Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 266

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَاْتِيهَا وَيُدْعَى اِلَيْهَا مَنْ يَاْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ. ( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ مِنْ قَوْلِهٖ : بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الوَلِيمَةِ يُدْعٰى اِلَيْهَا الْاَغْنِيَاءُوَ يُتْرَكُ الْفُقَراءُ. ( )

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : شر الطعام طعام الوليمة يمنعها من ياتيها ويدعى اليها من ياباها ومن لم يجب الدعوة فقد عصى الله ورسوله. ( )
وفي رواية في الصحيحين عن ابي هريرة من قوله : بئس الطعام طعام الوليمة يدعى اليها الاغنياءو يترك الفقراء. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، سیِّد عالَم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’بد ترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے جس میں(شرکت کرنےسے) اُسے روک دیا جائے جو آنا چاہتا ہے اور اُسے بلا لیا جائے جو نہیں آنا چاہتا اور جس نے(کسی سبب اور عذر کے بغیر) دعوت کو قبول نہیں کیاتو اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی کی ۔ ‘‘

بخاری اورمسلم کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بُرا کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے جس کے لیے مالدار لوگوں کو بلایا جائےاور فقیروں کو چھوڑ دیا جائے۔ ‘‘

شرح حدیث

ولیمےکاکھانا بُرا ہونے کی وجہ:مرقاۃ المفاتیح میں ہے : ’’دورِجاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ وہ (ناموری ، ریاکاری اور لالچ کی وجہ سے ولیمے وغیرہ کی) دعوت میں امیروں کا لحاظ رکھتے ، دعوت کو اُنہی کے ساتھ خاص کرتے ، دعوت میں شرکت کے لئے انہیں ہی ترجیح دیتے ، صرف اُن کے لئے اچھے کھانے تیار کرتے ، انہیں بلند جگہوں پر بٹھاتے اور آگے آگے رکھتے تھے۔ اِن وجوہات کی بنا پرایسے ولیمے کے کھانے کو بدتر اور بُرا فرمایا گیا (کیونکہ اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضامقصود نہیں) ورنہ فی نفسہ کھانا بُرا نہیں۔ ‘‘( )غریبوں کے ساتھ برا سلوک نہ کیا جائے:یاد رہے کہ اگر دعوت میں امیروں اور غریبوں دونوں کو بلایا جائے اور میزبان دونوں کو جدا جدا بٹھائے اور علیحدہ علیحدہ کھانا دے تو ا ِس میں کوئی حرج نہیں اوریہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے طرزِ عمل سے ثابت ہے جیسا کہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے اپنی دعوت میں مالداروں اور فقیروں کو بلایا تو قریش کے لوگوں کے ساتھ مساکین بھی آئے اور آپ نے(ایک مناسب جگہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے) مساکین سے فرمایا : ’’تم یہاں بیٹھوتاکہ تمہارا امیروں کے ساتھ بیٹھنا انہیں اپنی شان کے خلاف نہ لگے اور بے شک ہم تمہیں بھی وہی کھانا کھلائیں گے جو اُنہیں کھانے کو دیں گے ۔ ‘‘( )
البتہ غریبوں کے ساتھ یہ سلوک کرنا کہ انہیں دعوت میں بلا کر ایسی جگہ بٹھا یا جائے جہاں بیٹھنے کی صورت میں عزت دار آدمی اپنی تذلیل سمجھے اور انہیں ذلت و خواری کے ساتھ کھانا کھلایا جائے تو ایسا کرنا بہت ہی برا ہے ، غریب مسلمان بھی ہمارے دِینی بھائی ہیں اور انہیں بھی بہتر جگہ بٹھانا اور عزت و تکریم سے

ویسے کھانا وغیرہ کھلانا چاہیے جیسے ہم اپنے مالدار بھائیوں کو کھلاتے ہیں۔
دعوت قبول کرنے کا شرعی حکم:بعض علماء کے نزدیک دعوت قبول کرنا واجب یا فرض ہے جبکہ جمہور کے نزدیک دعوت قبول کرنا مستحب ہے اور اَحادیث میں اِسی مستحب عمل کی تاکید بیان کی گئی ہے۔ ( )
صدرُ الشریعہ ، بدرُ الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ولیمہ میں جس شخص کو بلایا جائے اُس کو جانا سنت ہے یا واجب۔ علما کے دونوں قول ہیں ، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِجابت(یعنی ولیمے کی دعوت میں جانا) سنت مؤکدہ ہے۔ ولیمہ کے سوا دوسری دعوتوں میں بھی جانا افضل ہے۔ ‘‘
مزید فرماتے ہیں : ’’دعوتِ ولیمہ کا یہ حکم جو بیان کیا گیا ہے ، اُس وقت ہے کہ دعوت کرنے والوں کا مقصود ادائے سنت ہو اور اگر مقصود تفاخر ہو یا یہ کہ میری واہ واہ ہوگی جیسا کہ اِس زمانہ میں اکثر یہی دیکھا جاتا ہے ، تو ایسی دعوتوں میں نہ شریک ہونا بہتر ہے خصوصاً اہلِ علم کو ایسی جگہ نہ جانا چاہیے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’ولیمہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)دعوتِ ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت ، ہر ایک میں نام و نمود اور دِکھاوے سے بچنا چاہیے اور فقط رِضائے اِلٰہی کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
(2)اپنی دعوتوں کو فقط امیروں یا مالدار لوگوں کے ساتھ ہی خاص نہیں رکھنا چاہیے بلکہ غریبوں اور فقراء حضرات کو بھی اپنی دعوتوں میں بلانا چاہیے۔
(3)دعوت میں فقط مالداروں کو عزت اور غریبوں کی تذلیل وتوہین نہ کی جائے بلکہ امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ عزت و تکریم والا سلوک کرنا چاہیے۔

(4)اگر ضرورتاً مالداروں اور غریبوں کو علیحدہ علیحدہ جگہوں پر بٹھا کر ایک ہی کھانا وغیرہ کھلایا جائے تاکہ مالداروں کو اُلجھن نہ ہو تو ایسا کرنےمیں کوئی حرج نہیں ہے۔
(5)سنت ادا کرنے کی نیت سے کی جانے والی دعوتِ ولیمہ میں شرکت کرنا سنت مؤکدہ ہے جبکہ فخر و بڑائی کے اِظہار والی دعوت میں شرکت نہ ہی کرنا بہتر ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مالدار اور غریب بھائیوں دونوں کے ساتھ ایک سا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، جس طرح ہم مالدار بھائیوں کی عزت وتکریم کرتے ہیں ویسے ہی اپنے غریب مسلمان بھائیوں کی بھی عزت وتکریم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، جس طرح ہم اپنے مالدار بھائیوں کی کھانے وغیرہ کے حوالے سے خیرخواہی کرتے ہیں ویسے ہی اپنے غریب مسلمان بھائیوں کی بھی خیرخواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 266