Main Icon

باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 915

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَنِی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُوْدُنِیْ مِنْ وَجَعٍ اِشَتَدَّ بِیْ فَقُلْتُ:بَلَغَ بِیْ مَا تَرَى وَاَنَا ذُوْ مَالٍ وَلَا يَرِثُنِیْ اِلَّا ابْنَتِي.

عن سعد بن ابی وقاص رضي اللہ عنه قال:جاءنی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم يعودنی من وجع اشتد بی فقلت:بلغ بی ما ترى وانا ذو مال ولا يرثنی الا ابنتي.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں ایک شدید مرض میں مبتلا تھا۔اس مرض میںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میری عیادت فرمائی تو میں نے عرض کی: ”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ دیکھ رہے ہیں میں کس مرض میں مبتلا ہوں اور میں مالدار ہوں اور میری وارث میری ایک ہی بیٹی ہے۔“

شرح حدیث

حدیث کی باب سے مناسبت:یہ باب اس بارے میں ہے کہ مریض کے لیے جائز ہے کہ وہ یہ کہے: مجھے درد ہے، شدید درد ہے یا مجھے بخار ہے جبکہ بطور ِجزع فزع نہ ہو۔اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیِّنے یہ حدیث اِس باب میں اِس لیے ذِکر کی جب نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی عیادت فرمائی تو انہوں نے اپنے مرض کا ذِکر ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے کیا نہ کہ شکایت یا بے صبری کی وجہ سے۔ مسئلہ یہ تھا کہ حضرت سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمالدار تھے اوران کی وارث صرف ایک ہی بیٹی تھی۔وہ یہ چاہتے تھے کہ اپنا دو تہائی یا نصف مال صدقہ کردیں ۔نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے منع فرمایا اور ایک تہائی مال کی وصیت کرنے کی اجازت دی۔پھر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا مبارک ہاتھ حضرت سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی پیشانی پر رکھ کرچہرے اور پیٹ پر پھیرا جس کی برکت سے وہ شفایاب ہوگئے۔مریض کی پیشانی پر ہاتھ رکھنا سنت ہے:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں کہ بسا اوقات جب عیادت کرنے والا مریض کے درد کی جگہ پر ہاتھ پھیرتا ہے تو اس سے مریض کوفائدہ ہوتا ہےکہ عیادت کرنے والا نیک یا بزرگ ہستی ہوتا ہے تو مریض اس کے ہاتھ اور دُعا سے برکت پاتا ہے، جیسا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی عیادت فرمائی اور ان کی پیشانی پر دستِ مبارک رکھا اور یہ مریض کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے آداب میں سے ہے اور سنت بھی ہے لہٰذا نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ہر سنت پر عمل کرنا چاہیے اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتدا کرنی چاہیے۔
نوٹ: مذکورہ حدیثِ پاک کی تفصیلی شرح کیلئے فیضان ریاض الصالحین،جلد1،صفحہ81،حدیث نمبر6 کا مطالعہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’سُنَّت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) کسی عالِم دِین سے مسئلہ دریافت کرنے کے لیے اپنی بیماری کا اِظہار کرنا جائز ہے۔
(2) مریض کی پیشانی پر ہاتھ رکھنا نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔
(3) عیادت کرنے والے کو چاہیے کہ مریض کی صحت یابی کی دعا کرے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق عیادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 915