Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 271

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِيْ وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : رَاَى سَعْدٌ اَنَّ لَهُ فَضْلاً عَلٰى مَنْ دُونَهُ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ اِلَّابِضُعَفَائِكُمْ.( )

وعن مصعب بن سعد بن ابي وقاص رضي الله عنهما قال : راى سعد ان له فضلا على من دونه فقال النبي صلى الله عليه وسلم : هل تنصرون وترزقون الابضعفائكم.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا مُصْعَب بن سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دِل میں خیال آیا کہ شاید اُنہیں کمزور لوگوں پر فضیلت حاصل ہے۔ تو سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی اور تمہیں رِزق دیا جاتا ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

رب تعالیٰ کی نعمتیں ملنے کا ذریعہ:مرقاۃ المفاتیح میں ہے کہ حضرت سَیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دل میں خیال آیا کہ میں شجاعت اور سخاوت وغیرہ میں افضل ہوں (آپ نے منہ سے کچھ نہ کہا تھا اور آپ کا یہ خیال بھی یقیناً شکر کے طور پر ہوگا نہ کہ فخر کی بنا پر ، مگر) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوسروں سے ارشاد فرما کر انہیں جواب دے دیا کہ : ’’اے لوگو!دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری جو مدد کی جاتی ہے اور مالِ غنیمت وغیرہ کی صورت میں تمہیں جو رزق دیا جاتا ہے وہ ان غریبوں اور فقیروں کی برکت سے دیا جاتا ہے جو تمہارے درمیان موجود ہیں ، لہذا تم اِن کی تعظیم کیا کرو اور اُن پر فخر و بڑائی کا اظہار نہ کیا کرو۔ ‘‘( )کمزوروں کی برکت سے نعمتیں ملنے کا سبب:حضرت سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اِس اُمّت کی مدد اِس کے کمزور اور بے بس لوگوں کی دعا ، اِن کی نماز اور اِخلاص کی وجہ سے فرماتا ہے۔ ‘‘( )
عمدۃ القاری میں ہے : ’’کمزور بندوں کی دعا سے مدد اور رزق دیا جاتا ہے ، اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی عبادت اور دعا میں شدید اِخلاص اور کثیر خشوع ہوتا ہے کیونکہ اُن کے دل دنیا کی آرائش اور ا ُس کی زینت کے ساتھ تعلق رکھنے سے خالی ہوتے ہیں اور اُن کے پوشیدہ اَحوال اُنہیں رب تعالیٰ سے دُور کر دینے والی چیزوں سے خالی ہوتے ہیں ، اُنہوں نے اپنے تمام مقاصد کو ایک بنا دیا ( کہ بس رب تعالیٰ کو راضی کرنا ہے ) اِسی

لئے اُن کے اعمال پاکیزہ کر دئیے گئے ہیں اور اُن کی مانگی ہوئی دعائیں مقبول ہیں۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’فقر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے رب کی عطا سے ہمارے دلوں کے اَحوال سے بھی ہردم باخبر ہیں۔
(2)جنہیں مال و دولت اور شجاعت و بہادری کی نعمتیں عطا ہوئی ہیں انہیں فقیرا ور کمزور مسلمانوں پر فخر و تکبر اور بڑائی کا اظہار کرنے کے بجائے اُن کی تعظیم و توقیر کرنی چاہیے۔
(3)ربّ تعالیٰ کے نیک بندے اُس کی نعمتیں مثلاً رزق،مدد اور بارش وغیرہ ملنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فقیر اور کمزور مسلمانوں پر فخر وتکبراور بڑائی کا اظہار کرنے کے بجائے اُن کی تعظیم وتوقیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے پیارے بندوں کے سبب ہمارے رِزق ، آل اولاد ، جان مال سب میں برکتیں عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 271