- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 139
باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 139
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِم ٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَقُوْلُ:اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَاعَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّاسَیُکَلِّمُہُ رَبُّہُ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ، فَیَنْظُرُ اَ یْمَنَ مِنْہُ فَلَا یَرَ ی اِلاَّ مَا قَدَّمَ، وَ یَنْظُرُ اَشْاَمَ مِنْہُ فَلَا یَرَ ی اِلاَّ مَاقَدَّمَ، وَیَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلَا یَرَ ی اِلّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْہِہِ، فَاتَّقُواالنَّارَوَلَوْبِشِقِّ تَمْرَۃٍ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ. ( )
عن عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ قال:سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم: یقول:اتقوا النار ولو بشق تمرۃ. ( ) وفی روایۃ لہماعنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:مامنکم من احد الاسیکلمہ ربہ لیس بینہ وبینہ ترجمان، فینظر ا یمن منہ فلا یر ی الا ما قدم، و ینظر اشام منہ فلا یر ی الا ماقدم، وینظر بین یدیہ فلا یر ی الا النار تلقاء وجہہ، فاتقواالنارولوبشق تمرۃ، فمن لم یجد فبکلمۃ طیبۃ. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرت سَیِّدُنَا عَدِی بن حاتِمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ آگ سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ہو۔ ‘‘ صحیحین کی ایک روایت میں انہیں سے مروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ عنقریباللہ عَزَّ وَجَلَّتم میں سے ہرایک سے بغیرترجمان کلام فرمائے گا۔آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے اَعمال نظر آئیں گے۔بائیں طرف دیکھے گاتوبھی اَعمال نظر آئیں گے۔ اپنے سامنے دیکھے گا تو دوزخ نظر آئے گی۔ پس جہنم سے بچو!اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو اور جسے یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی گفتگو کے ذریعے ( جہنم سے بچے ) ۔‘‘
شرح حدیث
اعمالِ صالحہ کے ذریعے جہنم سے چھٹکارا :دلیل الفالحین میں ہے: ’’ اَعمالِ صالحہ اورصدقات کے ذریعے اپنے آپ کو عذاب سے بچاؤ۔ صدقہ کرو اگرچہ آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو۔آخرت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّبذات خود بغیر کسی واسطے کے لوگوں سے کلام فرمائے گا ۔بندہ دائیں جانب اپنے وہی نیک اَعمال دیکھے گاجو دنیا میں کر چکا ہے اوربائیں جانب اپنے وہ تمام بُرے اعمال دیکھےگاجودنیا میں کر چکاہے۔ (پس اے لوگو!) اعمالِ صالحہ کوجہنم سےچھٹکارے کا ذریعہ بناؤ، اگر صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز نہ پاؤ تواچھی بات کہہ کر کسی مسلمان کا دل خوش کرواورآگ سے نجات پاؤ۔ ‘‘ ( )مرقاۃالمفاتیح میں ہے: ’’ اچھی بات کے ذریعے جہنم کی آ گ سے بچو۔اس سے مراد یہ ہے کہ ذکرو دعا کرو یاسائل سے اچھی بات کہو، وعدہ پورا کرو، یااچھی اُمید کے ساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کرو۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکا کلام فرمانا:مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ حضرت عدی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) صحابی ہیں ۔یہ حاتم کے بیٹے ہیں ۔یہ حاتم وہ ہے جومشہور سخی گزراہے۔آپ اپنے والدحاتم ابن عبد ابن سعدکی وفات کے بعدشعبان ۷ھ میں ایمان لائے، بعد میں کوفہ میں رہے۔ حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے۔جَمل کے دن آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی تھی۔ایک سو بیس سال کی عمر پائی۔۶۷ھ میں وفات پائی، مقام فرقلیہ میں قبر ہے۔ (عنقریباللہ عَزَّ وَجَلَّتم میں سے ہرایک سے بلا ترجمان کلام فرمائے گا۔) یعنی تم لوگ قیامت میں براہ ِراست بِلاواسطہ اپنے ربّ سے کلام کروگے۔یہ کلام عربی زبان میں ہوگا۔قیامت کا سارا کاروبار بلکہ آج نامۂ اعمال کی تحریر، قبرمیں منکرنکیرکےسوالات سب عربی زبان میں ہیں ۔مرتے ہی انسان کی زبان عربی ہوجاتی ہے۔ربّتعالٰیکے ہاں سرکاری زبان عربی ہے۔اس لیے فرمایا کہ لوگ اپنی دنیاوی بولیاں نہ بولیں گے تاکہ ربّ کا عربی کلام انہیں سمجھانے کے لیے کوئیترجمہکرنے والا درمیان میں ہو۔خیال رہے کہ حضورانورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمخودتو عربی بولتے تھے مگر ساری زبانیں سمجھتے تھے حتی کہ جانوروں کی بولیاں بھی سمجھ لیتے تھے اس لیے اونٹوں چڑیوں نے حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے آستانہ پر فریاد کی اورداد پائی۔اعلیٰ حضرتقُدِّسَ سِرُّہُنے کیا خوب فرمایا:شعر
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہَرْنی داد
اِسی دَر پر شُتَرانِ ناشاد گِلۂ رَنج وعَنا کرتے ہیں
(کَلِمَۂ طَیِّبَہ) یہاں کلمۂ طیبہ سے مرادیا تو کلمۂ شہادت ہے یااللہکا ہر ذکر ہے یا فقیر سے اچھی بات کہہ دینا، معذرت کردینا، آئندہ کے لیے وعدہ کرلینا کہ ابھی کچھ نہیں جب کچھ ہوگا تباِنْ شَآءَ اللہتم کو دیں گے۔ اسی کو قرانِ مجید نے قول معروف فرمایا ہے۔ ‘‘ ( )اچھی بات سے متعلق4 فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ اچھی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روکے رکھو اس طرح تم شیطان پرغالب آجاؤگے۔ ‘‘ ( )(2) ’’ جواللہ عَزَّ وَجَلَّاورقیامت کےدن پرایمان رکھتاہواسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھرخاموش رہے۔ ‘‘ ( )(3) ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندےپررحم فرماتا ہے جس نےاچھی بات کہی اوربھلائی کوپالیایاپھر بری بات کہنےسے خاموش رہا اورسلامتی کو پالیا۔ ‘‘ ( )(4) ’’ آدمی سے اکثرخطائیں اس کی زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ ‘‘ ( )زبان کا قفلِ مدینہ لگائیے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی جو شخص اپنی زبان کو فضول اور لغو باتوں سے بچانے میں کامیاب ہوگیا یقینا ًاس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی، اس نے سلامتی اور بھلائی کو پالیا ۔ اپنی زبان کو فضول اور لایعنی باتوں سے روکنا شیطان کے خلاف بہت بڑا ہتھیار ہے، جو اس ہتھیار کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے وہ شیطان پر غالب آجاتا ہے۔ مگر افسوس! آج ہماری اکثریت فضول باتوں میں اپنے قیمتی وقت کو ضائع کرنے میں مصروفِ عمل نظر آتی ہے، زبان کی سلامتی سے پورا جسم سلامت رہتا ہے، بندہ جب صبح کو اٹھتا ہے تو جسم کے تمام اعضاء زبان سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر آج کے دن تو صحیح رہی تو ہم سب بھی صحیح رہیں گے۔ کاش! ہم سب بھی زبان کا قفلِ مدینہ لگانے والے بن جائیں یعنی اپنی زبان سے فضول اور لغو کلام کرنے کی بجائے، اچھی بات اورذکر اللہکرنے والے بن جائیں ، یقیناً اس میں دنیا وآخرت دونوں کی بے شمار بھلائیاں پوشیدہ ہیں ۔اللہہمیں کر دے عطا قفل مدینہ……… ہر ایک مسلماں لے لگا قفل مدینہ
یاربّ نہ ضرورت کے سوا کچھ کبھی بولوں ………اللہزباں کا ہو عطا قفل مدینہ
بولوں نہ فضول اور رہیں نیچی نگاہیں ………آنکھوں کا زباں کا دے خدا قفل مدینہ
رفتار کا گفتار کا کردار کا دے دے ……… ہر عضو کا دے مجھ کو خدا قفل مدینہ
دوزخ کی کہاں تاب ہے کمزور بدن میں ………ہر عضو کا عطار لگا قفل مدینہ
¥مدنی گلدستہ
’’ کعبہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اَعمالِ صالحہ اورصدقات وخیرات کی برکت سے اِنسان جہنم کی آگ سے آزاد ی حاصل کر لیتا ہے ۔
(2) اگر کوئی صدقہ وخیرات کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو چاہیے کہ اچھی گفتگو کرے کہ یہ بھی اس کےلیے صدقہ ہے ۔
(3) جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّاور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔
(4) آدمی کو اپنی زبان احتیاط سے استعمال کرنی چاہیے کیونکہ اکثر خطائیں زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے وہ ہمیں صدقہ وخیرات کرنے، نیک اعمال خود بھی کرنے اور دوسروں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 139