Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 137

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبیْ الْمُنْذِرِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ لَا اَعْلَمُ رَجُلًا اَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ، وَکَانَ لَا تُخْطِئُہُ صَلَاۃٌ فَقِیْلَ لَہُ، اَ وْ فَقُلْتُ لَہُ: لَوْ اِشْتَرَ یْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہُ فِی الظَّلْمَاءِ؟ وَفِی الرَّمْضَاءِ؟ فَقَالَ: مَا یَسُرُّ نِی اَنَّ مَنْزِلِیْ اِلٰی جَنْبِ الْمَسْجِدِ، اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ یُکْتَبَ لِیْ مَمْشَایَ اِلَی الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِی اِذَا رَجَعْتُ اِلٰی اَہْلِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَمَعَ اللّٰہُ لَکَ ذَلِکَ کُلَّہُ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ لَکَ مَااِحْتَسَبْتَ. ( )
(قَالَ النَّوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) اَلرَّمْضَاءُ:اَلْاَرْضُ الَّتِی اَصَابَہَا الْحَرُّ الشَّدِیْدُ.

عن ابی المنذر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قال: کان رجل لا اعلم رجلا ابعد من المسجد منہ، وکان لا تخطئہ صلاۃ فقیل لہ، ا و فقلت لہ: لو اشتر یت حمارا ترکبہ فی الظلماء؟ وفی الرمضاء؟ فقال: ما یسر نی ان منزلی الی جنب المسجد، انی ارید ان یکتب لی ممشای الی المسجد، ورجوعی اذا رجعت الی اہلی، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: قد جمع اللہ لک ذلک کلہ.وفی روایۃ:ان لک مااحتسبت. ( )
(قال النوویعلیہ رحمۃ اللہ القوی) الرمضاء:الارض التی اصابہا الحر الشدید.

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو مُنْذِر اُبَیّ بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ ایک آدمی تھا، میں نہیں جانتا کہ اس سے زیادہ کوئی مسجد سے دُور رہتا ہو۔اس کی کوئی نماز خطا نہ ہو تی تھی۔ اسے کہا گیا یا میں نے اسے کہا کہ ’’ تم ایک گدھاکیوں نہیں خریدلیتےکہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آیا کرو۔ ‘‘ اس نے کہا: ’’ مجھےیہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہو ، میں چاہتاہوں کہ مسجد کی طرف آتے ہوئےاوراپنے گھر کی طرف جاتےہوئے میرے لیے ثواب لکھا جائے۔ ‘‘حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ سب تیرے ‏لیے جمع فرمادیاہے۔ ‘‘ ایک اورروایت میں یوں ہےکہ ’’ تجھے تیری نیت کے مطابق ثواب ملے گا۔ ‘‘
(امام نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں )الرَّمْضَاءُسےمرادوہ زمین ہےجہاں سخت گرمی پڑتی ہو۔

شرح حدیث

مسجد کی طرف چلنے کا ثواب:مذکورہ حدیث پاک میں بھی مسجد کی طرف چل کر نماز کے لیے جانے اور اس کے ثواب کا ذکر ہے، نیز اس حدیث پاک میں ایک ایسے خوش نصیب شخص کا تذکرہ ہے جس کا گھر مسجد سے بہت دور تھا مگر اس کی کوئی نماز خطا نہ ہوئی تھی، نیز جب اسے مسجد آنے جانے کے لیے سواری کا مشورہ دیا گیا تو اس نے حصولِ ثواب کی خاطر اس مشورے کو قبول نہ کیا۔یقیناً بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے گھر مسجد سے دور ہوتے ہیں لیکن وہ پھر بھی پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے کی بھرپور سعی کرتے ہیں اور یقیناً بہت بدنصیب ہیں وہ لوگ جن کے گھر مساجد کے بہت قریب ہوتے ہیں لیکن پھر بھی بلا وجہ شرعی اُن کی جماعت بلکہ نماز تک قضا ہوجاتی ہےمَعَاذَ اللہ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
¥
مسجد کی طرف جانےسے متعلق چند ایمان افروز روایات:(1) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ لوگوں میں نماز کازیادہ ثواب پانے والاوہ ہے جس کا راستہ دراز ہو، پھر وہ جس کا راستہ دراز ہواور جو نماز کا انتظار کرے حتی کہ امام کے ساتھ پڑھے اس کا ثواب اس سے زیادہ ہے جو نماز پڑھے پھر سوجائے۔ ‘‘ ( )(2) تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ مشقت کے وقت کامل وضو کرنا اورمسجد کی طرف کثرت سے آمدورفت اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا گناہوں کو اچھی طرح دھودیتا ہے۔ ‘‘ ( )
(3) پیکرِ حُسن وجمال، ، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جومسجد کی طرف چلا یامسجد سے واپس لَوٹا تواللہ عَزَّ وَجَلَّہر آمد ورفت پر اس کے ‏لیے جنت میں ایک مہمان خانہ بنائے گا ۔ ‘‘ ( )
(4) رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کیا میں تمہاری ایسے عمل کی طرف رہنمائی نہ کروں جس کے سبباللہ عَزَّ وَجَلَّگناہ مٹا تا اور درجات بلند فرماتاہے؟ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ ضرور ارشاد فرمائیے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ دُشواری کے وقت کا مل وضو کرنا، مسجد کی طرف کثرت سے جانا اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظارکرنا، پس یہ گناہوں سے حفاظت کے‏لیے قلعہ ہے۔ ‘‘ ( )(5) شہنشاہ ِمدینہ، قرارِقلب وسینہ، فیض گنجینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی کامل وضو کرے پھروہ نَمازکی طرف چلے تو اس کا دایاں قدم اٹھنےسےپہلےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس
کے ‏لیے نیکی لکھتا ہے اور بایاں قدم رکھنےسے پہلے اُس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔اب چاہے تم میں سے کوئی مسجدکے قریب رہے یا دُور۔پھراگروہ مسجد میں حاضر ہو اورباجماعت نَماز ادا کرے تواس کی مغفرت کردی جا تی ہے اور اگر وہ مسجد میں حاضر ہواور کچھ رکعتیں نکل چکی ہوں اور بقیہ نماز مکمل کرلی تو اس کی بھی مغفرت کردی جائے گی اوراگر وہ مسجدمیں جماعت کی نیت سے حاضر ہوا لیکن جماعت ہوچکی تھی (پھر اس نے تنہا نَماز ادا کر لی ) تو اس کی بھی مغفرت کردی جا تی ہے۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
سَیِّدَہ ’’ فاطمہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
نمازی کے ‏لیے مسجد کی طرف پیدل جانے میں ثواب زیادہ ہے۔
(2) نیکی کرتے ہوئے جتنی زیادہ نیّتیں ہوں گی اتنا ہی زیادہ ثواب ملےگا۔
(3) مسجد
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا گھر ہےاوراس میں حاضر ہونے کے آداب ہیں ہر مسلمان کواُن آداب کا خاص خیال رکھنا چاہیے ۔
(4) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبہت زیادہ تکلیف کے باوجودباجماعت نماز ادا کیا کرتے تھے ۔
(5) نماز کے ‏لیے مسجد آنے پر بھی ثواب ہے اور نماز پڑھ کر واپس جانے پر بھی ثواب ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت پہلی صف میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے، جنت میں بلا حساب داخلہ نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 137