Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 139

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِم ٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَقُوْلُ:اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَاعَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّاسَیُکَلِّمُہُ رَبُّہُ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ، فَیَنْظُرُ اَ یْمَنَ مِنْہُ فَلَا یَرَ ی اِلاَّ مَا قَدَّمَ، وَ یَنْظُرُ اَشْاَمَ مِنْہُ فَلَا یَرَ ی اِلاَّ مَاقَدَّمَ، وَیَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلَا یَرَ ی اِلّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْہِہِ، فَاتَّقُواالنَّارَوَلَوْبِشِقِّ تَمْرَۃٍ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ. ( )

عن عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ قال:سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم: یقول:اتقوا النار ولو بشق تمرۃ. ( ) وفی روایۃ لہماعنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:مامنکم من احد الاسیکلمہ ربہ لیس بینہ وبینہ ترجمان، فینظر ا یمن منہ فلا یر ی الا ما قدم، و ینظر اشام منہ فلا یر ی الا ماقدم، وینظر بین یدیہ فلا یر ی الا النار تلقاء وجہہ، فاتقواالنارولوبشق تمرۃ، فمن لم یجد فبکلمۃ طیبۃ. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَا عَدِی بن حاتِمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ آگ سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ہو۔ ‘‘ صحیحین کی ایک روایت میں انہیں سے مروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ عنقریباللہ عَزَّ وَجَلَّتم میں سے ہرایک سے بغیرترجمان کلام فرمائے گا۔آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے اَعمال نظر آئیں گے۔بائیں طرف دیکھے گاتوبھی اَعمال نظر آئیں گے۔ اپنے سامنے دیکھے گا تو دوزخ نظر آئے گی۔ پس جہنم سے بچو!اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو اور جسے یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی گفتگو کے ذریعے ( جہنم سے بچے ) ۔‘‘

شرح حدیث

اعمالِ صالحہ کے ذریعے جہنم سے چھٹکارا :دلیل الفالحین میں ہے: ’’ اَعمالِ صالحہ اورصدقات کے ذریعے اپنے آپ کو عذاب سے بچاؤ۔ صدقہ کرو اگرچہ آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو۔آخرت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّبذات خود بغیر کسی واسطے کے لوگوں سے کلام فرمائے گا ۔بندہ دائیں جانب اپنے وہی نیک اَعمال دیکھے گاجو دنیا میں کر چکا ہے اوربائیں جانب اپنے وہ تمام بُرے اعمال دیکھےگاجودنیا میں کر چکاہے۔ (پس اے لوگو!) اعمالِ صالحہ کوجہنم سےچھٹکارے کا ذریعہ بناؤ، اگر صدقہ کرنے کے ‏لیے کوئی چیز نہ پاؤ تواچھی بات کہہ کر کسی مسلمان کا دل خوش کرواورآگ سے نجات پاؤ۔ ‘‘ ( )مرقاۃالمفاتیح میں ہے: ’’ اچھی بات کے ذریعے جہنم کی آ گ سے بچو۔اس سے مراد یہ ہے کہ ذکرو دعا کرو یاسائل سے اچھی بات کہو، وعدہ پورا کرو، یااچھی اُمید کے ساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کرو۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکا کلام فرمانا:مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ حضرت عدی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) صحابی ہیں ۔یہ حاتم کے بیٹے ہیں ۔یہ حاتم وہ ہے جومشہور سخی گزراہے۔آپ اپنے والدحاتم ابن عبد ابن سعدکی وفات کے بعدشعبان ۷ھ میں ایمان لائے، بعد میں کوفہ میں رہے۔ حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے۔جَمل کے دن آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی تھی۔ایک سو بیس سال کی عمر پائی۔۶۷ھ میں وفات پائی، مقام فرقلیہ میں قبر ہے۔ (عنقریباللہ عَزَّ وَجَلَّتم میں سے ہرایک سے بلا ترجمان کلام فرمائے گا۔) یعنی تم لوگ قیامت میں براہ ِراست بِلاواسطہ اپنے ربّ سے کلام کروگے۔یہ کلام عربی زبان میں ہوگا۔قیامت کا سارا کاروبار بلکہ آج نامۂ اعمال کی تحریر، قبرمیں منکرنکیرکےسوالات سب عربی زبان میں ہیں ۔مرتے ہی انسان کی زبان عربی ہوجاتی ہے۔ربّتعالٰیکے ہاں سرکاری زبان عربی ہے۔اس ‏لیے فرمایا کہ لوگ اپنی دنیاوی بولیاں نہ بولیں گے تاکہ ربّ کا عربی کلام انہیں سمجھانے کے لیے کوئیترجمہکرنے والا درمیان میں ہو۔خیال رہے کہ حضورانورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمخودتو عربی بولتے تھے مگر ساری زبانیں سمجھتے تھے حتی کہ جانوروں کی بولیاں بھی سمجھ لیتے تھے اس لیے اونٹوں چڑیوں نے حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے آستانہ پر فریاد کی اورداد پائی۔اعلیٰ حضرتقُدِّسَ سِرُّہُنے کیا خوب فرمایا:شعر
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہَرْنی داد
اِسی دَر پر شُتَرانِ ناشاد گِلۂ رَنج وعَنا کرتے ہیں
(
کَلِمَۂ طَیِّبَہ) یہاں کلمۂ طیبہ سے مرادیا تو کلمۂ شہادت ہے یااللہکا ہر ذکر ہے یا فقیر سے اچھی بات کہہ دینا، معذرت کردینا، آئندہ کے ‏لیے وعدہ کرلینا کہ ابھی کچھ نہیں جب کچھ ہوگا تباِنْ شَآءَ اللہتم کو دیں گے۔ اسی کو قرانِ مجید نے قول معروف فرمایا ہے۔ ‘‘ ( )اچھی بات سے متعلق4 فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ اچھی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روکے رکھو اس طرح تم شیطان پرغالب آجاؤگے۔ ‘‘ ( )
(2) ’’ جواللہ عَزَّ وَجَلَّاورقیامت کےدن پرایمان رکھتاہواسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھرخاموش رہے۔ ‘‘ ( )(3) ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندےپررحم فرماتا ہے جس نےاچھی بات کہی اوربھلائی کوپالیایاپھر بری بات کہنےسے خاموش رہا اورسلامتی کو پالیا۔ ‘‘ ( )(4) ’’ آدمی سے اکثرخطائیں اس کی زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ ‘‘ ( )زبان کا قفلِ مدینہ لگائیے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی جو شخص اپنی زبان کو فضول اور لغو باتوں سے بچانے میں کامیاب ہوگیا یقینا ًاس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی، اس نے سلامتی اور بھلائی کو پالیا ۔ اپنی زبان کو فضول اور لایعنی باتوں سے روکنا شیطان کے خلاف بہت بڑا ہتھیار ہے، جو اس ہتھیار کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے وہ شیطان پر غالب آجاتا ہے۔ مگر افسوس! آج ہماری اکثریت فضول باتوں میں اپنے قیمتی وقت کو ضائع کرنے میں مصروفِ عمل نظر آتی ہے، زبان کی سلامتی سے پورا جسم سلامت رہتا ہے، بندہ جب صبح کو اٹھتا ہے تو جسم کے تمام اعضاء زبان سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر آج کے دن تو صحیح رہی تو ہم سب بھی صحیح رہیں گے۔ کاش! ہم سب بھی زبان کا قفلِ مدینہ لگانے والے بن جائیں یعنی اپنی زبان سے فضول اور لغو کلام کرنے کی بجائے، اچھی بات اورذکر اللہکرنے والے بن جائیں ، یقیناً اس میں دنیا وآخرت دونوں کی بے شمار بھلائیاں پوشیدہ ہیں ۔اللہہمیں کر دے عطا قفل مدینہ……… ہر ایک مسلماں لے لگا قفل مدینہ
یاربّ نہ ضرورت کے سوا کچھ کبھی بولوں ………
اللہزباں کا ہو عطا قفل مدینہ
بولوں نہ فضول اور رہیں نیچی نگاہیں ………آنکھوں کا زباں کا دے خدا قفل مدینہ
رفتار کا گفتار کا کردار کا دے دے ……… ہر عضو کا دے مجھ کو خدا قفل مدینہ
دوزخ کی کہاں تاب ہے کمزور بدن میں ………ہر عضو کا عطار لگا قفل مدینہ
¥
مدنی گلدستہ
’’ کعبہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
اَعمالِ صالحہ اورصدقات وخیرات کی برکت سے اِنسان جہنم کی آگ سے آزاد ی حاصل کر لیتا ہے ۔
(2) اگر کوئی صدقہ وخیرات کے ‏لیے کوئی چیز نہ پائے تو چاہیے کہ اچھی گفتگو کرے کہ یہ بھی اس کے‏لیے صدقہ ہے ۔
(3) جو شخص
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔
(4) آدمی کو اپنی زبان احتیاط سے استعمال کرنی چاہیے کیونکہ اکثر خطائیں زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے وہ ہمیں صدقہ وخیرات کرنے، نیک اعمال خود بھی کرنے اور دوسروں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 139