- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 141
حدیث مبارکہ
عَنۡ اَبِی مُوۡسٰی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ. قَالَ: اَرَاَيْتَ اِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ. قَالَ: اَرَاَ يْتَ اِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يُعِيۡنُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوۡفَ. قَالَ: اَرَاَ يْتَ اِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يَاۡمُرُ بِالْمَعْرُوفِ اَوِالْخَيْرِ.قَالَ اَرَاَ يْتَ اِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَاِ نَّهَا صَدَقَةٌ. ( )
عن ابی موسی رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: على كل مسلم صدقة. قال: ارايت ان لم يجد؟ قال: يعمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق. قال: ارا يت ان لم يستطع؟ قال: يعين ذا الحاجة الملهوف. قال: ارا يت ان لم يستطع؟ قال: يامر بالمعروف اوالخير.قال ارا يت ان لم يفعل؟ قال: يمسك عن الشر فا نها صدقة. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ آپ کیا فرماتے ہیں ، اگر اسے (صدقہ کے لیے کوئی شے) میسر نہ آئے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ اپنے ہاتھ سے کام کرے پھر خودبھی فائدہ اٹھائے اورصدقہ بھی کرے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ ضرورت مند، مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ آپ کی کیا رائے ہے اگراس کی بھی طاقت نہ ہو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ نیکی یا بھلائی کا حکم دے۔ ‘‘ عرض کیا: ’’ اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟ ‘‘ فرمایا : ’’ بُرائی سے بچے کہ یہ بھی صدقہ ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہیے:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکورمیں تنگدست مسلمان کے لیے اس بات پر تنبیہ ہے کہ کسی پر بوجھ نہ بنے، بلکہ اپنے ہاتھ سے کام کاج کر کے اپنے آپ پر خرچ کرے اور اسے صدقہ سمجھے۔امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:اے قاریوں کی جماعت! اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر چلو، اپنے سروں کو بلند رکھواورمسلمانوں پر بوجھ نہ بنو۔ ‘‘ ( )
¥نیکی پر قدرت نہ ہوتو۔۔۔!حدیثِ مذکورمیں اس بات پربھی تنبیہ ہے کہ ’’ مؤمن جب کسی نیکی پر قدرت نہ پائےتو کوئی ایسی نیکی کر لے جس پر اُسے قدرت ہو کیونکہ نیکیوں اوربھلائیوں کے دَروازےبہت زیادہ ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے راستے بھی بے شمار ہیں ۔ ‘‘ ( )
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ تنگدست و محتاج کوچاہیے کہ محنت مزدوری کرے، اس سے جواُجرت حاصل ہواپنی ضروریات کھانے، پینے، اُوڑھنے، پہننے وغیرہ میں استعمال کرے تاکہ کسی سے مانگنےکی حاجت نہ رہےاوراپنےاوپرخرچ کرکے صدقے کا ثواب پائے۔ ‘‘ ( )بُرائی سے رُک جانا صدقہ ہے:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ برائی سے رُک جانا صدقہ ہے۔اس سے مرادیہ ہے کہ جباللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کی خاطر برائی سے بچے تو اس کے لیے ایسا ہی اجر ہے جیسا مال صدقہ کرنے والے کے لیے ہوتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥حلال و جائز کاموں میں مصروفیت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ (اگرصدقےکے لیے کوئی چیز میسر نہ آئے تو؟ ) صحابۂ کرام یہاں صدقہ سے مالی خیرات سمجھے تھے، اس لیے اُنہیں یہ اِشکال پیش آیا کہ بعض مسلمان مسکین مفلوکُ الْحال ہوتے ہیں جن کے پاس اپنے کھانے کونہیں ہوتاوہ صدقہ کہاں سے کریں ؟ (فرمایا:اپنے ہاتھ سے کام کرے پھر خودبھی فائدہ اٹھائے اورصدقہ بھی کرے) سرکار (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ مال کمانا بھی عبادت ہے کہ اس کی برکت سے انسان ہزار ہا گناہوں سے بچ جاتا ہے۔جیسے بھیک، چوری وغیرہ۔ نیز نِکمّا آدمی اپنا وقت گناہوں میں خرچ کرنے لگتا ہے۔نفس کو حلال کاموں میں لگائے رہوتاکہ تمہیں حرام میں نہ پھنسادے۔ (برائی سے بچے یہ بھی صدقہ ہے) بُرائی سے بچنے کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ فساد کے زمانہ میں گھر میں گوشہ نشین بن جائے کہ نماز کے اوقات مسجد میں باقی گھر یا جنگل میں گزارے۔ دوسرے یہ کہ بُری مجلسوں میں جائے مگر بُرائی کرنے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کو بُرائی سے روکنے کے لیے کہ یہ بڑا جہاد ہے۔ اس جملے سے معلوم ہوا کہ جیسے نیکیاں نہ کرنا گناہ ہے، ایسے ہی گناہ نہ کرنا ثواب۔ نہ کرنے سے مراد بچنا ہے یعنی سلبِ عدولی نہ کہ سلبِ محض۔ لہٰذا حدیث پر یہ اِعتراض نہیں کہ ہم ہر وقت خصوصاً سونے کی حالت میں لاکھوں گناہوں سے بچے رہتے ہیں ، توچاہیے کہ ہمیں ہر سانس میں کروڑوں نیکیاں ملا کریں ، ربّتعالٰیفرماتاہے: (وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ (۴۰)) (پ۳۰، النٰزعٰت:۴۰) (ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔) یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے۔ ‘‘ ( )مصیبت زدہ کی مدد کرنا:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ مصیبت زدہ کی مددکرے۔ اس سے مراد وہ شخص ہےجواپنےکسی معاملے میں رنجیدہ وپریشان ہو، یاکمزورومظلوم مدد مانگ رہاہوتوچاہیے کہ اپنے عمل، مال یا منصب کےذریعےاس کی مدد کرے یا اسے مددگارتک پہنچا دے یا نصیحت کر دے یا دعا کے ذریعےمددکرےاوراگریہ نہ کرسکےتوبھلائی کاحکم دےاوربرائی سے منع کرےیاکسی کوعلمی فائدہ پہنچا دے اور علمی نصیحت کردے۔ ‘‘ ( )صَدَقہ کی برکت سے جان بچ گئی :منقول ہےکہ حضرت سیِّدُنا صالحعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کا ایک جھگڑالوشخص لوگو ں کو بہت تنگ کیا کرتا تھا۔لوگوں نے تنگ آکر حضرت سیِّدُنا صالحعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اس کی شکایت کی اور چھٹکارے کی درخواست کی۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ’’ جاؤ!اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّتمہیں اس کے شَر سے خلاصی مل جائے گی ۔ ‘‘ چنانچہ لوگ واپس چلے گئے۔ وہ جھگڑالوشخص جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کیا کرتا تھا۔حسب ِمعمول وہ جنگل گیا ، اس کے پاس دو روٹیاں تھیں ایک خود کھالی اور دوسری صدقہ کردی۔ پھر لکڑیاں کاٹ کر واپس گھر چلا آیا ۔ لوگو ں نے جب اسے صحیح وسلامت دیکھا تو حضرتِ سیِّدُنا صالحعَلَیْہِ السَّلَامکی خدمت میں عرض کی کہ ابھی تک ہمیں اس سے چھٹکارا نہیں ملا۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اسےبلا کر فرمایا: ’’ اے نوجوان! آج تو نے کون سا نیک کام کیا ہے ؟ ‘‘ عرض کی : ’’ میں نے ایک روٹی صدقہ کی ہےاس کے علاوہ تو کوئی اورنیک کام مجھے یاد نہیں ۔ ‘‘ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ’’ اپنالکڑیوں کا گٹھا کھولو۔ ‘‘ جب گٹھَّا کھولاتو اس میں کھجور کے تنے جتنا موٹا اوربہت ہی زہریلا سیاہ اژدہاتھا۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اس شخص سے فرمایا: ’’ صدقہ کی ہوئی روٹی نے تجھے اس خطرناک زہریلے اژدھے سے بچالیا۔ ‘‘ ( )
¥مدنی گلدستہ
’’ نیک عمل ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)مُخَیَّرحضرات کو چاہیے کہ وہ مجبوروبے روزگارمسلمانوں کی دستگیری کریں تاکہ ان کے مسائل حل ہوں اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو۔
(2) انسان پراتنامال کمانا ضروری ہے جس سے وہ اوراس کے اہل وعیال محتاجی سے بچے رہیں اور انہیں دوسروں کےسامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
(3) بعض نیکیاں آسانی سے ہوجاتی ہیں اوربعض میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ۔پس جب انسان مشکل اَعمال کرنے سے عاجز آجائے تو نیکیوں سے بالکل دُور ہونے کے بجائے آسان نیکیوں کی طرف منتقل ہوجائے ۔
(4) اسلام دینِ کامل ہےجو ہمیں خودداری اور خود کفالت کا درس دیتاہے۔
(5) کسی کی مدد کرنےکے لیے صرف مال ہی ضروری نہیں بلکہ اوربھی کئی طریقوں سے مدد کی جاسکتی ہے۔ جیسے کسی کو اچھا مشورہ دینا ، اچھی نصیحت کرنا ، جائز سفارش کرنا ، کسی کا کوئی کام کر دینا وغیرہ ۔
(6) بقدرِ ضرورت حلال مال مل جانا بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ بسااوقات آدمی تنگ دستی ومحتاجی کی وجہ سے مختلف گناہوں میں مبتلا ہو جاتاہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں غیروں کی محتاجی سے بچائے، تنگ دستی و مُفلسی سے ہماری حفاظت فرمائے، بقدرِضرورت حلال رزق اتنا عطا فرمائے کہ ہم اپنے نادارمسلمان بھائیوں کی بھی مدد کر سکیں ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدثواب بڑھانے کے نسخے:میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! ریاض الصالحین کے مذکورہ بالا باب میں بھلائی کے طریقوں کو بیان فرمایا گیا ، نیز مختلف اَعمال اور اُن پر ملنے والے مخصوص ثواب کو بھی بیان فرمایا گیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّتبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ اور بانی دعوتِ اسلامی، شیخ طریقت، امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاس عظیم مدنی مقصد کے تحت کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّسنتوں کی تربیت کی مدنی راہ پر تیزی سے گامزن ہیں ۔آپدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی یہ کوشش ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ، حضور نبی رحمت، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِس دُکھیاری اُمَّت کو نیکی کی دعوت پیش کرکے نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت دلائی جائے، یہی وجہ ہے کہ آپ وقتاً فوقتاً اپنے آڈیو، ویڈیو بیانات، مدنی مذاکروں ، کتب ورسائل وتحریری بیانات کے ذریعے اُمَّت مُسْلِمہ کی ثواب بڑھانے کے مختلف طریقوں اور نسخوں کی طرف رہنمائی فرماتے رہتے ہیں ۔ ’’ ثواب بڑھانے کے نسخے ‘‘ یہ رسالہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اس رسالے میں آپدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے مختلف کاموں میں کی جانے والی اچھی اچھی نیتوں کو تفصیلاً بیان فرمایا ہے۔یقیناً مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخل کرے گی۔ جس نے نیکی کا ارادہ کیا پھر اسے نہ کیا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی۔ بغیر اچھی نیت کے کسی بھی نیک کام کا ثواب نہیں ملتا۔ جتنی اچھی نیتیں زیادہ، اتنا ثواب بھی زیادہ۔ شیخ طریقت، امیراہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے اس رسالے میں تقریبا ً72نیک کاموں کی مختلف نیتیں بیان فرمائی ہیں ، اُن کاموں کی تفصیل یہ ہے:
(1) صبح سویرے کی نیتیں (2) جوتے پہننے کی نیتیں (3) جوتے اتارنے کی نیتیں (4) بیت الخلاء جانے کی نیتیں (5) وضو کی نیتیں (6) مسجد میں جانے کی نیتیں (7) دعا مانگنے کی نیتیں (8) مؤذن کے لیے نیتیں (9) امام کے لیے نیتیں (10) خطبے کی نیتیں (11) پانی پینے کی نیتیں (12) کھانے کی نیتیں (13) مل کر کھانے کی مزید نیتیں (14) خلال کی نیتیں (15) مہمان نوازی کی نیتیں (16) دعوتِ طعام پر جانے کی نیتیں (17) چائے/دودھ پینے کی نیتیں (18) لباس پہننے/اتارنے کی نیتیں (19) تیل ڈالنے/کنگھی کرنے کی نیتیں (20) عمامہ شریف باندھنے کی نیتیں (21) خوشبو لگانے کی نیتیں (22) گھر سے نکلتے وقت کی نیتیں (23) راہ چلنے /سیڑھی چڑھنے اترنے کی نیتیں (24) بیٹھنے کی نیتیں (25) ماں باپ کی خدمت اور اپنے بچوں کو پیار کرنے کی نیتیں (26) اولاد ملنے کی نیتیں (27) بچے کا نام رکھنے کی نیتیں (28) عقیقے کی نیتیں (29) صلہ رحمی کی نیتیں (30) تجارت کی نیتیں (31) ملازمت کی نیتیں (32) قرض لینے کی نیتیں (33) قرض دینے کی نیتیں (34) فون کرنے یا وصول کرنے کی نیتیں (35) اپنے پاس فون رکھنے کی نیتیں (36) بجلی استعمال کرنے کی نیتیں (37) پنکھا یا ٭.Cیا واشنگ مشین چلانے کی نیتیں (38) کمپیوٹر کے متعلق نیتیں (39) مدنی چینل دیکھنے کی نیتیں (40) دینی کتاب پڑھنے کی نیتیں (41) دینی مدرسے میں پڑھنے کی نیتیں (42) علم دین/قرآنِ مبین پڑھنے کی نیتیں (43) تلاوت کرنے کی نیتیں (44) تلاوت سننے کی نیتیں (45) درود شریف پڑھنے کی نیتیں (46) نعت شریف پڑھنے کی نیتیں (47) عالِم دین کی خدمت میں حاضری کی نیتیں (48) مزارات پر حاضری کی نیتیں (49) نیکی کی دعوت اور انفرادی کوشش کی نیتیں (50) برائی سے منع کرنے کی نیتیں (51) بیان کرنے کی نیتیں (52) بیان سننے کی کی نیتیں (53) ملاقات کی نیتیں (54) مدنی انعامات کا رسالہ پر کرنے کی نیتیں (55) قفلِ مدینہ لگانے کی نیتیں (56) مدنی قافلے میں سفر کی نیتیں (57) لنگر رسائل کی نیتیں (58) مدنی مشورہ کرنے اور دینے کی نیتیں (59) مدنی کاموں کی کارکردگی جمع کروانے میں نیتیں (60) دعوتِ اسلامی کے اِجتماعی اِعتکاف کی نیتیں (61) ناخن کاٹنے کی نیتیں (62) زلفیں کاٹنے کی نیتیں (63) سراور داڑھی کے بالوں میں مہندی لگانے کی نیتیں (64) اسلامی
بہنوں کے لیے مہندی لگانے کی نیتیں (65) پردے کی نیتیں (اِسلامی بہنوں کے لیے) (66) سُرمہ لگانے کی نیتیں (67) سونے کی نیتیں (68) علاج کروانے کی نیتیں (69) مریض کی عیادت کی نیتیں (70) تعزیت کی نیتیں (71) جنازے میں شرکت کی نیتیں (72) قبرستان جانے کی نیتیں ۔
مذکورہ بالانیک کاموں میں اچھی اچھی نیتوں کی تفصیلی معلومات کے لیے ’’ ثواب بڑھانے کے نسخے ‘‘ اس رسالے کا خود بھی مطالعہ فرمائیے اور دوست اَحباب کو بھی اِس کی ترغیب دلائیے۔
اچھی اچھی نیتوں کا، ہو خدا جذبہ عطا
بندۂ مخلص بنا، کر عفو میری ہر خطااللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر نیک اور جائز کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے، نیکیاں کرنے، دوسروں کو نیکیوں کی ترغیب دلانے، گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعمل کا ہو جذبہ عطا یاالٰہی………گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت………ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
میں پڑھتا رہوں سنتیں وقت ہی پر………ہوں سارے نوافل ادا یاالٰہی
دے شوقِ تلاوت دے ذوقِ عبادت………رہوں باوضو میں سدا یاالٰہی
ہمیشہ نگاہوں کو اپنی جھکا کر………کروں خاشعانہ دعا یاالٰہی
نہ نیکی کی دعوت میں سستی ہو مجھ سے………بنا شائق قافلہ یاالٰہی
میں نیچی نگاہیں رکھوں کاش اکثر………عطا کر دے شرم وحیا یاالٰہی
ہو اَخلاق اچھا ہو کردار ستھرا………مجھے متقی تو بنا یاالٰہیصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 141