- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- حدیث نمبر 249
لوگوں کے درمیان صلح کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 249
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ اَبِي مُعِيْط ٍقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا اَوْ يَقُوْلُ خَيْرًا. ( )وَفِیْ رِوَایَۃِ مُسْلِـمٍ زِیَادَۃٌ قَالَتْ : وَلَمْ اَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِيْ شَيْءٍ مِمَّا يَقُوْلُهُ النَّاسُ اِلَّا فِيْ ثَلَاثٍ تَعْنِي:الْحَرْبَ وَالْاِصْلَاحَ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيْثَ الرَّجُلِ امْرَاَتَهُ وَحَدِيْثَ الْمَرْاَةِ زَوْجَهَا. ( )
عن ام كلثوم بنت عقبة بن ابي معيط قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس فينمي خيرا او يقول خيرا. ( )وفی روایۃ مسلـم زیادۃ قالت : ولم اسمعه يرخص في شيء مما يقوله الناس الا في ثلاث تعني:الحرب والاصلاح بين الناس وحديث الرجل امراته وحديث المراة زوجها. ( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ کُلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’ وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کروادے (کیونکہ) وہ اچھی نیت کے ساتھ بات پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔ ‘‘مسلم کی روایت میں الفاظ زائد ہیں کہ سیدتنا اُمّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : “ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کسی ایسی بات کے بارے میں اجازت دیتے ہوئے نہیں سنا جسے لوگ جھوٹ بولتے ہیں مگر تین صورتوں میں( اجازت دی ہے) جنگ میں ، لوگوں میں
صلح کراتے وقت اور شوہر کا بیوی کو اور بیوی کا شوہر کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ ‘‘
شرح حدیث
جھوٹ اور توریہ کی تعریف:(1)’’واقع کے خلاف خبر دینے کو جھوٹ کہتے ہیں۔ ‘‘( ) اور (2) توریہ یہ ہے کہ متکلم اپنے کلام سے وہ معنیٰ مراد لے جو ظاہر کے خلاف ہوں۔ ( ) اسے آسان لفظوں میں یوں سمجھیے ایک لفظ کے دو معانی ہوں ایک قریب یعنی مشہور اور دوسرا بعید یعنی غیر مشہور ، بولنے والا بعید معنیٰ مراد لے اور سننے والے کے ذہن میں قریبی معنیٰ کا وہم ڈالےجیسے کسی کو کھانے کے لیے بلایا ، وہ کہتا ہے : میں نے کھانا کھالیا۔ اس کے ظاہری معنیٰ یہ ہیں کہ ابھی کا کھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھالیا ہے۔تین جگہوں پر خلاف واقعہ بات کرنا جائزہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین موقعہ پر خلافِ واقعہ بات کہہ دینے کی اجازت دی کہ اُن کا انجام بہت اچھا ہے۔ یعنی جہاد میں اگر مسلمان کمزور ہوں کفار قوی ، پھر مسلمان کہیں کہ ہم بڑے طاقتور ہیں تم کو فنا کردیں گے ہمارے پاس سامان جنگ بہت ہے۔ جس سے کفار کا حوصلہ پست ہو بالکل جائز ہے کہ یہ اگرچہ ہے تو جھوٹ مگر ہے جنگی تدبیر۔ جن مسلمانوں میں آپس میں لڑائی ہو ان میں جھوٹ بول کر صلح کرادے کہ ہر ایک تک دوسرے کی دل خوش کن بات گھڑ کر سنادے کہ وہ تمہاری بڑی تعریف کرتا تھا ، تم سے مل جانے کا خواہش مند ہے وغیرہ وغیرہ۔ زوجین میں سے کوئی دوسرے سے اپنی بہت محبت ظاہرکرے حالانکہ اسے اتنی محبت نہ ہو یا اپنی بیوی سے زیور کا وعدہ کرے مگر بنوا نہ سکے ، یہ سب اگرچہ ہے جھوٹ ، مگر ہے جائز کہ اِس میں معاشرے کی اِصلاح ہے۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حدیثِ مذکور میں میاں بیوی کو جھوٹ بولنے کی جو اجازت دی گئی ہے اُس سےمراد یہ ہے کہ وہ محبت کے اِظہار کے لیے ، ایک دوسرے کو منانے یا خوش کرنے کے لیے جھوٹ بول سکتے ہیں نہ کہ دھوکہ دینے کے لیے کیونکہ دھوکہ دینا تو باجماعِ مسلمین حرام کام ہے۔ ‘‘( )صلح کروانے کے لیے خلاف واقعہ بات کہنا:فقیہ اعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے اقتضاءً یہ ثابت ہوتا ہے کہ دو فریق میں صلح کرانے کے لیے خلاف واقعہ ایسی بات کہنے کی اجازت ہے جس سے صلح میں مدد ملے۔ مگر بعض علما ءیہ فرماتے ہیں کہ جھوٹ کسی حال میں جائز نہیں اس سے مراد توریہ ہے یعنی ایسی ذو معانی بات کہنی جس میں سچ کا بھی پہلو ہو۔ لیکن تحقیق یہ ہے کہ جنگ اور زوجین میں میل جول کرانے اور فریق میں صلح کروانے نیز اپنی یا کسی مسلمان کی جان ، مال ، عزت آبرو بچانے کے لیے خلافِ واقعہ بات کہنی جائز بلکہ مستحب ہے حتی کہ بعض صورتوں میں واجب مگر اس وقت جب کہ توریہ سے بھی کام نہ چلے اور خلافِ واقعہ بات کہے بغیر چارہ کار نہ ہواور اگر توریہ سے کام چل جائے تو خلافِ واقعہ بات کہنے کی اجازت نہیں۔ ‘‘( )صلح کروانے والا جھوٹا نہیں:حدیثِ مذکور میں اُس شخص کے جھوٹا ہونے کی نفی کی گئی ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے خلافِ واقعہ بات کرے۔ اُس کے جھوٹا نہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : “ یعنی اُس پر جھوٹ کا گناہ نہیں۔ دو لڑنے والوں میں صلح کروانے والا اُن میں صلح کی نیت سے خلافِ واقعہ بات کہے (تو اُس پر جھوٹ کا گناہ نہیں) کیونکہ یہ جھوٹ
بھلائی کی طرف لے جانے والا ہے۔ ‘‘( )جھوٹ کی تباہ کاریاں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دو لڑنے والوں میں جھوٹ بول کر صلح کروانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بات بات پر جھوٹ بولا جائے۔ افسوس! جھوٹ بولنے کی وبا ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے ، بات بات پر جھوٹ بولنا اتنا عام ہوچکا ہے کہ گویا جھوٹ کے بغیر کوئی کام مکمل نہیں ہوسکتا ، حالانکہ جھوٹ ایک نہایت ہی قبیح اور بُرا فعل ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ’’احیاء العلوم‘‘جلدسوم ، صفحہ۴۰۶ سے جھوٹ کی چند تباہ کاریاں ملاحظہ کیجئے :
(1)جھوٹ سے بچو کہ جھوٹ حق تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں یعنی جھوٹ اور حق تعالیٰ کی نافرمانی جہنم میں لے جاتے ہیں۔ (2)جھوٹ نفاق کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ (3) اپنے مسلمان بھائی سے جھوٹ بولنا بہت بڑی خیانت ہے۔ (4) جو شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے اسے رب تعالیٰ کے ہاں کذاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ (5) جھوٹ رِزق کو تنگ کردیتا ہے۔ (6) جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نظرِرحمت نہ فرمائے گا۔ (7) بات کرتے ہوئے جھوٹ بولنے والے کے لیے ہلاکت ہے۔ (8) جھوٹے شخص کو قیامت تک قبر میں عذاب دیا جاتا رہے گا۔ کاش ہم سچ بولنے والے بن جائیں ، کبھی بھی جھوٹ نہ بولیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں جھوٹ کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین
میں جھوٹ نہ بولوں کبھی گالی نہ نکالوں
اللہ مرض سے تو گناہوں کے شفا دےمدنی گلدستہ
’’قرآن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1)اسلام میں دو لڑنے والوں کے درمیان صلح کروانے کا درس دیا گیا ہے۔
(2)دو لڑنے والوں میں صلح کروانے کی اتنی اہمیت ہے کہ اگر اُن میں جھوٹ بول کر بھی صلح کرانی پڑے اور وہ صلح کرلیں تو اِس کی اجازت ہے۔
(3)جنگ میں ، زوجَین کا ایک دوسرے کو خوش کرنے اور فریقَین میں صلح کروانے کے لیے خلافِ واقع بات کرنا جائز ہے۔
(4)کسی کو دھوکہ دینے یا اُسے نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ، مسلمانوں کی صلح کروانے کی توفیق عطا فرمائے ، گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطافرمائے ، خصوصاً جھوٹ بولنے اور اُس کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 249