- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- حدیث نمبر 250
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ اَصْوَاتُهُمَا وَاِذَا اَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِيْ شَيْءٍ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا اَفْعَلُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَيْنَ الْمُتَاَلِّي عَلَى اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوْفَ فَقَالَ: اَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَهُ اَيُّ ذَلِكَ اَحَبَّ. ( ) مَعْنَي “ يَسْتَوْضِعُہُ “ یَسْاَلُہُ اَنْ یَّضَعَ عَنْہُ بَعْضَ دَیْنِہِ وَ “ یَسْتَرْفِقُہُ “ یَسْاَلُہُ الرِّفْقَ وَ “ الْمُتَاَلِّی “ الْحَالِفُ.
عن عائشة رضي الله عنها قالت: سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم صوت خصوم بالباب عالية اصواتهما واذا احدهما يستوضع الآخر ويسترفقه في شيء وهو يقول: والله لا افعل فخرج عليهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: اين المتالي على الله لا يفعل المعروف فقال: انا يا رسول الله فله اي ذلك احب. ( ) معني “ يستوضعہ “ یسالہ ان یضع عنہ بعض دینہ و “ یسترفقہ “ یسالہ الرفق و “ المتالی “ الحالف.
حدیث ترجمہ
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں
ایسا نہیں کروں گا۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے۔ ‘‘
مشکل الفاظ کے معانی : “ يَسْتَوْضِعُہُ “ کا معنی ہے قرض کے کچھ حصے میں کمی کی درخواست کرنا۔ “ یَسْتَرْفِقُہُ “ کا معنی ہے نرمی چاہنا۔ “ الْمُتَاَلَّی “ کا معنی ہے قسم کھانے والا۔
شرح حدیث
رسولُ اللہنے صلح کروادی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو جھگڑنے والے اَفراد میں فقط ایک مبارک جملے سے صلح کروادی۔ اس حدیثِ پاک کی باب سے یہی مناسبت ہے اور علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے اسے اس باب میں اسی وجہ سے ذکر فرمایا ہے کہ اس میں دو لڑنے والے افراد کے مابین صلح کروانے کا بیان ہے اور یہ باب بھی لڑنے والوں کے مابین صلح کروانے کا باب ہے۔نیک کام سے کیا مراد ہے؟دلیل الفالحین میں ہے : ’’ اِن میں سے ایک شخص دوسرے سے قرض میں کچھ کمی کرنے اور اس سے اس معاملے میں نرمی اختیار کرنےکا کہہ رہا تھاتو دوسرے شخص نے کہا کہ خدا کی قسم! میں کوئی کمی نہیں کروں گا۔ ابن حبان کی روایت میں ہے کہ اس نے یہ بات تین دفعہ کہی تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لائے اور استفسار فرمایا : “ کہاں ہے وہ شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیک کام نہیں کروں گا؟ “ نیک کام سے مراد اپنے بھائی کے ساتھ نرمی والا معاملہ اور قرض میں کمی کرنا۔ ‘‘( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے۔ نیز اِس حدیث میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھانے سے منع فرمایا کیونکہ اِس میں بندے کا خود مختار اور اپنے اِرادے پربذاتِ خود قادر ہونے کا معنیٰ پایا جارہا ہے گویا کہ اُس نے حتمی طور پر فیصلہ کر لیا کہ میں یہ کام نہیں کروں گااور یہ فرقہ قدریہ کے عقائد کے مشابہ ہے جو کہ بندے کے خود مختار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ بندہ اپنے اَفعال کے بارے میں خود مختار ہے ، اس لیے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُنہیں اِس پر تنبیہ فرمائی اور وہ فورا ًسمجھ گئے اور اپنی قسم سے رُجوع کرلیا اور کہا کہ اِس مقروض کے لیے وہی ہے جو یہ چاہےیعنی قرضے میں کمی اور نرمی(جو چاہے میں اُس کے لیے کردوں گا)۔ ( )قرض میں کمی یا نرمی کا سوال کرنا جائز ہے:شارح حدیث علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس طرح کسی سے قرضے میں کمی یا نرمی کا سوال کرنا جائز ہے بشرطیکہ بہت زیادہ اِصرار نہ کرے اور اِہانت نفس (یعنی اپنے آپ کو ذلیل کرنا) نہ ہو یا ایذا کا اندیشہ نہ ہو بلکہ ضرورۃً ایسا سوال کرنا جائز ہے۔ اِس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ بھلائی کے کام کو ترک کرنے کی قسم کھانا مکروہ ہے اور اگر کسی نے نیکی کے کام کو نہ کرنے کی قسم کھائی تو اُس کے لیے مستحب ہے کہ وہ قسم توڑدے اور کفارہ ادا کرے ، نیز اِس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ مسجد میں قرض کا مطالبہ کرنا ، صاحب حق سے حق میں کمی یا نرمی کرنے کی سفارش کرنا ، دو لڑنے والوں میں صلح کرنا ، اُن کے درمیان میانہ روی کے ساتھ جھگڑا ختم کروانا اور نیکی کے کام میں سفارش کو قبول کرنا جائز ہے۔ ‘‘( )
تنگ دست قرض دار کو مہلت دینے کی فضیلت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1) “ جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّدنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا۔ “ ( ) (2) “ جس نے تنگد ست کو مہلت دی یااُس کے قرض میں کمی کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُسے اپنے عر ش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اُس سائے کے علا وہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ “ ( ) (3) “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُس کے لئے ہر روز اُس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا : “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا۔ “ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !پہلے تو میں نے آپ کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب ہے پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ فرمایاکہ جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ اُسے روزانہ قر ض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثو اب تو قر ض کی ادا ئیگی کا وقت آنے سے پہلے ملے گااور جب ادائیگی کا
وقت ہوگیا پھر اُس نے قرض د ار کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کاثوا ب ملے گا۔ “ ( )اعلیٰ حضرت کا حدیث پر عمل:اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت ، مجدِّدِدِین وملت ، پروانہ شمع رِسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مذکورہ حدیثِ مبارکہ کے عامل تھے ، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۵۴۰صفحات پرمشتمل کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صفحہ۹۱ سے ایک سوال اور اُس کے جواب کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ کسی پر قرض ہے اور وہ اب ادائیگی نہیں کرتا تو فرمایا کہ اِس زمانے میں قرض دینا اور یہ خیال کرنا کہ وُصُول ہوجائے گا ، ایک مشکل خیال ہے۔ میرے پندرہ سوروپے لوگو ں پر قرض ہیں ۔ جب قرض دیا تویہ خیال کرلیا کہ دے دے تو خیر و رنہ طلب نہ کرو ں گا ۔ لیکن جن لوگوں نے قرض لیا ، واپس کرنے کا نام ہی نہ لیا۔ اور ہاں! جب قرض دیتا ہوں تو ہبہ کیوں نہیں کر دیتا یعنی تحفہ کیوں نہیں دے دیتا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں ارشاد فرمایا : ’’جب کسی کا دوسرے پر دَین یعنی قرض ہو اور اُس کی مدت گزر جائے تو ہر روز اتنے قرض کے برابر روپیہ خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ لہٰذا اِس ثوابِ عظیم کو پانے کے لئے میں نے پیسے قرض دیئے ، ہبہ نہ کئے کیونکہ پندرہ سوروپے روز انہ میں کہا ں سے خیرات کروں گا؟مدنی گلدستہ
’’صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول(1)حتی المقدور تنگدست اور مجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے۔
(2)قرض خواہ اگر بہت ضرورت مند نہیں تو اُسے قرض دار کے قرض میں کمی بھی کرنی چاہیے۔
(3)قرض خواہ اگر مال دار ہے اور قرض دار بہت نادار ہےتو اُس مال دار کو چاہیے کہ قرض معاف کر
دے کہ یہ نہایت ہی اجر وثواب کا باعث ہے۔
(4)نیک کام کو ترک کرنے کی قسم کھانے والے کو تنبیہ کرنا سنت سے ثابت ہے۔
(5)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مراد کو بہت جلد سمجھ جایا کرتے تھے اور اشارہ ملتے ہی اُس پر عمل پیرا ہوجاتے ، نیز نیکیوں پر بہت حریص ہوا کرتے تھے۔
(6)یہ بھی معلوم ہوا کہ قرض خواہ سے مقروض کے لیے سفارش کرنی چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کی توفیق عطا فرمائے ، تنگدست قرض دار کو مہلت دینے ، یا قرض میں کمی کرنے یا معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 250