Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 264

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ الْمِسْكينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَا اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ اِنَّمَا الْمِسْكِيْنُ الَّذِيْ يَتَعَفَّفُ. ( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ : لَيْسَ الْمِسكِينُ الَّذِيْ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ واللُّقْمَتانِ وَالتَّمْرَةُ والتَّمْرَتَانِ وَلٰكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَجِدُ غنىً يُغْنِيْهِ وَلاَ يُفْطَنُ بِهٖ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَايَقُوْمُ فَيَسْاَلُ النَّاسَ .( )

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ليس المسكين الذي ترده التمرة والتمرتان ولا اللقمة واللقمتان انما المسكين الذي يتعفف. ( )
وفي رواية في الصحيحين : ليس المسكين الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن به فيتصدق عليه ولايقوم فيسال الناس .( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لوٹا دیں بلکہ مسکین تو وہ غریب شخص ہےجو سوال کرنے سے بچتا ہے۔ ‘‘

بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے : ’’مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس چکر لگاتا رہے اور وہ اسے ایک دو لقمے یا ایک دو چھوہارے دے کر لوٹا دیں بلکہ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جوا ُسے بے نیاز کر دے اور اُسے پہچانا بھی نہ جائے تاکہ اُس پر صدقہ کیا جائے اور نہ ہی وہ اِس لئے کھڑا ہوتا ہو کہ لوگوں سے سوال کرے۔ ‘‘

شرح حدیث

کامل مسکین کی پہچان:مذکورہ بالا دونوں اَحادیث میں کامل مسکین کی پہچان اور علامت بیان کی گئی ہے ۔ پہلی حدیث پاک کا خلاصہ یہ ہے کہ کامل مسکین وہ نہیں جو لوگوں سے سوال کرے تو وہ اسے پیٹ میں ڈالنے کے لئے تھوڑی سی غذا اور ستر چھپانے کے لئے کچھ لباس دے دیں بلکہ کامل مسکین وہ غریب شخص ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرے اور لوگ (اُس کے اَحوال سے)اُسے پہچانتے نہ ہوں تاکہ (اُس کی فقیرانہ حالت دیکھ کر)اُس پر صدقہ کریں۔ ( )
دوسری حدیث پاک کا خلاصہ یہ ہے کہ کامل مسکین وہ نہیں جو لوگوں کےپاس اِس لئے چکر لگائے تاکہ انہیں اپنے اوپر صدقہ کرنے کا کہے اور لوگ اسے لقمہ دو لقمہ یا ایک دو کھجور دے کر واپس لوٹا دیں بلکہ کامل مسکین وہ شخص ہے جو اپنے پاس ایسی چیز نہ پائے جس سے اُس کی حاجت پوری ہو اور نہ ہی اُس کا حال دیکھ کر اسے پہچان لیا جائے ( کہ یہ مسکین ہے )تاکہ لوگ ا س پر صدقہ کریں اور نہ ہی وہ لوگوں سے مانگنے کے لئے کھڑا ہو۔ ( )
کس مسکین کو سوال کرنا حلال ہے؟واضح رہے کہ جو شخص واقعی مسکین ہے اسے اپنی ذات کے لیے سوال کرنا جائز ہے لیکن اُس کے لئے بھی اَحسن اور اَولیٰ یہی ہے کہ سوال نہ کرے جیساکہ مذکورہ حدیث پاک میں کامل مسکین کا حال بیان ہوا ، البتہ جو بناوٹی مسکین ہیں انہیں سوال کرنا اور اُن کے سوال پر کچھ دےدینا جائزنہیں ۔ صدرُالشریعہ ، بدرُ الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’آج کل ایک عام بلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے

خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اَوروں کو کھلائیں مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے ، کون محنت کرے؟مصیبت جھیلے ، بے مشقت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے؟ ناجائز طور پر سوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اوربہت سے ایسے ہیں کہ مزدوری تو مزدوری ، چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لئے بے عزتی و بے غیرتی ہے ، مایۂ عزت جانتے ہیں اور بہت ساروں نے تو بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے ، گھر میں ہزاروں روپے ہیں ، سود کا لین دین کرتے ، زراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے ، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشہ ہے ، واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں؟ حالانکہ ایسوں کو سوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو ، اُسے جائز نہیں کہ اُن کو دے۔ ‘‘( )
صدقات کے عُمدہ مَصارِف:مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہو اکہ صدقات کے بہترین اور عمدہ مَصرف ایسے مسکین لوگ ہیں جو حاجت مند ہونے کے باوجود اپنے حال سے مسکینی ظاہر نہیں ہونے دیتے اورایسے سفید پوش ہیں کہ ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ۔ قرآنِ مجید میں بھی ایسے لوگوں پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، چنانچہ صدقہ کرنے کی ترغیب دینے کے بعد اس کا (بہترین) مَصرف بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ٘-یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ-تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْۚ-لَا یَسْــٴَـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًاؕ-(پ۳ ، البقرہ : ۲۷۳)ترجمۂ کنزالایمان : ان فقیروں کے لئے جو راہ خدا میں روکے گئے زمین میں چل نہیں سکتے نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب تُو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑگڑانا پڑے۔

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ524 صفحات پر مشتمل کتاب ’’صراطُ الجنان فی تفسیر القرآن‘‘جلداول کے صفحہ 409پر ہے : ’’انہی حضرات کی صف میں وہ مشائخ و علماء و طلبہ و مبلغین و خادمین دِین داخل ہیں جو دِینی کاموں میں مشغولیت کی وجہ سے کمانے کی فرصت نہیں پاتے۔ یہ لوگ اپنی عزت و وقار اور مُرُوَّت کی وجہ سے لوگوں سے سوال بھی نہیں کرپاتے اور اپنے فَقر کو چھپانے کی بھی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اِن کا گزارا بہت اچھا ہورہا ہے لیکن حقیقت ِ حال اِس کے برعکس ہوتی ہے۔ اگر کچھ غور سے دیکھا جائے تو اِن لوگوں کی زندگی کا مشقت سے بھرپور ہونا بہت سی علامات و قرائن سے معلوم ہوجائے گا۔ اِن کے مزاج میں تواضع اور اِنکسا ری ہوگی ، چہرے پر ضعف کے آثار ہوں گے اور بھوک سے رنگ زرد ہوں گے۔
درس : ہمارے ہاں دِین کے اِس طرح کے خادموں کی کمی نہیں اور اِن کی غربت و محتاجی کے باوجود انہیں مالدار سمجھنے والے ناواقفوں اور جاہلوں کی بھی کمی نہیں۔ شاید ہمارے زمانے کا سب سے مظلوم طبقہ یہی ہوتا ہے ، اِس چیز کا اندازہ اِس سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو عالِم اِس لئے نہیں بناتے کہ یہ کھائیں گے کہاں سے؟ جب اِس بات کا علم ہے تو یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ جو علماء و خادمینِ دِین موجود ہیں وہ کیسے گزارا کر رہے ہوں گے؟ اصحابِ صفہ کی حالت پر مذکورہ آیت مبارکہ کا نزول صرف کوئی تاریخی واقعہ بیان کرنے کےلئے نہیں ہے بلکہ ہمیں سمجھانے ، نصیحت کرنے اور ترغیب دینے کےلئے ہے۔ علماء و مُبَلِّغین کی گھروں کی پریشانیاں ختم کردیں پھر دیکھیں کہ دِین کا کام کیسی تیزی سے ہوتا ہے۔ سمجھنے کےلئے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اِن دس نکات کو پڑھ لیں جن میں بار بار علماء کی مَعاشی حالت سُدھارنے کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا : ’’مولانا! روپیہ ہونے کی صورت میں اپنی قوت پھیلانے کے علاوہ گمراہوں کی طاقتیں توڑنا بھی اِنْ شَآءَاللّٰہُ الْعَزِیز آسان ہوگا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ گمراہوں کے بہت سے اَفراد صرف تنخواہوں کے لالچ سے زہر اُگلتے پھرتے ہیں۔ ان میں جسے دس کی جگہ بارہ دیجئے اب آپ کی سی کہے گا ، یا کم از کم بہ لقمہ دوختہ بہ توہوگا۔ دیکھئے حدیث کا اِرشاد کیسا صادق ہے کہ : ’’آخر زمانہ میں دِین کا کام بھی درہم و دینار سے چلے

گا۔ ‘‘( ) اور کیوں نہ صادِق ہو کہ صادِق و مَصدوق صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا کلام ہے ، عالِم ما کان و مایکون صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خبرہے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’مسکین‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)کامل مسکین وہ ہے جو حاجت مند ہونے کے باوجود سوال نہ کرے اور اُس کے اَحوال و آثار اُس کی مسکینی کا پتا نہ دیں۔
(2)جو واقعی مسکین ہو اسے اپنی ذات کے لیے سوال کرنا جائز ہے۔
(3) بناوٹی مسکین کو نہ تو سوال کرنا جائز ہے اور نہ ہی ایسے نام نہاد مساکین کو کچھ دینا جائزہے۔
(4)ضرورت مند سفید پوش لوگ صدقات کے عمدہ اور بہترین مصرف ہیں اور ایسے حضرات پر صدقہ کرنا اور اُن کی ضروریات کو پورا کرنا بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔
(5)مالدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ سفید پوش علماء و مبلغین اور خادمانِ دِین کی حاجات و ضروریات کا خیال رکھیں تاکہ وہ اپنی معاشی مصروفیات کے بجائے دِین کے کام میں مصروف رہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مساکین کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، حقیقی مساکین کو دینے کی توفیق عطا فرمائے، علمائے کرام، طلبہ کرام، علم دِین پھیلانے والے مبلغین کی اپنی جائز اور حلال روزی میں سے عاجزی کے ساتھ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 264