Main Icon

باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 893

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَبَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ الْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: اِنَّ لِيْ عَشْرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ اَحَدًا.فَقَالَ رَسْوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:قبل النبي صلى الله عليه وسلم الحسن بن علي رضي الله عنهما فقال الاقرع بن حابس: ان لي عشرة من الولد ما قبلت منهم احدا.فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من لا يرحم لا يرحم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَبُوہُرَیْرَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبَیان کرتے ہیں کہ حُضُور نبیّ اَکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے نواسے حضرت سَیِّدُنا حسن بن علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا بوسہ لیا توحضرت سَیِّدُنا اَقْرَع بن حابِسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُعرض گُزار ہوئے:”میرے دس بیٹے ہیں،میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا۔“رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“

شرح حدیث

مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”بچّوں کو چُومنا بوسہ ٔ رحمت ہے جس کے دل میں رحم نہیں اس پرخدا تعالیٰ بھی رحم نہیں کرتا۔اس حدیث کی بِنا پر بعض عُلَماء نے فرمایا کہ اپنے ننھے بچّوں کو کبھی کبھی چُومنا واجب ہے۔“بوسہ کی اَقسام:بہارِ شریعت میں ہے:بوسہ کی چھ قسمیں ہیں: (1) بوسۂ رحمت، جیسے والِدَین کا اَولاد کو بوسہ دینا۔ (2) بوسہ ٔشفقت، جیسے اَولاد کا والِدین کو بوسہ دینا۔ (3) بوسہ ٔمَحبَّت، جیسے ایک شخص اپنے بھائی کی پیشانی کو بوسہ دے۔ (4) بوسہ ٔ تَحِیَّت، جیسے بَوقْتِ ملاقات ایک مُسلم دوسرے مُسلم کو بوسہ دے۔ (5) بوسہ ٔ شَہْوَت، جیسے مرد عورت کو بوسہ دے اور(6) ایک قِسم بوسہ ٔ دیانت ہے، جیسے حَجَر ِاَسْوَد کا بوسہ۔( )مدنی گلدستہ’’حجرِ اسود‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے غلام حضرت سیدنا زید بن حارثہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےبہت زیادہ محبت تھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔
(2) اپنے مسلمان بھائی سے ملتے وقت خوشی کا اظہار کرنا نیکی ہے۔
(3) مبلغ کی ایک مسکراہٹ کسی کی گناہوں بھری زندگی کو نیکیوں بھری بنا سکتی ہے جبکہ ایک مرتبہ کی بے رُخی کسی کا دِل توڑ کر اسے گمراہی ومعصیت کے گہرے گڑھے میں گِرا سکتی ہے ۔
(4) دورانِ گفتگو ضرورتاًمسکراتے رہنا چاہیے کہ نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتِ مبارکہ ہے۔
(5) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبچوں سے بہت پیار فرماتے اورحسنین کریمینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاپر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خاص نظرعنایت تھی ۔
(6) اِنسان دوسروں کے ساتھ جیسا سُلوک کرتا ہے اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سُلوک کیا جاتا ہے۔
(7) اپنے چھوٹے بچّوں کاوقتاً فوقتاً بوسہ لیتے رہنا چاہیے کہ اس سے بچے اپنائیت محسوس کرتے ہیں اور والدین کی قدر ومَنزِلت میں اضافہ ہوتاہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں لوگوں پر رحم کرنے اور اپنی اَولاد کا شفقت سے بوسہ لینے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 893