Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 263

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَافِلُ الْيَتيِمِ لَهُ اَوْ لِغَيْرِهٖ اَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ فِی الْجَنَّةِ وَاَشَارَ الرَّ اوِي وَهُوَ مَالِكُ بْنُ اَنَسٍ بِالسَّبَّابَةِ وَالوُسْطٰى.( )

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كافل اليتيم له او لغيره انا وهو كهاتين فی الجنة واشار الر اوي وهو مالك بن انس بالسبابة والوسطى.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’اپنے خاندان یا غیر کے یتیم بچے کو پالنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ‘‘یہ کہہ کر راوی حدیث حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا۔

شرح حدیث

مشكل لفظ كا معنی : ’’اَلْيَتِيمُ لَهُ اَوْ لِغَيرِهِمعنیٰ یہ ہے کہ یتیم کی کفالت کرنے والا اُس کا قریبی رشتہ دار ہو یا اجنبی ہو۔ قریبی یہ ہے کہ جیسے یتیم کی والدہ یا دادایا بھائی یا چچا وغیرہ۔ہر یتیم کی کفالت باعث اجر ہے:حضرت سَیِدُنا عبد المؤمن بن شرف دمیاطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نےحدیث پاک کے اس حصے’’ اپنے گھر یا غیر کے یتیم بچے ‘‘کی وضاحت میں جو کلام لکھا ہےاس کا خلاصہ یہ ہے کہ یتیم خواہ کفالت کرنے والے کا رشتہ دار ہو جیسے ماں اپنے یتیم بچوں کی کفالت کرے یا دادا ، دادی اپنے یتیم پوتوں کی کفالت کریں یابھائی اپنے یتیم بھتیجوں کی کفالت کرے ، یا وہ یتیم اجنبی ہو کہ کفالت کرنے والے اور ا س کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ ہو تو بے شک ان دونوں میں سے کسی کی بھی کفالت کرنے والے کو تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قُرب کا یہ اجر عظیم حاصل ہو گا اور وہ آخرت میں اُس بڑے ثواب کو پائے گا اور رب تعالیٰ بے انتہا فضل والا ہے۔ ‘‘( )یتیموں کی کفالت کا اجر و ثواب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قرآن و حدیث میں یتیم بچوں پر مال خرچ کرنے ، اُن کی تعلیم و تربیت کرنے اور اُن کی پرورش کی ذمہ داری لینے ، اُن کے ساتھ حسن سلوک کرنے کےبہت فضائل بیان کیے گئے ہیں ، ترغیب کے لئے چند فضائل ملاحظہ ہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَؕ-قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْترجمۂ کنزالایمان : تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں
مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ(۲۱۵)
(پ۲ ، البقرہ : ۲۱۵)
تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اوریتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے۔
یتیم کی کفالت سے متعلق تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)’’جس نے دومسلمانوں کے درمیان کسی یتیم کے کھانے اورپینے کی ذمہ داری لی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ضرورجنت میں داخل فرمائے گا جبکہ وہ کوئی ناقابل معافی گناہ نہ کرے۔ ‘‘( )
(2)’’ جس نے تین یتیموں کی پرورش کی ، اسے رات کو قیام ، دن میں روزہ اور صبح وشام راہِ خدا میں اپنی تلوار چلانے والے کا ثواب دیا جائے گا اور میں اور وہ جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہوں گے جس طرح یہ دونوں ہیں۔ ‘‘یہ کہہ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہادت اور بیچ والی انگلی ملادی۔ ‘‘( )
(3)’’مسلمانوں کے گھروں میں سے بہترین گھروہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہو اور مسلمانوں کے گھر وں میں سے بد ترین گھر وہ ہے جہاں یتیم کے ساتھ بُرا سلوک کیا جاتا ہو۔ ‘‘( )
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی یتیموں کی تعلیم وتربیت اور پرورش کرنے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ
’’مجاھد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)رشتہ دار اور غیر رشتہ دار،ہر طرح کے یتیم کی پرورش کرنا باعث اجر و ثواب ہے۔

(2)ربّ تعالیٰ ہمارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور وہی ان کی جزاعطا فرمائے گا۔
(3)یتیم کی کفالت کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل کرم سے جنت میں ضرور جائے گا جبکہ ا س نے کوئی ناقابل معافی گناہ نہ کیا ہو۔
(4)تین یتیموں کی پرورش کرنے والے کو رات بھر نماز ادا کرنے ،دن میں روزہ رکھنے اور صبح وشام راہِ خدا میں اپنی تلوار چلانے والے مجاہد کا ثواب دیا جائے گا۔
(5)جس گھر میں یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو وہ بہترین گھر ہے اور جس میں بُرا سلوک کیا جاتا ہو وہ بد ترین گھر ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں بھی یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے ، اُن کی صحیح طرح سے کفالت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کل بروزِ قیامت ہمیں بھی جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 263