- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- حدیث نمبر 266
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 266
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَاْتِيهَا وَيُدْعَى اِلَيْهَا مَنْ يَاْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ. ( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ مِنْ قَوْلِهٖ : بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الوَلِيمَةِ يُدْعٰى اِلَيْهَا الْاَغْنِيَاءُوَ يُتْرَكُ الْفُقَراءُ. ( )
وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : شر الطعام طعام الوليمة يمنعها من ياتيها ويدعى اليها من ياباها ومن لم يجب الدعوة فقد عصى الله ورسوله. ( )
وفي رواية في الصحيحين عن ابي هريرة من قوله : بئس الطعام طعام الوليمة يدعى اليها الاغنياءو يترك الفقراء. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، سیِّد عالَم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’بد ترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے جس میں(شرکت کرنےسے) اُسے روک دیا جائے جو آنا چاہتا ہے اور اُسے بلا لیا جائے جو نہیں آنا چاہتا اور جس نے(کسی سبب اور عذر کے بغیر) دعوت کو قبول نہیں کیاتو اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی کی ۔ ‘‘
بخاری اورمسلم کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بُرا کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے جس کے لیے مالدار لوگوں کو بلایا جائےاور فقیروں کو چھوڑ دیا جائے۔ ‘‘
شرح حدیث
ولیمےکاکھانا بُرا ہونے کی وجہ:مرقاۃ المفاتیح میں ہے : ’’دورِجاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ وہ (ناموری ، ریاکاری اور لالچ کی وجہ سے ولیمے وغیرہ کی) دعوت میں امیروں کا لحاظ رکھتے ، دعوت کو اُنہی کے ساتھ خاص کرتے ، دعوت میں شرکت کے لئے انہیں ہی ترجیح دیتے ، صرف اُن کے لئے اچھے کھانے تیار کرتے ، انہیں بلند جگہوں پر بٹھاتے اور آگے آگے رکھتے تھے۔ اِن وجوہات کی بنا پرایسے ولیمے کے کھانے کو بدتر اور بُرا فرمایا گیا (کیونکہ اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضامقصود نہیں) ورنہ فی نفسہ کھانا بُرا نہیں۔ ‘‘( )غریبوں کے ساتھ برا سلوک نہ کیا جائے:یاد رہے کہ اگر دعوت میں امیروں اور غریبوں دونوں کو بلایا جائے اور میزبان دونوں کو جدا جدا بٹھائے اور علیحدہ علیحدہ کھانا دے تو ا ِس میں کوئی حرج نہیں اوریہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے طرزِ عمل سے ثابت ہے جیسا کہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے اپنی دعوت میں مالداروں اور فقیروں کو بلایا تو قریش کے لوگوں کے ساتھ مساکین بھی آئے اور آپ نے(ایک مناسب جگہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے) مساکین سے فرمایا : ’’تم یہاں بیٹھوتاکہ تمہارا امیروں کے ساتھ بیٹھنا انہیں اپنی شان کے خلاف نہ لگے اور بے شک ہم تمہیں بھی وہی کھانا کھلائیں گے جو اُنہیں کھانے کو دیں گے ۔ ‘‘( )
البتہ غریبوں کے ساتھ یہ سلوک کرنا کہ انہیں دعوت میں بلا کر ایسی جگہ بٹھا یا جائے جہاں بیٹھنے کی صورت میں عزت دار آدمی اپنی تذلیل سمجھے اور انہیں ذلت و خواری کے ساتھ کھانا کھلایا جائے تو ایسا کرنا بہت ہی برا ہے ، غریب مسلمان بھی ہمارے دِینی بھائی ہیں اور انہیں بھی بہتر جگہ بٹھانا اور عزت و تکریم سے
ویسے کھانا وغیرہ کھلانا چاہیے جیسے ہم اپنے مالدار بھائیوں کو کھلاتے ہیں۔دعوت قبول کرنے کا شرعی حکم:بعض علماء کے نزدیک دعوت قبول کرنا واجب یا فرض ہے جبکہ جمہور کے نزدیک دعوت قبول کرنا مستحب ہے اور اَحادیث میں اِسی مستحب عمل کی تاکید بیان کی گئی ہے۔ ( )
صدرُ الشریعہ ، بدرُ الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ولیمہ میں جس شخص کو بلایا جائے اُس کو جانا سنت ہے یا واجب۔ علما کے دونوں قول ہیں ، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِجابت(یعنی ولیمے کی دعوت میں جانا) سنت مؤکدہ ہے۔ ولیمہ کے سوا دوسری دعوتوں میں بھی جانا افضل ہے۔ ‘‘
مزید فرماتے ہیں : ’’دعوتِ ولیمہ کا یہ حکم جو بیان کیا گیا ہے ، اُس وقت ہے کہ دعوت کرنے والوں کا مقصود ادائے سنت ہو اور اگر مقصود تفاخر ہو یا یہ کہ میری واہ واہ ہوگی جیسا کہ اِس زمانہ میں اکثر یہی دیکھا جاتا ہے ، تو ایسی دعوتوں میں نہ شریک ہونا بہتر ہے خصوصاً اہلِ علم کو ایسی جگہ نہ جانا چاہیے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’ولیمہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)دعوتِ ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت ، ہر ایک میں نام و نمود اور دِکھاوے سے بچنا چاہیے اور فقط رِضائے اِلٰہی کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
(2)اپنی دعوتوں کو فقط امیروں یا مالدار لوگوں کے ساتھ ہی خاص نہیں رکھنا چاہیے بلکہ غریبوں اور فقراء حضرات کو بھی اپنی دعوتوں میں بلانا چاہیے۔
(3)دعوت میں فقط مالداروں کو عزت اور غریبوں کی تذلیل وتوہین نہ کی جائے بلکہ امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ عزت و تکریم والا سلوک کرنا چاہیے۔
(4)اگر ضرورتاً مالداروں اور غریبوں کو علیحدہ علیحدہ جگہوں پر بٹھا کر ایک ہی کھانا وغیرہ کھلایا جائے تاکہ مالداروں کو اُلجھن نہ ہو تو ایسا کرنےمیں کوئی حرج نہیں ہے۔
(5)سنت ادا کرنے کی نیت سے کی جانے والی دعوتِ ولیمہ میں شرکت کرنا سنت مؤکدہ ہے جبکہ فخر و بڑائی کے اِظہار والی دعوت میں شرکت نہ ہی کرنا بہتر ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مالدار اور غریب بھائیوں دونوں کے ساتھ ایک سا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، جس طرح ہم مالدار بھائیوں کی عزت وتکریم کرتے ہیں ویسے ہی اپنے غریب مسلمان بھائیوں کی بھی عزت وتکریم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، جس طرح ہم اپنے مالدار بھائیوں کی کھانے وغیرہ کے حوالے سے خیرخواہی کرتے ہیں ویسے ہی اپنے غریب مسلمان بھائیوں کی بھی خیرخواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 266