- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے ، ہر روز جس دِن سورج طلوع ہوتا ہے دو شخصوں کے درمیان اِنصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا صدقہ ہے ، کسی شخص کو اُس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد کرنا یا اُس کا سامان اٹھا کرسواری پررکھ دینا بھی صدقہ ہے ، اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے ، نماز کے لئے جانے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے ، راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ
صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيۡهِ الشَّمْسُ تَعْدِلُ بَيْنَ الْاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيۡنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌوَبِكُلِّ خَطْوَةٍ تَمْشِيۡهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيۡطُ الْاَذٰى عَنِ الطَّرِيۡقِ صَدَقَةٌ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 248 ، لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ کُلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’ وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کروادے (کیونکہ) وہ اچھی نیت کے ساتھ بات پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔ ‘‘مسلم کی روایت میں الفاظ زائد ہیں کہ سیدتنا اُمّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : “ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کسی ایسی بات کے بارے میں اجازت دیتے ہوئے نہیں سنا جسے لوگ جھوٹ بولتے ہیں مگر تین صورتوں میں( اجازت دی ہے) جنگ میں ، لوگوں میں
صلح کراتے وقت اور شوہر کا بیوی کو اور بیوی کا شوہر کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ ‘‘
عَنْ اُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ اَبِي مُعِيْط ٍقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا اَوْ يَقُوْلُ خَيْرًا. ( )وَفِیْ رِوَایَۃِ مُسْلِـمٍ زِیَادَۃٌ قَالَتْ : وَلَمْ اَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِيْ شَيْءٍ مِمَّا يَقُوْلُهُ النَّاسُ اِلَّا فِيْ ثَلَاثٍ تَعْنِي:الْحَرْبَ وَالْاِصْلَاحَ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيْثَ الرَّجُلِ امْرَاَتَهُ وَحَدِيْثَ الْمَرْاَةِ زَوْجَهَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 249 ، لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں
ایسا نہیں کروں گا۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے۔ ‘‘
مشکل الفاظ کے معانی : “ يَسْتَوْضِعُہُ “ کا معنی ہے قرض کے کچھ حصے میں کمی کی درخواست کرنا۔ “ یَسْتَرْفِقُہُ “ کا معنی ہے نرمی چاہنا۔ “ الْمُتَاَلَّی “ کا معنی ہے قسم کھانے والا۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ اَصْوَاتُهُمَا وَاِذَا اَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِيْ شَيْءٍ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا اَفْعَلُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَيْنَ الْمُتَاَلِّي عَلَى اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوْفَ فَقَالَ: اَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَهُ اَيُّ ذَلِكَ اَحَبَّ. ( ) مَعْنَي “ يَسْتَوْضِعُہُ “ یَسْاَلُہُ اَنْ یَّضَعَ عَنْہُ بَعْضَ دَیْنِہِ وَ “ یَسْتَرْفِقُہُ “ یَسْاَلُہُ الرِّفْقَ وَ “ الْمُتَاَلِّی “ الْحَالِفُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 250 ، لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
حضرت سیدنا ابو العباس سہل بن ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ خبر پہنچی کہ بنی عَمرو بن عوف کے درمیان کوئی جھگڑا ہےتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے درمیان صلح کروانےکے لیے کچھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ تشریف لے گئے ، وہاں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تاخیر ہوگئی اور(یہاں)نماز کا وقت ہوگیا۔ حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئے اور عرض کی : ’’اے ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ !حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو وہیں ٹھہر گئے ہیں اور یہاں نماز کا وقت ہوگیا ہے ، کیا آپ لوگوں کو
نماز پڑھادیں گے؟ سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’اگر تم چاہتے ہو تو پڑھادیتے ہیں۔ ‘‘ پھر سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اقامت کہی ، سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آگے بڑھے اور تکبیر کہہ کر نماز شروع کردی۔ بقیہ لوگوں نے بھی آپ کی اقتداء میں تکبیر کہہ کر نماز شروع کردی۔
(بعد ازاں) رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے اور صفوں میں چلتے ہوئے پہلی صف میں آکر مل گئےلوگوں نے تصفیق (یعنی ایک ہاتھ کی پشت پر دوسرا ہاتھ مارنا) شروع کردی۔ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب نماز میں ہوتے تو کسی جانب متوجہ نہ ہوتے لیکن جب تصفیق زیادہ ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم موجود ہیں مگررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کا اشارہ فرمایا۔ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےاپنے ہاتھ اُٹھائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کی۔ پھر اُلٹے قدم پیچھے آئے اور صف میں کھڑے ہوگئے ۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشادفرمایا : “ اے
لوگو! تمہیں کیا ہوا کہ جب تمہیں نماز میں کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو تم تصفیق کرتے ہو؟تصفیق کا حکم تو عورتوں کے لیے ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی معاملہ درپیش ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سُبْحَانَ اللہ کہے ، کیونکہ جب کوئی شخص سُبْحَانَ اللہ سنے گا تو وہ تمہاری طرف متوجہ ہوجائے گا۔ “ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا : “ اے ابو بکر!جب میں نے تمہیں اشارہ کردیا تھا تو پھر تمہیں کس چیز نے لوگوں کو نماز پڑھانے سے روکا؟ “ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ابو قحافہ کے بیٹے کی یہ جرأت نہیں کہ وہ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے کھڑے ہوکر نماز پڑھائے۔ ‘‘
عَنْ اَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ اَلسَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ اَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَرٌّ فَخَرَجَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فِي اُنَاسٍ مَعَهُ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ بِلَالٌ اِلَى اَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: يَا اَبَا بَكْرٍ! اِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَ حَانَتِ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَكَ اَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ؟ قَالَ: نَعَمْ اِنْ شِئْتَ فَاَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ وَتَقَدَّمَ اَبُو بَكْرٍ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ فَاَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيْقِ وَكَانَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا اَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَاِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَشَارَ اِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ اَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: اَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ اَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيْقِ؟ اِنَّمَا التَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ:سُبْحَانَ اللَّهِ فَاِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ اَحَدٌ حِيْنَ يَقُوْلُ:سُبْحَانَ اللَّهِ اِلَّا الْتَفَتَ. يَا اَبَا بَكْرٍ! مَا مَنَعَكَ اَنْ
تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ حِينَ اَشَرْتُ اِلَيْكَ؟ فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ اَبِي قُحَافَةَ اَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 251 ، لوگوں کے درمیان صلح کا بیان