Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 272

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِررَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُوْلُ : اِبْغُوْنِي الضُّعَفَاءَ فَاِنَّمَا تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ بِضُعَفَائِكُمْ. ( )

وعن ابي الدرداء عويمررضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول : ابغوني الضعفاء فانما تنصرون وترزقون بضعفائكم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو درداء عویمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’تم مجھے کمزور اور بے کس لوگوں میں تلاش کرو کیونکہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہیں روزی دی جاتی اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا پانے کا ذریعہ:علامہ ملاعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک کا معنیٰ یہ ہے کہ اے لوگو!تم فقراء کے ساتھ احسان اور مظلوموں کی داد رسی کر کے میری رضاتلاش کرو کیونکہ تم میں کمزور لوگوں کے موجود ہونے کی برکت سے تمہیں حسی اور معنوی رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے ظاہری و باطنی دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد کی جاتی ہے ۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’فقراء‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)فقراء ومساکین ، مظلوموں اور بے کسوں کے ساتھ اِحسان کرنا اللہ1∞ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
(2)حسی اور معنوی رزق اورظاہری و باطنی دشمنوں کے خلاف مدد ا فقراء کی برکت سے ملتی ہے۔
(3)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے اُس کے مجبور وبے کس بندوں کی مدد کرنابلا شبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ورسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو راضی کرنے والا ایک نیک عمل ہے۔
(4)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا ہے۔
(5)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بعض ایسے بھی مقبول بندے ہوتے ہیں جن کی داد رسی او رمدد کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا پوشیدہ ہوتی ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی غریبوں فقیروں ، مظلوموں اور بے کسوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، دنیا وآخرت کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 272