Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 267

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْن حَتّٰی تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ وضَمَّ اَصَابِعَهُ.( )

وعن انس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : من عال جاريتين حتی تبلغا جاء يوم القيامة انا وهو كهاتين وضم اصابعه.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دو بیٹیوں کی پرورش کرےیہاں تک کہ وہ جوان ہو جائیں تو میں اور وہ شخص قیامت کے دن اِس طرح آئیں گے ۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔

شرح حدیث

بیٹیوں کی پرورش کے فضائل:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ دو بیٹیوں کی پرورش کرنے والے کوقیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کااتناقُرب نصیب ہو گا جیسے دو انگلیاں ایک دوسرے کے

قریب ہوتی ہیں۔ بیٹیوں کی پرورش سے متعلق دوفرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :
(1) ’’جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی ، اُنہیں ادب سکھایا ، اُن کی شادی کروائی اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کیا تو اُس کے لئے جنت ہے۔ ‘‘( )
(2)’’جو تین بیٹیوں یا اُن کی مثل(یعنی تین) بہنوں کی پرورش کرے کہ انہیں ادب سکھائے اور اُن پر مہربانی کرے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں (اِس سے)بے نیاز کردے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے لیے جنت واجب کردے گا۔ ‘‘یہ سن کر ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اور دو کی۔ ‘‘(یعنی دو کی پرورش کرنے والے کے لئے بھی یہی اجر ہے؟)ارشاد فرمایا : ’’دو کی پرورش کرنے پر بھی یہی اجر ہے۔ “ (راوی کہتے ہیں : ) حتی کہ اگر لوگ یوں کہتے : ’’یا ایک کی؟‘‘تو بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہی ارشادفرما تےکہ : ’’ایک کی پرورش پر بھی یہی اجر ہے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)دو بیٹیوں کی پرورش کرنے والے کو بھی قیامت کے دن محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا انتہائی قرب نصیب ہو گا۔
(2)بیٹیوں اور بہنوں کی پرورش کرنا ، انہیں ادب سکھانا ، ان پر مہربانی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا جنت پانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(3)تین بیٹیوں اور اور بہنوں کی پرورش پر ہی یہ اجر ملنا موقوف نہیں بلکہ دو یا ایک کی پرورش کرنے پر بھی یہی اجر مل سکتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 267