Main Icon

لوگوں کے درمیان صلح کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 249

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ اَبِي مُعِيْط ٍقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا اَوْ يَقُوْلُ خَيْرًا. ( )وَفِیْ رِوَایَۃِ مُسْلِـمٍ زِیَادَۃٌ قَالَتْ : وَلَمْ اَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِيْ شَيْءٍ مِمَّا يَقُوْلُهُ النَّاسُ اِلَّا فِيْ ثَلَاثٍ تَعْنِي:الْحَرْبَ وَالْاِصْلَاحَ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيْثَ الرَّجُلِ امْرَاَتَهُ وَحَدِيْثَ الْمَرْاَةِ زَوْجَهَا. ( )

عن ام كلثوم بنت عقبة بن ابي معيط قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس فينمي خيرا او يقول خيرا. ( )وفی روایۃ مسلـم زیادۃ قالت : ولم اسمعه يرخص في شيء مما يقوله الناس الا في ثلاث تعني:الحرب والاصلاح بين الناس وحديث الرجل امراته وحديث المراة زوجها. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ کُلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’ وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کروادے (کیونکہ) وہ اچھی نیت کے ساتھ بات پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔ ‘‘مسلم کی روایت میں الفاظ زائد ہیں کہ سیدتنا اُمّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : “ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کسی ایسی بات کے بارے میں اجازت دیتے ہوئے نہیں سنا جسے لوگ جھوٹ بولتے ہیں مگر تین صورتوں میں( اجازت دی ہے) جنگ میں ، لوگوں میں

صلح کراتے وقت اور شوہر کا بیوی کو اور بیوی کا شوہر کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ ‘‘

شرح حدیث

جھوٹ اور توریہ کی تعریف:(1)’’واقع کے خلاف خبر دینے کو جھوٹ کہتے ہیں۔ ‘‘( ) اور (2) توریہ یہ ہے کہ متکلم اپنے کلام سے وہ معنیٰ مراد لے جو ظاہر کے خلاف ہوں۔ ( ) اسے آسان لفظوں میں یوں سمجھیے ایک لفظ کے دو معانی ہوں ایک قریب یعنی مشہور اور دوسرا بعید یعنی غیر مشہور ، بولنے والا بعید معنیٰ مراد لے اور سننے والے کے ذہن میں قریبی معنیٰ کا وہم ڈالےجیسے کسی کو کھانے کے لیے بلایا ، وہ کہتا ہے : میں نے کھانا کھالیا۔ اس کے ظاہری معنیٰ یہ ہیں کہ ابھی کا کھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھالیا ہے۔تین جگہوں پر خلاف واقعہ بات کرنا جائزہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین موقعہ پر خلافِ واقعہ بات کہہ دینے کی اجازت دی کہ اُن کا انجام بہت اچھا ہے۔ یعنی جہاد میں اگر مسلمان کمزور ہوں کفار قوی ، پھر مسلمان کہیں کہ ہم بڑے طاقتور ہیں تم کو فنا کردیں گے ہمارے پاس سامان جنگ بہت ہے۔ جس سے کفار کا حوصلہ پست ہو بالکل جائز ہے کہ یہ اگرچہ ہے تو جھوٹ مگر ہے جنگی تدبیر۔ جن مسلمانوں میں آپس میں لڑائی ہو ان میں جھوٹ بول کر صلح کرادے کہ ہر ایک تک دوسرے کی دل خوش کن بات گھڑ کر سنادے کہ وہ تمہاری بڑی تعریف کرتا تھا ، تم سے مل جانے کا خواہش مند ہے وغیرہ وغیرہ۔ زوجین میں سے کوئی دوسرے سے اپنی بہت محبت ظاہرکرے حالانکہ اسے اتنی محبت نہ ہو یا اپنی بیوی سے زیور کا وعدہ کرے مگر بنوا نہ سکے ، یہ سب اگرچہ ہے جھوٹ ، مگر ہے جائز کہ اِس میں معاشرے کی اِصلاح ہے۔ ‘‘( )

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حدیثِ مذکور میں میاں بیوی کو جھوٹ بولنے کی جو اجازت دی گئی ہے اُس سےمراد یہ ہے کہ وہ محبت کے اِظہار کے لیے ، ایک دوسرے کو منانے یا خوش کرنے کے لیے جھوٹ بول سکتے ہیں نہ کہ دھوکہ دینے کے لیے کیونکہ دھوکہ دینا تو باجماعِ مسلمین حرام کام ہے۔ ‘‘( )
صلح کروانے کے لیے خلاف واقعہ بات کہنا:فقیہ اعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے اقتضاءً یہ ثابت ہوتا ہے کہ دو فریق میں صلح کرانے کے لیے خلاف واقعہ ایسی بات کہنے کی اجازت ہے جس سے صلح میں مدد ملے۔ مگر بعض علما ءیہ فرماتے ہیں کہ جھوٹ کسی حال میں جائز نہیں اس سے مراد توریہ ہے یعنی ایسی ذو معانی بات کہنی جس میں سچ کا بھی پہلو ہو۔ لیکن تحقیق یہ ہے کہ جنگ اور زوجین میں میل جول کرانے اور فریق میں صلح کروانے نیز اپنی یا کسی مسلمان کی جان ، مال ، عزت آبرو بچانے کے لیے خلافِ واقعہ بات کہنی جائز بلکہ مستحب ہے حتی کہ بعض صورتوں میں واجب مگر اس وقت جب کہ توریہ سے بھی کام نہ چلے اور خلافِ واقعہ بات کہے بغیر چارہ کار نہ ہواور اگر توریہ سے کام چل جائے تو خلافِ واقعہ بات کہنے کی اجازت نہیں۔ ‘‘( )صلح کروانے والا جھوٹا نہیں:حدیثِ مذکور میں اُس شخص کے جھوٹا ہونے کی نفی کی گئی ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے خلافِ واقعہ بات کرے۔ اُس کے جھوٹا نہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : “ یعنی اُس پر جھوٹ کا گناہ نہیں۔ دو لڑنے والوں میں صلح کروانے والا اُن میں صلح کی نیت سے خلافِ واقعہ بات کہے (تو اُس پر جھوٹ کا گناہ نہیں) کیونکہ یہ جھوٹ

بھلائی کی طرف لے جانے والا ہے۔ ‘‘( )
جھوٹ کی تباہ کاریاں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دو لڑنے والوں میں جھوٹ بول کر صلح کروانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بات بات پر جھوٹ بولا جائے۔ افسوس! جھوٹ بولنے کی وبا ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے ، بات بات پر جھوٹ بولنا اتنا عام ہوچکا ہے کہ گویا جھوٹ کے بغیر کوئی کام مکمل نہیں ہوسکتا ، حالانکہ جھوٹ ایک نہایت ہی قبیح اور بُرا فعل ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ’’احیاء العلوم‘‘جلدسوم ، صفحہ۴۰۶ سے جھوٹ کی چند تباہ کاریاں ملاحظہ کیجئے :
(1)جھوٹ سے بچو کہ جھوٹ حق تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں یعنی جھوٹ اور حق تعالیٰ کی نافرمانی جہنم میں لے جاتے ہیں۔ (2)جھوٹ نفاق کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ (3) اپنے مسلمان بھائی سے جھوٹ بولنا بہت بڑی خیانت ہے۔ (4) جو شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے اسے رب تعالیٰ کے ہاں کذاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ (5) جھوٹ رِزق کو تنگ کردیتا ہے۔ (6) جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نظرِرحمت نہ فرمائے گا۔ (7) بات کرتے ہوئے جھوٹ بولنے والے کے لیے ہلاکت ہے۔ (8) جھوٹے شخص کو قیامت تک قبر میں عذاب دیا جاتا رہے گا۔ کاش ہم سچ بولنے والے بن جائیں ، کبھی بھی جھوٹ نہ بولیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں جھوٹ کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین
میں جھوٹ نہ بولوں کبھی گالی نہ نکالوں
اللہ مرض سے تو گناہوں کے شفا دے
مدنی گلدستہ
’’قرآن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اسلام میں دو لڑنے والوں کے درمیان صلح کروانے کا درس دیا گیا ہے۔
(2)دو لڑنے والوں میں صلح کروانے کی اتنی اہمیت ہے کہ اگر اُن میں جھوٹ بول کر بھی صلح کرانی پڑے اور وہ صلح کرلیں تو اِس کی اجازت ہے۔
(3)جنگ میں ، زوجَین کا ایک دوسرے کو خوش کرنے اور فریقَین میں صلح کروانے کے لیے خلافِ واقع بات کرنا جائز ہے۔
(4)کسی کو دھوکہ دینے یا اُسے نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ، مسلمانوں کی صلح کروانے کی توفیق عطا فرمائے ، گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطافرمائے ، خصوصاً جھوٹ بولنے اور اُس کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 249