Main Icon

باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1050

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: يَتَعَاقَبُوْنَ فِيْكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِوَيجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوْا فِيْكُمْ فَيَسْئَلُهُمُ اللهُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِيْ؟فَيقُولُونَ:تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ وَاَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ.

عن ابی هريرة رضی اﷲ عنہ قال:قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم: يتعاقبون فيكم ملائكة بالليل وملائكة بالنهارويجتمعون فی صلاة الصبح وصلاة العصر ثم يعرج الذين باتوا فيكم فيسئلهم الله وهو اعلم بهم كيف تركتم عبادي؟فيقولون:تركناهم وهم يصلون واتيناهم وهم يصلون.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اورفجر وعصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔پھرجورات بھرتمہارے پاس رہے جب وہ واپس اوپر جاتے ہیں تواﷲ عَزَّ وَجَلَّسب کچھ خوب جاننے کے باوجودان سے پوچھتاہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟وہ عرض کرتے ہیں : ہم انہیں نماز کی حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں اور جب ہم ان کےپا س گئے تھے تب بھی انہیں نماز ہی میں پایا تھا ۔

شرح حدیث

فرشتوں سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہاں فرشتوں سے مرادیاتو اَعمال لکھنے والے دو فرشتے ہیں یا انسان کی حفاظت کرنے والے ساٹھ فرشتے۔ہرنابالغ کے ساتھ ساٹھ فرشتے رہتے ہیں اور بالغ کے ساتھ۶۲۔اسی لئے نماز کے سلام اور دیگر سلاموں میں ان کی نیت کی جاتی ہے،ان ملائکہ کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں دن میں اور رات میں،مگر فجروعصرمیں پچھلے فرشتے جانے نہیں پاتے کہ اگلے ڈیوٹی والے آجاتے ہیں تاکہ ہماری ابتداءوانتہا کے گواہ زیادہ ہوں۔(پھر جب فرشتے جاتے ہیں )اپنے ہیڈکوارٹرکی طرف جہاں ان کا مقام ہے۔( تواﷲ عَزَّ وَجَلَّان سے اپنے بندوں کے بارے میں سوال کرتاہے )یہ سوال یا تو ان فرشتوں کوگواہ بنانے کے لئے ہے یانمازوں کی عظمت ان کے دلوں میں قائم کرنے کے لئے کیونکہ انسان کی پیدائش کے وقت فرشتوں نے کہاتھا کہ اے ربّ! تو فسادی اورخون ریزیاں کرنے والوں کو خلافت کیوں دے رہا ہے؟معلوم ہوا کہ پوچھنابے علمی کی دلیل نہیں اگرحضور نے کسی سے کوئی بات پوچھی تواس سے آپ کی بے علمی ثابت نہیں ہوتی۔(فرشتے عرض کرتے ہیں:ہما ری آمد و واپسی کے وقت وہ نماز میں تھے)اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ فرشتے نمازیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں کہ آس پاس کی نیکیوں کاذکراور درمیان کے گناہوں سے خاموشی یا یہ مطلب ہے کہ اے مولا!جن بندوں کی ابتدااورانتہا ایسی اعلیٰ ہوان کے درمیانی اعمال بھی اچھے ہوں گےجس دکان کی بونی اچھی ہو اس میں ہمیشہ برکت ہی رہتی ہے۔
¥ملائکہ شب سے ہی پوچھنے کی وجہ:
شیخ عبد الحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں :فجر وعصر کو یہ خصوصی فضیلت حاصل ہے کہ اس میں صبح اور شام کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔ملائکۂ شب ہی سے پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ رات کا عمل افضل اور صِدق واِخلاص کے اعتبار سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ علما نے یہ وجہ بھی بیان کی ہے کہ رات کے فرشتے دن کے فرشتوں سے افضل ہیں۔حدیث سےمعلوم ہونے والے مسائل:”فُیوض الباری“میں ہے:حدیثِ ہٰذا مسائلِ ذیل پر مشتمل ہے:
(1)دن اوررات کےفرشتے نمازِفجر وعصر میں جمع ہوتے ہیں یہ
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکاخاص فضل وکرم ہے کہ ایسے اوقات میں یہ جمع ہوتے ہیں جبکہ بندگان ِ خداکی جبینیں اس کے حضورجھکی ہوتی ہیں اور ملائکہ اس بات کی شہادت دیتے ہیں جووہ مشاہدہ کرتے ہیں ۔
(2)نماز عبادات میں ایک نہایت ہی اعلیٰ عبادت ہے اور فجر وعصر ان میں اعظم ہے۔
(3)اس حدیث میں اس طرف ا شارہ بھی ہے کہ رزق کی تقسیم فجر کے وقت اوراعمال عصر کے وقت اٹھتے ہیں تو جو شخص ان دونوں وقتوں میں مصروف ِعبادت ہوتاہے اس کے رزق وعمل میں برکت دی جاتی ہے۔ (4) ملائکہ بھی
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے ہم کلامی کاشرف حاصل کرتے ہیں۔
(5)اس حدیث سے یہ بھی واضح ہواکہ سوال کرنا ہر موقع ومحل پر مسائل کے عدمِ علم پر دلالت نہیں کرتا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے باوجودعَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ(ہرظاہروچھپی چیز کاجاننے والا)ہونے کے ملائکہ سے سوال کرنے میں حکمت یہ تھی کہ ملائکہ گواہ ہوجائیں یا یہ حکمت تھی کہ اس سوال سے ملائکہ پر اس امرکا اظہار تھاکہ بنی آدم میں بھی تمہاری طرح تقدیس و تسبیح کرنے والے موجود ہیں کیونکہ ملائکہ نے خلقِ آدم کے وقت عرض کی تھی:﴿ اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا﴾(پ۱،البقرۃ:۳۰)(ترجمۂ کنز الایمان: کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے۔)مدنی گلدستہ’’نماز‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) فجر اور عصر کی نماز میں دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔
(2) ہر نابالغ کے ساتھ ساٹھ(60)محافظ فرشتےاور بالغ کے ساتھ باسٹھ(62)محافظ فرشتےہوتے ہیں۔
(3) نماز عبادات میں ایک نہایت ہی اعلیٰ عبادت ہے اور فجر وعصر ان میں سے اعظم ہے۔
(4) رزق کی تقسیم فجر کے وقت اوراعمال عصر کے وقت اٹھائے جاتے ہیں تو جو شخص ان دونوں وقتوں میں مصروف ِعبادت ہوتاہے اس کے رزق وعمل میں برکت دی جاتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں پانچوں نمازیں پابندی سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1050