Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 134

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ. ( )

عن جابر رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کل معروف صدقۃ. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے سرکارِ مکہ مکرمہ سردارِ مدینہ منورہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ ہر نیکی صدقہ ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

معروف (نیکی) سے کیا مراد ہے؟اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ معروف کا معنیٰ بہت وسیع ہے ، اس میں وہ تمام کام شامل ہیں جو اچھے سمجھے جاتے ہیں ۔جیسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کرنا، اس کا قرب حاصل کرنا ، لوگوں سے اچھاسلوک کرنا، لوگوں کو نیکی کی دعوت دینا جبکہ جانتا ہو کہ لوگ اس سے منع نہیں کریں گے، انصاف کرنا، اپنےاہل وعیال اوردیگرلوگوں سےاچھے تعلقات رکھنااورلوگوں سےخندہ پیشانی سے ملاقات کرنا وغیرہ ۔ ‘‘ ( )صدقہ کیا ہے؟علامہ سیدشریف جُرجانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ جس عطیہ کے ذریعےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے ثواب حاصل کرنا مقصود ہووہ صدقہ ہے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکوراس بات پر دلالت کرتی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک بندے کا ہرنیک عمل اور اچھی بات صدقہ ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّمؤمن کو اس عمل خیر پرثواب دے گا۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ معروف سے مرادہرقسم کی بھلائی ہے، چاہے وہ مال سے عطیہ کرنا ہویا حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہو یا ہر قسم کے ایسے اَقوال واَفعال جو عرفًااللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاکے لیے کیے جائیں وہ صدقہ ہیں یعنی ان کا ثواب صدقے کے ثواب کی طرح ہے۔ ‘‘ ( )مال خرچ کیے بغیرصدقے کاثواب:مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’سُبحانَ ﷲ!کیا ہمت اَفزا حدیث ہے، یعنی صدقہ صرف مال ہی سے نہیں ہوتا بلکہ ہر معمولی نیکی اگر اخلاص سے کی جائے تو اس پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے حتی کہ مسلمان بھائی سے میٹھی اور نرم باتیں کرنا بھی صدقہ ہے۔اب کوئی فقیر بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں صدقہ پر قادر نہیں ۔ ‘‘ ( )تفسیر ابن کثیر میں ہے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اِطاعت اور اُس کی مخلوق کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہوئے مالی طورپر کمزور لوگوں کی ضرورتوں کو اپنے زائد مال سے پورا کرناصدقہ ہے۔اورصحیحین کی حدیث میں ہے کہ سات لوگ قیامت میں عر شِ ا لٰہی کے سائے میں ہوں گے جس دن عر شِ ا لٰہی کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، ان سات میں ایک صدقہ کرنے والابھی ہےاورچھپا کر صدقہ کرنا بہترہے کہ حدیث پاک میں ہے: ’’ دائیں ہاتھ سے اس طرح صدقہ دے کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ ‘‘ ایک اور حدیث میں ہے: ’’ صدقہ خطاؤں کواس طرح مٹا دیتاہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ‘‘ ( )صدقے سے متعلق تین احادیثِ مبارکہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صدقہ کامفہوم بہت وسیع ہے اور یہ صرف مال خرچ کرنے کے ساتھ ہی خاص نہیں ہےبلکہ اِس کا اطلاق دیگر نیک اَعمال پر بھی کیاجاتاہے۔ اِس ضمن میں تین اِیمان اَفروز اَحادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے:
(1) ’’ دومسلمانوں کے درمیان عدل وانصاف کرنا صدقہ ہے، سواری پر بٹھانے میں دوسرے کی مددکرنا یااُس کے سامان کواُس کی سواری پر رکھوانا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، اور ہروہ قدم جومسجد کی طرف چلتے ہوئے اُٹھائے صدقہ ہے، نیز راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کردینا صدقہ ہے۔ ‘‘ ( )
(2) ’’ تیرااپنے بھائی سےمسکرا کرملنا صدقہ ہے، تیرانیکی کاحکم کرناصدقہ ہےاوربرائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔پیچیدہ راستوں میں کسی کو راہ دکھانا صدقہ ہے، نابیناکی مددکرنا صدقہ ہے، راستےسے پتھر، کانٹے اور ہڈی دور کرناصدقہ ہے۔ا پنی پانی کی بالٹی اپنے بھائی کو دے دینا صدقہ ہے۔ ‘‘ ( )
(3) ’’ ہرمسلمان پرصدقہ لازم ہے۔ ‘‘ صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: ’’ اگراس کےپاس کچھ بھی نہ ہو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے، اپنے آپ کونفع دے اورصدقہ کرے۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: ’’ اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتاہویا اس طرح نہ کرے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ توحاجت منداور مظلوم کی مددکرے۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ اگر وہ یہ کام نہ کرے؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ بھلائی کاحکم دے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ اگریہ بھی نہ کرے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ تو پھر شرپھیلانے سے رُکا رہے، اُس کے لیے وہی صدقہ ہے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
مولا ’’ علی ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
نیکی کرنے والوں کے ‏لیے نیکیوں کےبے شمار مواقع ہیں حتی کہ بسا اوقات چھوٹے چھوٹے عمل بھی بڑی بڑی نیکیوں کا سبب بن جاتے ہیں ۔
(2) معمولی نیکی بھی اگر اخلاص کےساتھ کی جائے تو صدقے کا ثواب ملتاہے۔
(3)بروز ِقیامت صرف عرشِ الٰہی کا سایہ ہوگااور صدقہ کرنے والے اس سائے کے نیچے ہوں گے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نیک اَعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 134