Main Icon

باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 890

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قِصَّةً، قَالَ فِيهَا:فَدَنَوْنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلْنَا يَدَهُ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قصة، قال فيها:فدنونا من النبي صلى الله عليه وسلم فقبلنا يده.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبدُاللّٰہبِن عُمَررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ایک واقِعہ مروی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں:’’ہم حُضُور نَبی اَکْرَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب ہوئے اور آپ کی دست بوسی کی۔‘‘

شرح حدیث

بزرگوں کی دست بوسی سنّت ہے:اِس حدیث شریف سے معلو م ہوا کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دَستِ اَطہر کو بوسہ دیا کرتے تھے۔اَعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”بُزرْگانِ دِین کی قدم بوسی بِلا شُبہ جائز بلکہ سنّت ہے۔ بَکَثرت اَحادیث سے ثابِت ہے کہ صَحابہ کِرامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْنےحُضُور اَقْدَسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے پائے مُبارَک چُومے اور حُضُور نے منع نہ فرمایا۔“(ایک مقام پر اِرشاد فرمایا:)”عُلَمائے دِین ومَشائِخ ِصالِحین کی دست بوسی وقدم بوسی سنّت ہے۔“ (ایک جگہ اِرشاد فرمایا:)”مُرشِد ِبَرْحقّ کی قدم بوسی سنّت ہے۔“شیخ المشائخ بابا فَرِیدُ الدِینرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”قِیامت کے دِن بَہت سارے گُناہگار، بُزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمبینکی دست بو سی کی بَرَکت سے بخشے جائیں گے اور دوزخ کے عذاب سے نجات حاصل کریں گے۔“مدنی گلدستہ’’شیرِ خدا‘‘کے6حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکو رہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے 6 مدنی پھول
(1) بُزرْگوں کی دست بوسی وقدم بوسی جائز بلکہ سنّت ہے۔
(2)
بوسہ دینا اگر شَہوَت کے ساتھ ہو تو ناجائز ہے اور اِکرام و تعظیم کے لیے ہو تو جائز ہے۔(3)کسی بُزرگ کی قدم بوسی کریں تو اس کے سامنےکی زمین کو بوسہ دینا حرام ہے۔(4)عورت کا عورت سے ملاقات کرتے وقت یا رُخصت ہوتے وقْت مُنہ یا رُخسار چُومنا مکروہ ہے۔
(5) قِیامت کے دن بَہت سے گناہ گار بُزرگوں کی دست بوسی کی بَرَکت سےبخشے جائیں گے۔
(6) عُلَمائے دِین ومشائخ صالحین
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْمُبِیْنکی دست بوسی وقدم بوسی سنت ہے ،اسی طرح اپنے مرشدِ برحق کی قدم بوسی سنت ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں بُزرْگوں کی دسْت بوسی وقدم بوسی کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 890