوْبِ. ( )
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: اذا توضاالعبدالمسلم او المؤمن فغسل وجہہ خرج من وجہہ کل خطیئۃ نظر الیہا بعینہ مع الماء، ا ومع آخر قطر الماء، فاذا غسل یدیہ خرج من یدیہ کل خطیئۃ کان بطشتہا یداہ مع الماء، اومع آخر قطر الماء، فاذا غسل رجلیہ خرجت کل خطیئۃ مشتہارجلاہ مع الماء ا ومع آخر قطر الماء حتی یخرج نقیا من الذنوب. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ جب کوئی مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اوراپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے كے وہ تمام گناہ جو اس نے آنکھوں سے کیے تھے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں ، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کےوہ تمام گناہ جو کسی (ناجائزچیز ) کو پکڑ نے کے ذریعے کیے تھے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں ، پھرجب وہ اپنے پاؤں دھوتاہےتوپاؤں سےجن گناہوں کی طرف چل کر گیا وہ تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک وصاف ہو جاتا ہے۔‘‘
شرح حدیث
صغیرہ گناہ مٹا دیے جاتے ہیں :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہاں خطاء سے مراد صغیرہ گناہ ہیں نہ کہ کبیرہ، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ (اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ) جب تک وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ ہو۔ ‘‘ قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ’’ گناہ جھڑنے سے مراد گنا ہوں کا معاف ہونا ہے کہ گناہ کوئی جسم نہیں رکھتے کہ جن کا نکلنا مُتَصَوَّر ہو ، یہاں مجازاً کلام کیا گیا ہےنہ کہ حقیقتاً۔ ‘‘ ( )
¥گناہ جھڑنےکی کیفیت:اس حدیث کو موطا امام مالک میں مزید وضاحت کے ساتھ اس طرح ذکر کیا ہےکہ ’’ کلی کرتے وقت منہ سے گناہ نکلیں گے، ناک صاف کرتے وقت ناک سے گناہ نکلیں گےاورچہرہ دھوتے وقت چہرے کے وہ تمام گناہ نکل جائیں گے جن کی طرف آنکھ سے دیکھا تھا، یہاں تک کہ پلکوں کے نیچےسے بھی، ہاتھ دھوتے وقت ہاتھ کے ساتھ ناخُنوں کے نیچے کے گناہ بھی نکل جائیں گے اور سر کا مسح کرتے وقت سر کےگناہ نکل جائیں گے، یہاں تک کے کانوں سے بھی اور پاؤں دھوتے وقت پاؤں کے ساتھ پاؤں کے ناخُنوں کے گناہ بھی نکل جائیں گے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ ابن ملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:وضو کرنے والاوضو کرتے ہی ان گناہوں سے پاک ہوجاتا ہےجو اعضاء ِوضو کے ذریعے کیے تھے۔ ‘‘ ( )دو اَحادیث میں تطبیق کی صورت:اس حدیث سے ثابت ہورہاہے کہ وضو کرنے والے کے صرف اعضائے وضو کے گناہ معاف ہوتے ہیں جبکہ حضرت سَیِّدُنَاعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوالی حدیث میں سارے گناہوں کی معافی کا بیان ہے جس کے الفاظ کچھ یوں ہیں : ’’ جس نے اچھے طریقے سے وضو کیا اس کے سارے جسم کے گناہ نکل جاتے ہیں ، حتی کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں ۔ ‘‘ ( )ان دونوں میں مطابقت کچھ اس طرح ہو گی کہ جببسم اللہپڑھ کر وضو کیا جائے تو سارا بدن پاک ہو جاتا ہے اور بغیربسم اللہکے وضو کیا جا ئے تو صرف وہ ہی اعضاء پاک ہوں گے جو وضو میں دھلے ہوں گے۔ ( )بطورِ خاص آنکھ کا ذکر کرنے کی وجہ:حدیث پاک میں چہرے کے ساتھ بطور خاص فقط آنکھ کا ذکر فرمایا گیا دیگر اعضا ء کا ذکر نہیں کیا گیا، شارحین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس کی چندوجوہات بیان فرمائی ہیں : (۱) اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ چونکہ آنکھ دل کی جاسوس اور رہنماہے، جب اس کا ذکر کر دیا تو اب کسی اور عضو کے ذکر کرنے کی حاجت نہ رہی ۔ (۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ وہم ہو سکتا تھا کہ وضو سے آنکھ کے گناہ معاف نہیں ہوں گے کیونکہ وضومیں آنکھ کا اندورونی حصہ نہیں دھویا جاتا ، لہٰذا آنکھ کے گناہ معاف ہونے کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ (۳) تیسری وجہ یہ ہے کہ چونکہ د یگر تمام اعضاء کی اپنی اپنی طہارت ہے جیسے ناک کی طہارت اس میں پانی ڈالنا ، منہ کی طہارت کلی و غرغرہ کرنا ، کانوں کی طہارت ان کا مسح کرنا وغیرہ لیکن آنکھوں کی علیحدہ سے کوئی طہارت نہیں اس لیےانہیں چہرے کے ساتھ ذکرکردیا۔ ( )وضو سے گناہوں کی سیاہی دُور ہوتی ہے :د لیل الفالحین میں ہے : وضو کی وجہ سے اعضائے وضو کے گناہ نکل جاتے ہیں ۔یعنی وہ صغیرہ گناہ نکل جاتے ہیں جن کا تعلقحقوقُ اللہسے ہے۔علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ عبارت بطور اِستعارہ استعمال کی گئی ہے اور گناہ نکلنے سے مقصود گناہوں کو مٹانے اور ختم کرنے کا اعلان کرنا ہےورنہ گناہ کوئی جسم نہیں رکھتے کہ ان کا جسم سے نکلنا درست ہو۔ ‘‘
علامہ ابن عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ میں کہتا ہوں : ’’ ظاہر یہ ہےکہ اس عبارت کوحقیقی معنیٰ پر رکھاجائے کیونکہ گناہ ظاہروباطن کوسیاہ کرنے میں اثررکھتے ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے اصحابِ کشف و احوال اس پر مطلع بھی ہو جاتے ہیں اور وضو اس اثر ( گناہوں کی سیاہی) کو زائل کر دیتا ہے۔ ‘‘ پھر علامہ ابن عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے حجرِ اسودوالی حدیث بطور دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا: ’’ مشرکین کے گناہوں کے اثر سے حجر اسود کا رنگ سیاہ ہو گیا ، تو جب گناہوں کا اثر حجرِ اسود پر ہو رہا ہے تو گناہ کرنے والے پر ان کا اثر بدرجہ اولیٰ ہو گا۔ یا پھر گناہ نکلنے سے مراد یہ ہے کہ گناہوں کی سیاہی نکل جاتی ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ عالَم مثال کے اعتبار سےگناہ بذاتِ خودجسم ہے عرض ( ) نہیں کیونکہ جو چیز اس عالَم میں عرض ہے اس کےلیے عالَم مثال میں جسم وصورت ہے۔ ‘‘ ( )گناہ جھڑنے کی حکایت:اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے وضو کے ذریعے جھڑنے والے گناہوں کو دیکھ لیتے ہیں ۔اس ضمن میں ایک ایمان افروز حکایت ملاحظہ فرمائیے۔حضر ت سَیِّدُنَاعلامہ عبد الوہاب شعرانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ ایک مرتبہ سَیِّدُنَا امام اعظم ابو حنیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جامع مسجد کوفہ کے وضو خانہ میں ایک نوجوان کو وضو کرتے دیکھا۔توفرمایا :اے بیٹے! ماں با پ کی نافرمانی سے توبہ کرلے ۔اس نے فوراًعرض کی:میں نے توبہ کی۔ایک اور شخص کے وضو ( میں استعمال ہونے والے پانی ) کے قطرے ٹپکتے دیکھےتو اس سےفرمایا:اے میرے بھائی! تو بدکاری سے توبہ کرلے۔ اس نے عرض کی:میں نے توبہ کی۔ایک اور شخص کے وضو کے قطرات ٹپکتے دیکھے تو فرمایا:شراب نوشی اور گانے باجے سننے سے توبہ کرلے ۔اس نے عرض کی :میں نے توبہ کی۔ چونکہ کشف کے باعث آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُپر لوگوں کے عیوب ظاہر ہو جاتے تھے لہٰذا آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ خداوندیعَزَّ وَجَلَّمیں اس کشف کے ختم ہو جانے کی دعا مانگی جو قبول ہوئی اور پھر آپ کو وضو کرنے والوں کے گناہ جھڑ تے نظر آنا بند ہو گئے۔ ‘‘ ( )دل ودماغ کےگناہوں کی معافی:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اگرچہ انسان کان ، ناک ، منہ سب سے گناہ کرتا ہے مگر زیادہ گناہ آنکھ سے ہوتے ہیں جیسے اجنبی عورت یا غیر کا مال ناجائز نگاہ سے دیکھنا، اس لیے صرف آنکھ کا ذکر فرمایا۔ ورنہاِنْ شَآءَ اللہ(عَزَّ وَجَلَّ) چہرے کے ہر عضو کے گناہ منہ دھوتے ہی معاف ہوجاتے ہیں ۔چلنے سے مراد ناجائز مقام پر جانا ہے خیال رہے کہ یہاں صرف ان اَعضاء کے گناہوں کی ہی معافی مراد نہیں بلکہ سارے گناہ مراد ہیں حتی کہ دل و دماغ کے بھی گناہ، اِن اَعضاء کا ذکر اس لیے ہے کہ زیادہ گناہ اِنہیں سے صادر ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ( )وضو کی فضیلت سے متعلق 5 فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ”قیامت کے دن میری اُمَّت اس حالت میں بلائی جائے گی کہ ان کے منہ اور ہاتھ، پاؤں آثارِ وُضوسے چمکتے ہوں گے تو جو چمک زیادہ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وضو کرے۔“ ( ) (2) ”جو مسلمان وُضو کرے اور اچھا وُضو کرے پھر کھڑا ہو اور باطن و ظاہرسے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز پڑھے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔“ ( )(3) ”تم میں سے جو کوئی وُضو کرے اور کامل وُضو کرے پھر پڑھے:اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗتواس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے داخِل ہو۔“ ( )(4) ’’ جو شخص وُضو پر وُضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔“ ( )(5) ”جس نےبسم اللہکہہ کر وُضو کیا ، سر سے پاؤں تک اس کا سارا بدن پاک ہو گیا اور جس نے بغیربسم اللہوُضو کیا اس کا اتنا ہی بدن پاک ہو گا جتنے پر پانی گزرا۔“ ( )مدنی گلدستہ
’’ کامل وضو ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)وضوسے ظاہری اور باطنی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔
(2)بسم اللہپڑھ کر وضوکرنے سے سارے بدن کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں پر عام لوگوں کے مختلف احوال منکشف ہوتے ہیں ۔
(4) وضو کے استعمال شدہ پانی سے مسجد اورکپڑوں کو بچاناچاہیےکیونکہ وہ گناہ لے کر نکلتے ہیں ۔
(5) لوگوں کے عیبوں پر مطلع ہونے کی خواہش سے بچنا چاہیے۔(6) ∞کل بروز ِقیامت اَعضاءِ وضو چمکتے ہوں گے۔(7) ∞کامل وضو کے بعد جو شخص مکمل کلمہ شہادت پڑھے اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، وہ جس سے چاہے داخل ہوجائے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھی طرح وضو کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں وضو کی برکات سے مالامال فرمائے اور ہمارے تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 129