Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 270

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ شُرَيحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرو الْخَزَاعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَللّٰهُمَّ اِنِّي اُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيْفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْاَةِ.( )

وعن ابي شريح خويلد بن عمرو الخزاعي رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم : اللهم اني احرج حق الضعيفين اليتيم والمراة.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (بارگاہِ الہی)میں عرض کی : ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں دو کمزور انسانوں یتیم اور عورت کا حق (ضائع کرنا خاص طور پر) حرام قرار دیتاہوں۔ ‘‘

شرح حدیث

مشکل لفظ کا معنیٰ : اُحَرِّجُ:∞اس کا معنی یہ ہے کہ میں اس شخص کے ساتھ حرج و گناہ لاحق کرتا (یعنی اسے گناہگار قرار دیتا) ہوں جو یتیم اور عورت کا حق ضائع کرے اور اس چیز سے واضح طور پر ڈراتا ہوں اور بڑی شدت سے اس کے بارےمیں زجر و توبیخ کرتا ہوں۔دو اہم مسائل کی وضاحت:مذکورہ بالا حدیث سے اِجمالی طور پر دو اہم مسئلے معلوم ہوئے : (1) اِسلام وہ پیارا دِین ہے جس میں کمزور انسانوں کے حقوق کو ضائع کرنے کی نہیں بلکہ اُن کے حقوق کے تحفظ کی ترغیب دلائی جاتی ہے ، اِسلام میں کسی بھی کمزور شخص خصوصاً یتیم اور عورت پر بلا وجہ شرعی سختی کرنے یا اُس کی حق تلفی کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ (2) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی بھی چیز کے حلال یا حرام فرمانے کا اختیار عطا فرمایا ہے ، آپ اپنی اُمَّت میں سے جس کے لیے جو چاہیں حلال فرمادیں اور جو چاہیں حرام فرمادیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کسی چیز کو حرام یا حلال فرمانا دراصل رب تعالیٰ کا ہی حلال وحرام فرمانا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں حلال پر عمل کرنے اور حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینبچوں اور عورتوں کےحقوق کا محافظ دِین:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دِین اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے دنیا کی مختلف تہذیبوں اور خاص طور پر عرب کے معاشرے میں یتیم بچوں اور عورتوں کے ساتھ جووحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا ، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور مختلف کتب میں زمانہ جاہلیت کے ظلم وستم کے ایسے ایسے واقعات بھی مذکور ہیں جنہیں پڑھ کرپتھر دل انسان کی آنکھوں سے بھی اَشک رَواں ہو جائیں ، ہر طرف وَحشت وبربریت کا دور دورہ تھا ، انصاف نام کی چیز سے لوگ قطعاً واقف نہ تھے ، گھر کی خواتین کوظلم وستم کے لیے تختہ مشق بنانا ان کی عادات

میں شامل تھا ، بیٹیوں پر تو ظلم کی انتہاء کردی گئی کہ انہیں زندہ درگور کردیا جاتاتھا ، اپنوں اور بیگانوں کی بد ترین ستم ظریفی کا شکار یہ طبقہ بڑی شدت سے کسی مسیحا کا انتظار کرنے والوں کی اَوّلین صف میں شامل تھا اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے دیگر افراد کی طرح یہ طبقہ بھی کسی جانفزا صبح کا سورج طلوع ہونے کی راہ دیکھ رہا تھا ، پھر خالق کائنات ، ربّ العالمین ، اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنجَلَّ جَلَالُہُ نے اس سسکتی ہوئی انسانیت پر اپنا فضل وکرم فرمایا اور آسمان ہدایت کا وہ سورج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ طلوع ہو گیا جس کی راہیں تکتے تکتے مظلوموں کی آنکھیں تھک چکی تھیں۔ چنانچہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری ہوگئی ، آپ کا لایا ہوا مقدس دین اسلام تھا ، اس کی تعلیمات اور اَحکامات نے مظلوموں کی ایسی داد رسی فرمائی کہ ہرطرف عدل وانصاف کا دَور دَورہ ہوگیا ، دین اسلام نے معاشرے کے کمزور ترین افراد خصوصاً یتیم ومساکین اور عورتوں کے جو حقوق بیان فرمائے دنیا کے تمام مذاہب میں اس کی مثال نہیں ملتی ، اسلام سے پہلے جس عورت کو معاشرے کے لیے باعث عار اور ذلت ورسوائی سمجھا جاتا ہے اِسلام نے اس کے ایسے حقوق بیان فرمائے کہ وہی عورت اب معاشرے کی عزت وعظمت سمجھی جانے لگی ، اِسلام نے عورت کے فقط عورت ہونے کے ناطے نہیں بلکہ اس کی مختلف جہات سے حقوق بیان فرمائے ، اِسلام نے عورت کے ماں ہونے کے اعتبار سے بھی حقوق بیان فرمائے ، بیٹی ہونے کے اعتبار سے الگ حقوق بیان فرمائے ، بہن ہونے کے اعتبار سے الگ حقوق بیان فرمائے ، بیوی ہونے کے اعتبار سےجداحقوق بیان فرمائے ، الغرض اسلام ہی وہ پیارا مذہب ہے جس نے عورت کی عظمت کو زندہ کیا ، اُس کی عزت کو جلا بخشی ، کاش ہم اِسلام کے اَحکام پر عمل کرنے والے بن جائیں ، اِس کی عظمت کو سمجھنے والے بن جائیں ، بلا وجہ کے اِعتراضات کے بجائے اِس کی حکمتوں کو سمجھنے والے بن جائیں ، جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کی تیار ی میں مشغول ہوجائیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا والے کاموں میں لگ جائیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اَحکامِ شرعیہ پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس کے لیے جو چاہیں حلال یا حرام فرمادیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا رب تعالیٰ ہی کا حلال یا حرام قرار دینا ہے۔
(2)دِین اِسلام وہ پیارا دِین ہے جس نے معاشرے کے تمام لوگوں کے حقوق کو بیان فرمایا۔
(3)اسلام نے اُن تمام لوگوں کے حقوق کو تفصیل سے بیان فرمایا جنہیں زمانہ جاہلیت میں کسی بھی قسم کا کوئی حق نہیں دیا جاتا تھا بلکہ اُن کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
(4)دِین اِسلام وہ واحد دِین ہے جس نے یتیم ومساکین اور عورتوں کے ایسے حقوق بیان فرمائے جس سے اِن تمام لوگوں کو اپنی عزت وعظمت کا احساس ہوا۔
(5)اسلام وہ پیارا دِین ہے جس نے فقط عورت کے حقوق کو بھی کئی جہات سے بیان فرمایا، ماں کے الگ حقوق بیان فرمائے، بیٹی، زوجہ، بہن وغیرہ خواتین کے الگ حقوق بیان فرمائے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام لوگوں کے حقوق شریعت کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اَحکامِ شرعیَّہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 270