Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 269

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : جَاءَتْنِيْ مِسْكِيْنَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا فَاَطْعَمْتُهَا ثَلاثَ تَمرَاتٍ فَاَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً وَرَفَعتْ اِلٰى فِيهَا تَمْرَةً لِتَاْكُلَهَا فَاسْتَطعَمَتْهَا اِبْنَتَاهَا فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِيْ كَانَتْ تُريدُ اَنْ تَاْكُلَهَا بَيْنَهُمَا فَاَعْجَبَنِي شَاْنُهَا فَذَكَرْتُ الَّذِيْ صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنَّ

اللهَ قَدْ اَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ اَوْ اَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ.( )

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : جاءتني مسكينة تحمل ابنتين لها فاطعمتها ثلاث تمرات فاعطت كل واحدة منهما تمرة ورفعت الى فيها تمرة لتاكلها فاستطعمتها ابنتاها فشقت التمرة التي كانت تريد ان تاكلها بينهما فاعجبني شانها فذكرت الذي صنعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ان

الله قد اوجب لها بها الجنة او اعتقها بها من النار.( )

حدیث ترجمہ

: اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیوں کو اٹھائے ہوئے آئی تو میں نے اسے کھانے کے لئے تین کھجوریں دیں ، اس نے دونوں بیٹیوں کو ایک ایک کھجور دی اور ایک کھجور خود کھانے کے لئے ابھی اپنے منہ تک لائی تھی کہ اسے بھی دونوں بیٹیوں نے مانگ لیا ، اس عورت نے وہ کھجور بھی دونوں بیٹیوں میں تقسیم کر دی جسے خود کھانے کا ارادہ کیا تھا۔ مجھے اس کے معاملے پر بڑا تعجب ہوا ، پھر میں نے اس کا یہ عمل رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے لئے اس عمل کی برکت سے جنت کو واجب کر دیا۔ ‘‘یا (یہ ارشاد فرمایا : )’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُسے اِس عمل کی بنا پر جہنم سے آزاد کر دیا۔ ‘‘

شرح حدیث

دونوں اَحادیث میں مطابقت:اِس حدیث پاک میں اِس بات کابیان ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اس عورت کو تین کھجوریں دیں جبکہ اِس سے پہلی والی حدیث میں یہ تھا کہ ایک کھجور دی۔ علامہ بدرُ الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے اِن دونوں میں یوں مطابقت بیان فرمائی ہے : ’’ممکن ہے کہ دونوں احادیث میں بیان کیا گیا واقعہ ایک ہی ہو اور پہلے اُمُّ المومنین سَیِدتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ایک کھجورتھی جو آپ نے اس خاتون کو دے دی اور بعد میں مزید دو کھجوریں آ گئیں تو وہ بھی اسے دے دیں اس لئے یہ احادیث ایک دوسرے کے خلاف نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں احادیث میں جدا جدا واقعات بیان کیے گئے ہوں۔‘‘( )ماں کی اولاد پر شفقت و رحمت:اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ماں اپنی اولاد پر بڑی شفیق اور مہربان ہوتی ہے ، انہیں تکلیف میں دیکھ کر تڑپ جاتی اور ان کی تکلیف دور کرنے کی کوشش میں لگ جاتی ہے ، خود تکلیف برداشت کر کے بچوں کو راحت دیتی اوراپنی بھوک کو بھول کر بچوں کی بھوک مٹانے کو ترجیح دیتی ہے ۔ اولاد اگرچہ ساری زندگی ماں

کو ستاتی رہے ، دکھ درد اور اذیتیں پہنچاتی رہے لیکن ماں انہیں تکلیف میں دیکھ کر سب بھول جاتی ہے۔
مدنی گلدستہ
’’والدہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مساکین کا بہت خیال رکھا کرتی تھیں اور اُن پر صدقہ وخیرات بھی کیا کرتی تھیں۔
(2)اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لئے بہت شفقت و محبت رکھی ہے ۔
(3)ماں خود تکلیف اور پریشانی برداشت کر کے اولاد کو راحت و سکون پہنچاتی ہے ۔
(4)ماں کو ستانا اور اسے تکلیف دینا نزع کے وقت کلمہ پڑھنے میں رُکاوٹ بن سکتا ہے ۔
(5)اولاد کی تکلیف دیکھ کر ماں اُن کی طرف سے پہنچنے والی اذیتیں فراموش کر دیتی اور اُن کے سکھ چین کی کوشش کرتی ہے ، لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ ماں کی عزت وعظمت کو سمجھیں اور اُن کے حقوق کو اچھی طرح ادا کریں ، انہیں تکلیف دینے کے بجائے راحت کا سامان مہیاکریں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ماں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں ان کی نافرمانی سےمحفوظ رکھے، ان کے تمام حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 269