Main Icon

باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 614

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم،يقول: اَلَااُخْبِرُ كُمْ بِاَهْلِ النَّار؟كُلُّ عُتُلٍ جَوّاظٍ مُسْتَكْبرٍ .

عن حارثة بن وهب رضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم،يقول: الااخبر كم باهل النار؟كل عتل جواظ مستكبر .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن وہبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا:’’ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟(سنو)ہر سخت مزاج،بخیل اورخود کو بڑا سمجھنے والا (جہنمی ہے )۔‘‘

شرح حدیث

تین برائیوں کی مذمت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں تین قسم کےلوگوں کا ذکرہے:(1)سخت مزاج(2) بخیل (3)متکبر۔سخت مزاجی ،بخل اورتکبر یہ ایسی برائیاں ہیں جو انسان کوجہنم میں دھکیل دیتی ہیں۔*سخت مزاجی کی وجہ سے انسان دوسروں پر بے جاغصہ کرتاہے ،اس کی سختی اسے ظلم وستم،دِل آزاری ، مار پیٹ اورحقوقُ العباد میں کوتاہی پر اُبھارتی ہےاس لئے وہ لوگوں کی نظر میں ناپسندیدہ اورقابلِ نفرت ہوجاتا ہے کیو نکہ جس چیز میں سختی ہو اسے عیب دار کر دیتی ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نرمی و عاجزی کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔*بخل( کنجوسی )کی وجہ سے انسان صدقاتِ واجبہ کی ادائیگی ، محتاجوں کی امداد اور دیگر خیر کے کاموں سے محروم رہتا ہے، کنجوس نہ خود خوش رہتا ہے نہ اس کے متعلقین(تعلق رکھنے والے)۔ اسے جان سے زیادہ مال کی فکر ہوتی ہے حالانکہ یہی مال اس کے لئے دُنیا و آخرت میں وبال ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بخل کی بیماری سے محفوظ رکھے۔*غروروتکبروہ ہلاکت خیز گناہ ہے کہ جس کی وجہ ابلیس بارگاہِ الٰہی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دھتکار دیا گیا ، لعنت کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیا ، بڑے بڑے عبادت گزارتکبر کی وجہ سے ذلیل و رُسوا ہو گئے،تکبر نے انہیں آسمان کی بلندیوں سے زمین کی پستیوں میں پہنچا دیا، تکبر کی وجہ سے جنت میں داخلہ ممنوع ہوجاتا ہے ، تکبرغضبِ الٰہی کو دعوت دیتاہے ،تکبر کرنے والا دنیا اور آخرت میں ناکام رہتا ہے ۔تکبر کی مذمت :تکبرکی مذمت پر تین فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں:(۱)بخل جس کی پیروی کی جائے(۲)نفسانی خواہش جس کی اطاعت کی جائےاور(۳)انسان کا خود کو اچھاسمجھنا۔ (2)”ہرسخت مِزاج ،اِتراکر چلنے والا، مُتکبر ، خوب مال جمع کرنے والا اور دوسروں کو نہ دینے والا جہنمی ہے جبکہ اہلِ جنّت کمزور اور کم مال والے ہیں۔“(3)”بروزِقیامتتم میں سے میرے سب سے زیادہ قریب اورمجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہونگے جن کے اخلاق اچھے ہونگےاورمجھے سب سے زیادہ نا پسند اورمجھ سےزیادہ دوروہ ہونگے جوزیادہ بولنے والے،منہ پھٹ اورمُتَفَیْھِقُونہوں گے۔‘‘صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم زیادہ بولنے والے اور منہ پھٹ کو توجانتے ہیں لیکن یہمُتَفَیْھِقُونکون ہیں؟ارشاد فرما یا: ’’تکبُّر کرنے والے۔“خودپسندی کی مذمت:تکبر کی ابتداخود پسندی سے ہوتی ہے جب انسان اپنے آپ کو اچھا سمجھنے لگے تو پھروہ دوسروں کو حقیر جاننے لگتا ہے اوریہی تکبر ہے۔ چنانچہ”احياء العلوم“ میں ہے :”جب انسان دوسروں کے مقابلے میں خود کو بڑے مرتبے والا سمجھتا ہے تو دوسروں کو حقیر جانتا ہے اور ان کو اپنے آپ سے دورکرتا ہے۔ ان کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا پسند نہیں کرتا۔ جب تکبر بڑھ جاتا ہے تو اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ دوسرا شخص اس کے سامنے جھک کر کھڑا ہو اور یہ اس کا حق ہے۔ جب تکبر میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو ان لوگوں سے خدمت لینے کوبھی باعثِ عارسمجھتا ہے اور ان کو اپنے سامنے کھڑا ہونے کا اہل نہیں سمجھتا بلکہ ان سے چوکیداری کی خدمت لینا بھی مناسب نہیں سمجھتا۔ اگر تکبر کچھ کم ہو تو دوسرے کو اپنے برابر مقام دینا ناپسند کرتا ہے، تنگ راستوں میں اس سے آگے بڑھتا ہے، مجالس میں اس سے اونچی جگہ بیٹھتا ہے اور اس انتظار میں رہتا ہے کہ سلام میں وہ پہل کرے، اگر وہ اس کے کام کاج کرے تو کوتاہی کو ناممکن تصور کرتا ہے،اگر وہ کبھی کوتاہی کردے تو اس پر تعجب کا اظہار کرتا ہے، اگر وہ اس کے سامنے دلیل پیش کرے یا بحث ومُباحَثہ کرے تو اس کو جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا، اگر وہ نصیحت کرے تو قبول کرنا گوارا نہیں کرتا اور اگر خود دوسروں کو نصیحت کرے تو نہایت سختی سے کام لیتا ہے اور اس کی بات کواگر ردکردیا جائے تو سخت غصے میں آجاتا ہے، اگر یہ استاد ہو تو شاگردوں کے ساتھ نرمی نہیں برتتا،ان کو ذلیل جانتا ہے اور جھڑکتا ہے، ان پر احسان جتلاتا اور ان سے خدمت لیتا ہے اور عام لوگوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے وہ گدھے ہوں یعنی ان کو جاہل اور حقیر گمان کرتا ہے۔عاجزی کی وجہ سے بارگاہ ِالہٰی میں مقبولیت:منقول ہے کہ ایک عابد کو خواب میں بتایا گیاکہ فلاں موچی کے پاس جاکر اپنے لئے دعا کراؤ۔ چنانچہ وہ اس موچی کے پاس گیا اور اس سے اس کے عمل کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایاکہ وہ دن میں روزہ رکھتا ہے اور محنت مزدوری کر کےرِزقِ حلال کماکر اس کا ایک حصہ صَدَقہ کردیتا ہے اور ایک حصہ گھر والوں کو کھلادیتا ہے۔یہ سن کر عابد واپس آگیااور کہنے لگا اچھی بات ہے لیکن یہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کے لئے فارغ ہونے کی طرح نہیں ہے۔ اسے دوبارہ خواب میں کہاگیا کہ فلاں موچی کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ تمہارا رنگ زَرد کیوں ہے؟ وہ آیا اور اس سے پوچھا تو موچی نے جواب دیا کہ میں جس کو بھی دیکھتا ہوں یہی گمان کرتا ہوں کہ یہ نجات پاجائے گا اور میں ہلاک ہوجاؤں گا۔ عابد نے یہ سن کرکہا: یہ شخص اسی وجہ سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں مقبول ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پررحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔آمینمدنی گلدستہ’’حدیث‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بخل، سخت مزاجی اورتکبر جہنمیوں کی صفات ہیں ۔
(2) جو عاجزی اپناتا ہے اسے عزت ملتی ہے۔
(3) تکبر کی ابتدا خود پسندی سے ہوتی ہے ۔
(4) قیامت کے دن قُربِ مصطفےٰکے زیادہ حقدار وہی ہوں گے جن کے اَخلاق اچھے ہوں گے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تکبروخودپسندی سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 614