باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 614
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم،يقول: اَلَااُخْبِرُ كُمْ بِاَهْلِ النَّار؟كُلُّ عُتُلٍ جَوّاظٍ مُسْتَكْبرٍ .
عن حارثة بن وهب رضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم،يقول: الااخبر كم باهل النار؟كل عتل جواظ مستكبر .
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن وہبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا:’’ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟(سنو)ہر سخت مزاج،بخیل اورخود کو بڑا سمجھنے والا (جہنمی ہے )۔‘‘
شرح حدیث
تین برائیوں کی مذمت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں تین قسم کےلوگوں کا ذکرہے:(1)سخت مزاج(2) بخیل (3)متکبر۔سخت مزاجی ،بخل اورتکبر یہ ایسی برائیاں ہیں جو انسان کوجہنم میں دھکیل دیتی ہیں۔*سخت مزاجی کی وجہ سے انسان دوسروں پر بے جاغصہ کرتاہے ،اس کی سختی اسے ظلم وستم،دِل آزاری ، مار پیٹ اورحقوقُ العباد میں کوتاہی پر اُبھارتی ہےاس لئے وہ لوگوں کی نظر میں ناپسندیدہ اورقابلِ نفرت ہوجاتا ہے کیو نکہ جس چیز میں سختی ہو اسے عیب دار کر دیتی ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نرمی و عاجزی کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔*بخل( کنجوسی )کی وجہ سے انسان صدقاتِ واجبہ کی ادائیگی ، محتاجوں کی امداد اور دیگر خیر کے کاموں سے محروم رہتا ہے، کنجوس نہ خود خوش رہتا ہے نہ اس کے متعلقین(تعلق رکھنے والے)۔ اسے جان سے زیادہ مال کی فکر ہوتی ہے حالانکہ یہی مال اس کے لئے دُنیا و آخرت میں وبال ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بخل کی بیماری سے محفوظ رکھے۔*غروروتکبروہ ہلاکت خیز گناہ ہے کہ جس کی وجہ ابلیس بارگاہِ الٰہی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دھتکار دیا گیا ، لعنت کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیا ، بڑے بڑے عبادت گزارتکبر کی وجہ سے ذلیل و رُسوا ہو گئے،تکبر نے انہیں آسمان کی بلندیوں سے زمین کی پستیوں میں پہنچا دیا، تکبر کی وجہ سے جنت میں داخلہ ممنوع ہوجاتا ہے ، تکبرغضبِ الٰہی کو دعوت دیتاہے ،تکبر کرنے والا دنیا اور آخرت میں ناکام رہتا ہے ۔تکبر کی مذمت :تکبرکی مذمت پر تین فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں:(۱)بخل جس کی پیروی کی جائے(۲)نفسانی خواہش جس کی اطاعت کی جائےاور(۳)انسان کا خود کو اچھاسمجھنا۔ (2)”ہرسخت مِزاج ،اِتراکر چلنے والا، مُتکبر ، خوب مال جمع کرنے والا اور دوسروں کو نہ دینے والا جہنمی ہے جبکہ اہلِ جنّت کمزور اور کم مال والے ہیں۔“(3)”بروزِقیامتتم میں سے میرے سب سے زیادہ قریب اورمجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہونگے جن کے اخلاق اچھے ہونگےاورمجھے سب سے زیادہ نا پسند اورمجھ سےزیادہ دوروہ ہونگے جوزیادہ بولنے والے،منہ پھٹ اورمُتَفَیْھِقُونہوں گے۔‘‘صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم زیادہ بولنے والے اور منہ پھٹ کو توجانتے ہیں لیکن یہمُتَفَیْھِقُونکون ہیں؟ارشاد فرما یا: ’’تکبُّر کرنے والے۔“خودپسندی کی مذمت:تکبر کی ابتداخود پسندی سے ہوتی ہے جب انسان اپنے آپ کو اچھا سمجھنے لگے تو پھروہ دوسروں کو حقیر جاننے لگتا ہے اوریہی تکبر ہے۔ چنانچہ”احياء العلوم“ میں ہے :”جب انسان دوسروں کے مقابلے میں خود کو بڑے مرتبے والا سمجھتا ہے تو دوسروں کو حقیر جانتا ہے اور ان کو اپنے آپ سے دورکرتا ہے۔ ان کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا پسند نہیں کرتا۔ جب تکبر بڑھ جاتا ہے تو اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ دوسرا شخص اس کے سامنے جھک کر کھڑا ہو اور یہ اس کا حق ہے۔ جب تکبر میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو ان لوگوں سے خدمت لینے کوبھی باعثِ عارسمجھتا ہے اور ان کو اپنے سامنے کھڑا ہونے کا اہل نہیں سمجھتا بلکہ ان سے چوکیداری کی خدمت لینا بھی مناسب نہیں سمجھتا۔ اگر تکبر کچھ کم ہو تو دوسرے کو اپنے برابر مقام دینا ناپسند کرتا ہے، تنگ راستوں میں اس سے آگے بڑھتا ہے، مجالس میں اس سے اونچی جگہ بیٹھتا ہے اور اس انتظار میں رہتا ہے کہ سلام میں وہ پہل کرے، اگر وہ اس کے کام کاج کرے تو کوتاہی کو ناممکن تصور کرتا ہے،اگر وہ کبھی کوتاہی کردے تو اس پر تعجب کا اظہار کرتا ہے، اگر وہ اس کے سامنے دلیل پیش کرے یا بحث ومُباحَثہ کرے تو اس کو جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا، اگر وہ نصیحت کرے تو قبول کرنا گوارا نہیں کرتا اور اگر خود دوسروں کو نصیحت کرے تو نہایت سختی سے کام لیتا ہے اور اس کی بات کواگر ردکردیا جائے تو سخت غصے میں آجاتا ہے، اگر یہ استاد ہو تو شاگردوں کے ساتھ نرمی نہیں برتتا،ان کو ذلیل جانتا ہے اور جھڑکتا ہے، ان پر احسان جتلاتا اور ان سے خدمت لیتا ہے اور عام لوگوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے وہ گدھے ہوں یعنی ان کو جاہل اور حقیر گمان کرتا ہے۔عاجزی کی وجہ سے بارگاہ ِالہٰی میں مقبولیت:منقول ہے کہ ایک عابد کو خواب میں بتایا گیاکہ فلاں موچی کے پاس جاکر اپنے لئے دعا کراؤ۔ چنانچہ وہ اس موچی کے پاس گیا اور اس سے اس کے عمل کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایاکہ وہ دن میں روزہ رکھتا ہے اور محنت مزدوری کر کےرِزقِ حلال کماکر اس کا ایک حصہ صَدَقہ کردیتا ہے اور ایک حصہ گھر والوں کو کھلادیتا ہے۔یہ سن کر عابد واپس آگیااور کہنے لگا اچھی بات ہے لیکن یہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کے لئے فارغ ہونے کی طرح نہیں ہے۔ اسے دوبارہ خواب میں کہاگیا کہ فلاں موچی کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ تمہارا رنگ زَرد کیوں ہے؟ وہ آیا اور اس سے پوچھا تو موچی نے جواب دیا کہ میں جس کو بھی دیکھتا ہوں یہی گمان کرتا ہوں کہ یہ نجات پاجائے گا اور میں ہلاک ہوجاؤں گا۔ عابد نے یہ سن کرکہا: یہ شخص اسی وجہ سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں مقبول ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پررحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔آمینمدنی گلدستہ’’حدیث‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بخل، سخت مزاجی اورتکبر جہنمیوں کی صفات ہیں ۔
(2) جو عاجزی اپناتا ہے اسے عزت ملتی ہے۔
(3) تکبر کی ابتدا خود پسندی سے ہوتی ہے ۔
(4) قیامت کے دن قُربِ مصطفےٰکے زیادہ حقدار وہی ہوں گے جن کے اَخلاق اچھے ہوں گے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تکبروخودپسندی سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 614