Main Icon

لوگوں کے درمیان صلح کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 251

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ اَلسَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ اَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَرٌّ فَخَرَجَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فِي اُنَاسٍ مَعَهُ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ بِلَالٌ اِلَى اَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: يَا اَبَا بَكْرٍ! اِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَ حَانَتِ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَكَ اَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ؟ قَالَ: نَعَمْ اِنْ شِئْتَ فَاَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ وَتَقَدَّمَ اَبُو بَكْرٍ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ فَاَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيْقِ وَكَانَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا اَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَاِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَشَارَ اِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ اَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: اَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ اَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيْقِ؟ اِنَّمَا التَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ:سُبْحَانَ اللَّهِ فَاِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ اَحَدٌ حِيْنَ يَقُوْلُ:سُبْحَانَ اللَّهِ اِلَّا الْتَفَتَ. يَا اَبَا بَكْرٍ! مَا مَنَعَكَ اَنْ

تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ حِينَ اَشَرْتُ اِلَيْكَ؟ فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ اَبِي قُحَافَةَ اَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ( )

عن ابي العباس سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بلغه ان بني عمرو بن عوف كان بينهم شر فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلح بينهم في اناس معه فحبس رسول الله صلى الله عليه وسلم وحانت الصلاة فجاء بلال الى ابي بكر رضي الله عنهما فقال: يا ابا بكر! ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد حبس و حانت الصلاة فهل لك ان تؤم الناس؟ قال: نعم ان شئت فاقام بلال الصلاة وتقدم ابو بكر فكبر وكبر الناس وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي في الصفوف حتى قام في الصف فاخذ الناس في التصفيق وكان ابو بكر رضي الله عنه لا يلتفت في صلاته فلما اكثر الناس التصفيق التفت فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشار اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فرفع ابو بكر رضي الله عنه يده فحمد الله ورجع القهقرى وراءه حتى قام في الصف وتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فصلى للناس فلما فرغ اقبل على الناس فقال: ايها الناس ما لكم حين نابكم شيء في الصلاة اخذتم في التصفيق؟ انما التصفيق للنساء من نابه شيء في صلاته فليقل:سبحان الله فانه لا يسمعه احد حين يقول:سبحان الله الا التفت. يا ابا بكر! ما منعك ان

تصلي بالناس حين اشرت اليك؟ فقال ابو بكر: ما كان ينبغي لابن ابي قحافة ان يصلي بالناس بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو العباس سہل بن ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ خبر پہنچی کہ بنی عَمرو بن عوف کے درمیان کوئی جھگڑا ہےتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے درمیان صلح کروانےکے لیے کچھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ تشریف لے گئے ، وہاں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تاخیر ہوگئی اور(یہاں)نماز کا وقت ہوگیا۔ حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئے اور عرض کی : ’’اے ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ !حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو وہیں ٹھہر گئے ہیں اور یہاں نماز کا وقت ہوگیا ہے ، کیا آپ لوگوں کو
نماز پڑھادیں گے؟ سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’اگر تم چاہتے ہو تو پڑھادیتے ہیں۔ ‘‘ پھر سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اقامت کہی ، سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آگے بڑھے اور تکبیر کہہ کر نماز شروع کردی۔ بقیہ لوگوں نے بھی آپ کی اقتداء میں تکبیر کہہ کر نماز شروع کردی۔
(بعد ازاں) رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے اور صفوں میں چلتے ہوئے پہلی صف میں آکر مل گئےلوگوں نے تصفیق (یعنی ایک ہاتھ کی پشت پر دوسرا ہاتھ مارنا) شروع کردی۔ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب نماز میں ہوتے تو کسی جانب متوجہ نہ ہوتے لیکن جب تصفیق زیادہ ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم موجود ہیں مگررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کا اشارہ فرمایا۔ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےاپنے ہاتھ اُٹھائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کی۔ پھر اُلٹے قدم پیچھے آئے اور صف میں کھڑے ہوگئے ۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشادفرمایا : “ اے

لوگو! تمہیں کیا ہوا کہ جب تمہیں نماز میں کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو تم تصفیق کرتے ہو؟تصفیق کا حکم تو عورتوں کے لیے ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی معاملہ درپیش ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سُبْحَانَ اللہ کہے ، کیونکہ جب کوئی شخص سُبْحَانَ اللہ سنے گا تو وہ تمہاری طرف متوجہ ہوجائے گا۔ “ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا : “ اے ابو بکر!جب میں نے تمہیں اشارہ کردیا تھا تو پھر تمہیں کس چیز نے لوگوں کو نماز پڑھانے سے روکا؟ “ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ابو قحافہ کے بیٹے کی یہ جرأت نہیں کہ وہ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے کھڑے ہوکر نماز پڑھائے۔ ‘‘

شرح حدیث

مسلمانوں کے درمیان صلح کروانا:مذکورہ حدیث پاک کے ابتدائی حصے میں اِس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبیلہ بنی عَمرو بن عَوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی کا مقصود بھی یہی حصہ ہے کیونکہ اس حدیث پاک میں مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کا بیان ہے اور یہ باب بھی مسلمانو ں کے درمیان صلح کروانے کا ہے۔ اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے یہ حدیث مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے۔ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلے تھے اَوس اور خزرج۔ بنو عَمرو بن عوف یہ قبیلہ اَوس کی ایک شاخ ہے۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وہاں جانے کا سبب یہ تھا کہ اہل قباء آپس میں لڑ پڑے یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھر برسائے۔ جب یہ خبر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پہنچی تو ارشاد فرمایا : “ چلو ہم اُن کے درمیان صلح کروادیں۔ “ ( )حدیث سے ماخوذ چند اَہم اُمور کا بیان:(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبیلہ بنی عَمرو بن عوف کے درمیان صلح

کروانے کے لیے ظہر کی نماز کے بعد تشریف لے گئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غیر موجودگی میں امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے ہی نماز عصر پڑھائی ، کیونکہ آپ نے سَیِّدُنَا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشاد فرمایا تھا : ’’ اگر عصر کا وقت ہو جائے اورمیں نہ آؤں تو ابو بکر کو حکم دینا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ ‘‘ ( )
(2) امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ عظیم سعادت حاصل ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غیر موجودگی اور موجودگی دونوں حالتوں میں مسلمانوں کی امامت فرمائی۔
(3) تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موجودگی وغیر موجودگی دونوں صورتوں میں نماز کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
(4) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’جب لوگوں نے تصفیق کی تو سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی نماز میں مشغول رہے اور اُن کی طرف متوجہ نہ ہوئےکیونکہ وہ جانتے تھے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز میں اِدھر اِدھر متوجہ ہونے سے منع فرمایا ہےپھر جب لوگوں نے بہت زیادہ تصفیق شروع کردی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن کی طرف متوجہ ہوئے۔ ‘‘( )
(5) بحالتِ نماز گردن پھیرے بغیر ضرورتاً اِدھر اُدھر نظر کرنا جائز ہےاور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ایسا کرنا ثابت ہے لیکن بلاضرورت اِدھر اُدھر دیکھنا مکروہ ہے ، حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ نماز میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس وقت تک اپنے بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک وہ کسی دوسری طرف التفات نہ کرے۔ “ ( )
(6) دلیل الفالحین میں ہے : ’’حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ منہ پھیرے بغیر اُلٹے قدم

پیچھے اِس لیے چلے تاکہ قبلے سے منہ نہ پِھر جائے ، ورنہ نماز فاسد ہوجائے گی۔ ‘‘( )
(7) جب حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبیلہ بنی عَمرو بن عَوف میں صلح کروانے کے بعد واپس تشریف لائے اور نماز میں شریک ہوئے تو تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نہ صرف آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ مبارکہ کی طرف متوجہ ہوگئے ، بلکہ انہوں نے تصفیق کے ذریعے اپنے امام یعنی امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھی متوجہ کیا۔ بعداَزاں سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ مبارکہ کی طرف متوجہ ہوئے اور نماز میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ادب واحترام اور تعظیم بجالاتے ہوئے اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنا شروع ہوئے ، لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منع فرمادیا۔
(8) جب حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز میں شریک ہوئے تو تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادب واحترام اور تعظیم کرتے ہوئے جگہ کشادہ کی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پہلی صف میں تشریف لے گئے ، نیز بعد ازاں امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی آپ کی تعظیم کی خاطر پیچھے تشریف لے آئے۔
(9) نماز میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ کی طرف متوجہ ہونا یا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خیال اپنے دل میں لانا اور نماز میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم کرنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت سے ثابت ہے ، اِس سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ، اگر کوئی خلل واقع ہوتاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو نماز لوٹانے کا حکم ارشاد فرماتے۔
مدنی گلدستہ
سیدنا ’’ صدیق اکبر‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)لوگوں کے درمیان صلح کروانا ، اُن کے درمیان فتنے کو ختم کرنا اور انہیں ایک بات پر متفق کرنا بڑی

فضیلت کا كام ہے۔
(2)حاکم کو چاہیے کہ اپنی رعایا کی اِصلاح کے لیے بذاتِ خود کوشش کرے۔ لوگوں کے درمیان صلح کرنا حاکم کی اپنی مصلحت پر مقدم ہےکیونکہ لڑائی جھگڑے میں جو فساد ہے وہ بہت بڑا ہے اُس کو دُور کرنا اِمام کی مصلحت سے زیادہ ضروری ہے۔
(3)امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت ہی مقام ومرتبہ رکھنے والے صحابی ہیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غیر موجودگی وموجودگی دونوں میں مسلمانوں کی اِمامت کروانے کا شرف حاصل ہوا۔
(4)رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا آپ کو نماز جاری رکھنے کا حکم دینا اِس بات کی دلیل ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے افضل ہیں۔
(5)اگر مقرر کردہ امام موجود نہ ہو تو کسی اور اہل شخص کو امام بنانا جائز ہے بشرطیکہ کسی فتنے یا مقررہ امام کی طرف سے اِنکار کا خوف نہ ہو۔
(6)نمازی کو نماز میں کوئی مسئلہ پیش آئے یا امام کو متوجہ کرنا ہو تو تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللہ کہناچاہیے۔
(7)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان چاہے مقتدی ہوتے یا امام ہوتے دونوں صورتوں میں نماز میں بھی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ مبارکہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے ، نہ صرف متوجہ ہوتے بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم بھی کیا کرتے تھے۔
(8)نماز میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خیال دِل میں لانا ، آپ کی ذاتِ مبارکہ کی طرف متوجہ ہونا ، بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم کرنا مُفْسِدِ نماز نہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں کے مابین صلح کروانے کی توفیق عطا فرمائے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 251