Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 262

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَنَا وَكَافلُ اليَتِيْمِ في الجَنَّةِ هٰكَذا وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطٰى وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا.( )

وعن سهل بن سعد رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انا وكافل اليتيم في الجنة هكذا واشار بالسبابة والوسطى وفرج بينهما.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حُسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں

گے۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہادت والی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیااور اُن کے درمیان کچھ کشادگی فرمائی۔

شرح حدیث

یتیم کسے کہتے ہیں ؟یتیم اس نابالغ بچے یا بچی کو کہتے ہیں جس کے والد کا انتقال ہو چکا ہو اور یہ بچے امیر ہوں یا غریب دونوں صورتوں میں یتیم ہی شمار ہوں گے۔ جیسا کہ فقہِ حنفی کی کتاب “ تکملہ بحر الرائق “ میں ہے : ’’یتیم وہ نابالغ ہے جس کا والد فوت ہو چکا ہو ، خواہ وہ نابالغ مال دار ہو یا فقیر۔ ‘‘( )یتیم کی کفالت کرنے والا کون ہے؟یتیم کی کفالت کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتا ہےجیساکہ علامہ بد ر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’یتیم کی کفالت کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو اس کے معاملات اور ضروریات کا انتظام کرتاہے۔ ‘‘( )انگلیوں کے درمیان کشادگی فرمانے کی حکمت:علامہ بدرالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اپنی مبارک انگلیوں میں کشادگی کرنے سے مقصود اس بات کی طرف اشارہ کرنا تھاکہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اوراُمتیوں کے درجے میں فرق ہے۔ ‘‘( )آخرت کا افضل ترین مرتبہ:حضرت سَیِّدُنا علی بن خلف قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : ’’جو مسلمان اس حدیث پاک کو سنے اس پر لازم ہے کہ وہ یتیم کی کفالت کرنے پر راغب ہو ، تاکہ اسے جنت میں تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور انبیاء و مرسلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی رفاقت نصیب ہو اور رب تعالیٰ کے نزدیک

آخرت میں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی رفاقت سے افضل کوئی مرتبہ نہیں ۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)یتیم کی کفالت کرنا ایک عظیم کام ہے اور اِس کی فضیلت اَحادیث مبارکہ میں بیان فرمائی گئی ہے، یتیم کی کفالت کرنے والے کو قیامت کے دن حضورسَیِدُ الانبیاء، احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک رَفاقت نصیب ہو گی۔
(2)قیامت کے دِن انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی رَفاقت نصیب ہونا بہت بڑی سعادت اور افضل ترین مرتبہ ہے جو یقیناً خوش نصیب لوگوں کو ہی ملے گا۔
(3)انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُمتیوں کے مَراتب و دَرَجات میں بہت فرق ہے لہذا رَفاقت کی سعادت پانے والا اُن کا مرتبہ ہر گز نہ پائے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں یتیموں کی کفالت کرنے کی سعادت عطا فرمائے ، ہمیں بھی کل بروز ِ قیامت حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک رَفاقت نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 262