باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 2

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو مُنْذِر اُبَیّ بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ ایک آدمی تھا، میں نہیں جانتا کہ اس سے زیادہ کوئی مسجد سے دُور رہتا ہو۔اس کی کوئی نماز خطا نہ ہو تی تھی۔ اسے کہا گیا یا میں نے اسے کہا کہ ’’ تم ایک گدھاکیوں نہیں خریدلیتےکہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آیا کرو۔ ‘‘ اس نے کہا: ’’ مجھےیہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہو ، میں چاہتاہوں کہ مسجد کی طرف آتے ہوئےاوراپنے گھر کی طرف جاتےہوئے میرے لیے ثواب لکھا جائے۔ ‘‘حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ سب تیرے ‏لیے جمع فرمادیاہے۔ ‘‘ ایک اورروایت میں یوں ہےکہ ’’ تجھے تیری نیت کے مطابق ثواب ملے گا۔ ‘‘
(امام نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں )الرَّمْضَاءُسےمرادوہ زمین ہےجہاں سخت گرمی پڑتی ہو۔

عَنْ اَبیْ الْمُنْذِرِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ لَا اَعْلَمُ رَجُلًا اَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ، وَکَانَ لَا تُخْطِئُہُ صَلَاۃٌ فَقِیْلَ لَہُ، اَ وْ فَقُلْتُ لَہُ: لَوْ اِشْتَرَ یْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہُ فِی الظَّلْمَاءِ؟ وَفِی الرَّمْضَاءِ؟ فَقَالَ: مَا یَسُرُّ نِی اَنَّ مَنْزِلِیْ اِلٰی جَنْبِ الْمَسْجِدِ، اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ یُکْتَبَ لِیْ مَمْشَایَ اِلَی الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِی اِذَا رَجَعْتُ اِلٰی اَہْلِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَمَعَ اللّٰہُ لَکَ ذَلِکَ کُلَّہُ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:اِنَّ لَکَ مَااِحْتَسَبْتَ. ( )
(قَالَ النَّوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) اَلرَّمْضَاءُ:اَلْاَرْضُ الَّتِی اَصَابَہَا الْحَرُّ الشَّدِیْدُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 137 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان

: حضرت سَیِّدُنَا ابو محمدعبد اللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ 40خصلتیں ہیں اور ان میں سے سب سے اعلیٰ یہ ہے کہ کسی کو عاریۃً دودھ والی بکری دینا، جو کوئی ان خصلتوں میں سے کسی خصلت پرثواب کی امید کرتے ہوئے اور جو اس پر وعدہ ہے اس کی تصدیق کرتے ہوئے عمل کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ‘‘
(علامہ نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں :)اَلْمَنِیْحَۃُکسی کوجانوردینا تاکہ وہ اس کا دودھ پی کر لوٹا دے ۔

عَنْ اَبِی مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَال: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَرْبَعُوۡنَ خَصْلَةً اَعْلَاهَا مَنِيۡحَةُ الْعَنْزِ، مَامِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَارَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيۡقَ مَوْعُوۡدِهَا اِلَّا اَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ. ( )
(قَالَ النَّوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) اَلْمَنِیْحَۃُ، اَنْ یُّعْطِیَہُ اِیَّاھَا لِیَاۡکُلَ لَبَنَھَا ثُمَّ یَرُدَّھَا اِلَیْہِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 138 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان

:حضرت سَیِّدُنَا عَدِی بن حاتِمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ آگ سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ہو۔ ‘‘ صحیحین کی ایک روایت میں انہیں سے مروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ عنقریباللہ عَزَّ وَجَلَّتم میں سے ہرایک سے بغیرترجمان کلام فرمائے گا۔آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے اَعمال نظر آئیں گے۔بائیں طرف دیکھے گاتوبھی اَعمال نظر آئیں گے۔ اپنے سامنے دیکھے گا تو دوزخ نظر آئے گی۔ پس جہنم سے بچو!اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو اور جسے یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی گفتگو کے ذریعے ( جہنم سے بچے ) ۔‘‘

عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِم ٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَقُوْلُ:اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَاعَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّاسَیُکَلِّمُہُ رَبُّہُ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ، فَیَنْظُرُ اَ یْمَنَ مِنْہُ فَلَا یَرَ ی اِلاَّ مَا قَدَّمَ، وَ یَنْظُرُ اَشْاَمَ مِنْہُ فَلَا یَرَ ی اِلاَّ مَاقَدَّمَ، وَیَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلَا یَرَ ی اِلّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْہِہِ، فَاتَّقُواالنَّارَوَلَوْبِشِقِّ تَمْرَۃٍ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 139 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان

:حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے سے خوش ہوتا ہےجو کھانا کھا کراس کی حمد کرے یا پانی پی کر اس کی حمد کرے۔ ‘‘

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللَّهَ لَيَرْضٰى عَنِ الْعَبْدِ اَنْ يَاْكُلَ الْاَ كْلَةَ فَيَحْمَدُهُ عَلَيْهَا اَ وْيَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدُهُ عَلَيْهَا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 140 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ آپ کیا فرماتے ہیں ، اگر اسے (صدقہ کے ‏لیے کوئی شے) میسر نہ آئے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ اپنے ہاتھ سے کام کرے پھر خودبھی فائدہ اٹھائے اورصدقہ بھی کرے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ ضرورت مند، مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ آپ کی کیا رائے ہے اگراس کی بھی طاقت نہ ہو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ نیکی یا بھلائی کا حکم دے۔ ‘‘ عرض کیا: ’’ اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟ ‘‘ فرمایا : ’’ بُرائی سے بچے کہ یہ بھی صدقہ ہے۔ ‘‘

عَنۡ اَبِی مُوۡسٰی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ. قَالَ: اَرَاَيْتَ اِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ. قَالَ: اَرَاَ يْتَ اِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يُعِيۡنُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوۡفَ. قَالَ: اَرَاَ يْتَ اِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يَاۡمُرُ بِالْمَعْرُوفِ اَوِالْخَيْرِ.قَالَ اَرَاَ يْتَ اِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَاِ نَّهَا صَدَقَةٌ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 141 ، باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان