Main Icon

باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1052

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَن بُرَيْدَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهُ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ.

عن بريدةرضی اﷲ عنہ قال: قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم:من ترك صلاة العصر فقد حبط عمله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا بُریدہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمنےارشاد فرمایا:”جس نے عصر کی نماز چھوڑ ی اس کا عمل برباد ہوگیا۔‘‘

شرح حدیث

عمل برباد ہونے سے کیا مراد ہے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں:عمل کی بربادی سے مراد یہ ہےکہ جس نے کسی دن جان بوجھ کرعصر کی نماز چھوڑدی اس دن اس کے عمل کے ثواب کاکامل ہونا باطل ہوگیا ۔ عصر کی نماز کا خصوصیت سے ذکراس لئے ہواکہ عصر کی نماز قضا کرنا دوسری کسی نماز کوقضا کرنےسے زیادہ براہے کیونکہ یہ صلوٰۃِ وُسطیٰ ہےجس کی حفاظت کا خصوصی طورپر حکم دیا گیاہے ۔
حضرت سَیِّدُنا امام
مُہَلَّب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّبّفرماتے ہیں:حدیثِ پاک کا مطلب یہ ہےکہ جس نے عصر کی نمازترک کرکے ضائع کی یاوقت میں ادائیگی پر قدرت کے باوجود محض سُستی کی وجہ سے وقت پر نہ پڑھی تو اس کی اس نماز کا ثواب ضا ئع ہوگیا یعنی وہ اس ثواب سے محروم ہوگیا جو وقت پر اداکرنے کی صورت میں ملتا اور اس کے لئے کوئی ایسا عمل نہ بچا جسے فرشتے لے کر جائیں ۔
شارِحِ بخاری علامہ سیدمحموداحمدرضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:حبطِ عمل(عمل ضائع ہونا) کفر کی وجہ سے ہوتاہے اور ظاہر ہے کہ عصر کی نماز بوجہِ سُستی نہ پڑھنا کفر نہیں ہے بلکہ گناہِ عظیم ہے، توحدیث میں حبطِ عمل محض وعید ِشدید کے طور پر فرمایا گیا ہے تاکہ لوگوں پرنمازِ عصر کی اہمیت وعظمت کا اظہار ہو اور اگر حقیقی معنیٰ لئے جائیں تومطلبِ حدیث یہ ہوگا کہ جس نے نماز کی فرضیت سے انکار کرکے اس کو چھوڑ دیا اس کے عمل حبط ہوجائیں گے کیونکہ فرضیت نماز کاانکار کفر ہے ۔
شیخ عبد الحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:نیک عمل حقیقت میں اس وقت باطل وضائع ہوتا ہے جبکہ انسان کفرو اِرتداد(اِسلام سے نکل جانا اور دِین سے پھرجانا) اختیار کرے یا کفر و اِرتداد پر اس کی موت واقع ہوجائے لہٰذا حدیثِ پاک میں عمل برباد ہونے سے مراد شدید وعید اور نقصانِ ثواب میں مُبالغہ (زیادتی) مقصود ہے کہ اس نے اتنی افضل ترین نماز ضائع کردی۔ایک روایت میں یہاں مطلق فرض نماز کا ذِکر بھی آیا ہے۔اسی وجہ سے امام احمد بن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْاَکْرَمکا مذہب یہ ہے کہ جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والا کافر ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(یہاں ) غالبًاعمل سے مرادوہ دُنیوی کام ہے جس کی وجہ سے اس نے نمازِ عصرچھوڑی۔ضبطی (عمل کی بربادی) سے مراداس کام کی برکت کا ختم ہونا ہےیایہ مطلب ہے کہ جو عصر چھوڑنے کاعادی ہو جائےاس کے لئے اندیشہ ہے کہ وہ کافرہوکر مرے جس سے اَعمال ضبط ہو جائیں۔( مگر )اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عصرچھوڑنا کفر و اِرتدادہے۔
¥گھر باراور مال کا لٹنا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نمازِعصر کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔حدیثِ پاک میں اس کی خوب ترغیب دلائی گئی ہے اور اس کے ترک کرنے پر وعیدات سنائی گئی ہیں۔ایک حدیثِ پاک میں تو نمازِعصر قضا کرنے کو گھر بار اور مال لٹنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس شخص کی نمازِ عصر قضا ہوگئی گویا اس کا گھر بار اور مال لٹ گیا۔“
اس کی شرح کرتے ہوئے علامہ سیدمحموداحمدرضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث میں نمازِعصر کی اہمیت وعظمت کا اظہار ہےکہ نمازِعصر کی محافظت نہ کرنا، قضا کردینا،وقت مکروہ تک ملتوی کر دینا اس کے پورے ثواب سے محروم ہوجانا ہے جوعصر کے لئے مقررہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’ نمازِ عصر‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) عصر کی نمازچھوڑنا دوسری کسی نماز کوچھوڑنے سے زیادہ بُراہے۔
(2) نمازِ عصر کو صلوۃِ وُسْطیٰ یعنی درمیانی نماز کہاگیا ہےاور اس کی حفاظت کا خصوصی حکم دیا گیاہے۔
(3) پنج وقتہ نماز میں سے کسی بھی نمازکی فرضیت کاانکار کفر ہے۔
(4) جو عصر چھوڑنے کاعادی ہوجائےاس کے لئے اندیشہ ہے کہ وہ کافرہوکر مرے۔
(5) نماز ِعصر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس نےیہ نماز چھوڑ دی گویا اس کا گھر بار، مال واسباب سب کچھ لٹ گیا۔
(6) نیک عمل حقیقت میں اس وقت باطل وضائع ہوتا ہے جبکہ انسان کفرو اِرتداد اختیار کرے یا کفر و اِرتداد پر اس کی موت واقع ہو۔
(7) امام احمد بن حنبل
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْاَکْرَمکے نزدیک جان بوجھ کر نماز ترک کرنا کفر ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں تمام نمازوں بالخصوص فجر وعصرکی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اعمال کو برباد ہونے سے بچائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1052