- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- حدیث نمبر 270
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 270
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اَبِيْ شُرَيحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرو الْخَزَاعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَللّٰهُمَّ اِنِّي اُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيْفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْاَةِ.( )
وعن ابي شريح خويلد بن عمرو الخزاعي رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم : اللهم اني احرج حق الضعيفين اليتيم والمراة.( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (بارگاہِ الہی)میں عرض کی : ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں دو کمزور انسانوں یتیم اور عورت کا حق (ضائع کرنا خاص طور پر) حرام قرار دیتاہوں۔ ‘‘
شرح حدیث
مشکل لفظ کا معنیٰ : اُحَرِّجُ:∞اس کا معنی یہ ہے کہ میں اس شخص کے ساتھ حرج و گناہ لاحق کرتا (یعنی اسے گناہگار قرار دیتا) ہوں جو یتیم اور عورت کا حق ضائع کرے اور اس چیز سے واضح طور پر ڈراتا ہوں اور بڑی شدت سے اس کے بارےمیں زجر و توبیخ کرتا ہوں۔دو اہم مسائل کی وضاحت:مذکورہ بالا حدیث سے اِجمالی طور پر دو اہم مسئلے معلوم ہوئے : (1) اِسلام وہ پیارا دِین ہے جس میں کمزور انسانوں کے حقوق کو ضائع کرنے کی نہیں بلکہ اُن کے حقوق کے تحفظ کی ترغیب دلائی جاتی ہے ، اِسلام میں کسی بھی کمزور شخص خصوصاً یتیم اور عورت پر بلا وجہ شرعی سختی کرنے یا اُس کی حق تلفی کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ (2) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی بھی چیز کے حلال یا حرام فرمانے کا اختیار عطا فرمایا ہے ، آپ اپنی اُمَّت میں سے جس کے لیے جو چاہیں حلال فرمادیں اور جو چاہیں حرام فرمادیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کسی چیز کو حرام یا حلال فرمانا دراصل رب تعالیٰ کا ہی حلال وحرام فرمانا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں حلال پر عمل کرنے اور حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینبچوں اور عورتوں کےحقوق کا محافظ دِین:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دِین اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے دنیا کی مختلف تہذیبوں اور خاص طور پر عرب کے معاشرے میں یتیم بچوں اور عورتوں کے ساتھ جووحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا ، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور مختلف کتب میں زمانہ جاہلیت کے ظلم وستم کے ایسے ایسے واقعات بھی مذکور ہیں جنہیں پڑھ کرپتھر دل انسان کی آنکھوں سے بھی اَشک رَواں ہو جائیں ، ہر طرف وَحشت وبربریت کا دور دورہ تھا ، انصاف نام کی چیز سے لوگ قطعاً واقف نہ تھے ، گھر کی خواتین کوظلم وستم کے لیے تختہ مشق بنانا ان کی عادات
میں شامل تھا ، بیٹیوں پر تو ظلم کی انتہاء کردی گئی کہ انہیں زندہ درگور کردیا جاتاتھا ، اپنوں اور بیگانوں کی بد ترین ستم ظریفی کا شکار یہ طبقہ بڑی شدت سے کسی مسیحا کا انتظار کرنے والوں کی اَوّلین صف میں شامل تھا اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے دیگر افراد کی طرح یہ طبقہ بھی کسی جانفزا صبح کا سورج طلوع ہونے کی راہ دیکھ رہا تھا ، پھر خالق کائنات ، ربّ العالمین ، اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنجَلَّ جَلَالُہُ نے اس سسکتی ہوئی انسانیت پر اپنا فضل وکرم فرمایا اور آسمان ہدایت کا وہ سورج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ طلوع ہو گیا جس کی راہیں تکتے تکتے مظلوموں کی آنکھیں تھک چکی تھیں۔ چنانچہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری ہوگئی ، آپ کا لایا ہوا مقدس دین اسلام تھا ، اس کی تعلیمات اور اَحکامات نے مظلوموں کی ایسی داد رسی فرمائی کہ ہرطرف عدل وانصاف کا دَور دَورہ ہوگیا ، دین اسلام نے معاشرے کے کمزور ترین افراد خصوصاً یتیم ومساکین اور عورتوں کے جو حقوق بیان فرمائے دنیا کے تمام مذاہب میں اس کی مثال نہیں ملتی ، اسلام سے پہلے جس عورت کو معاشرے کے لیے باعث عار اور ذلت ورسوائی سمجھا جاتا ہے اِسلام نے اس کے ایسے حقوق بیان فرمائے کہ وہی عورت اب معاشرے کی عزت وعظمت سمجھی جانے لگی ، اِسلام نے عورت کے فقط عورت ہونے کے ناطے نہیں بلکہ اس کی مختلف جہات سے حقوق بیان فرمائے ، اِسلام نے عورت کے ماں ہونے کے اعتبار سے بھی حقوق بیان فرمائے ، بیٹی ہونے کے اعتبار سے الگ حقوق بیان فرمائے ، بہن ہونے کے اعتبار سے الگ حقوق بیان فرمائے ، بیوی ہونے کے اعتبار سےجداحقوق بیان فرمائے ، الغرض اسلام ہی وہ پیارا مذہب ہے جس نے عورت کی عظمت کو زندہ کیا ، اُس کی عزت کو جلا بخشی ، کاش ہم اِسلام کے اَحکام پر عمل کرنے والے بن جائیں ، اِس کی عظمت کو سمجھنے والے بن جائیں ، بلا وجہ کے اِعتراضات کے بجائے اِس کی حکمتوں کو سمجھنے والے بن جائیں ، جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کی تیار ی میں مشغول ہوجائیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا والے کاموں میں لگ جائیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اَحکامِ شرعیہ پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس کے لیے جو چاہیں حلال یا حرام فرمادیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا رب تعالیٰ ہی کا حلال یا حرام قرار دینا ہے۔
(2)دِین اِسلام وہ پیارا دِین ہے جس نے معاشرے کے تمام لوگوں کے حقوق کو بیان فرمایا۔
(3)اسلام نے اُن تمام لوگوں کے حقوق کو تفصیل سے بیان فرمایا جنہیں زمانہ جاہلیت میں کسی بھی قسم کا کوئی حق نہیں دیا جاتا تھا بلکہ اُن کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
(4)دِین اِسلام وہ واحد دِین ہے جس نے یتیم ومساکین اور عورتوں کے ایسے حقوق بیان فرمائے جس سے اِن تمام لوگوں کو اپنی عزت وعظمت کا احساس ہوا۔
(5)اسلام وہ پیارا دِین ہے جس نے فقط عورت کے حقوق کو بھی کئی جہات سے بیان فرمایا، ماں کے الگ حقوق بیان فرمائے، بیٹی، زوجہ، بہن وغیرہ خواتین کے الگ حقوق بیان فرمائے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام لوگوں کے حقوق شریعت کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اَحکامِ شرعیَّہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 270