Main Icon

باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 616

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:لَا يَنْظُرُ اللهُ يَوْمَ القِيَامَةِ اِلٰى مَنْ جَرَّ اِزَارَهُ بَطَراً.

عن ابي هريرةرضی اللہ عنہ:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا ينظر الله يوم القيامة الى من جر ازاره بطرا.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت ایسے شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا جو تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند گھسیٹے ۔ “

شرح حدیث

روزِقیامت کی ہَولناکی:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!قیامت کا دنایسا ہولناک ہے کہ قرآن ِکریم میں اسے بڑی گھبراہٹ کا دن کہا گیا ہے، اس دن کی سختی بچوں کو بوڑھا کر دے گی، حمل والیوں کے حمل گرا دے گی،سورج سوا میل پر رہ کرآگ برسا رہا ہوگا،زمین دہکتا ہواتانبا کردی جائے گی،انسان اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبےہونگے ، کوئی ٹخنوں تک ،کوئی گھٹنوں تک ،کوئی سینے تک ،تو کوئی اس میں ڈبکیا ں کھارہا ہو گا۔سایۂ عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ، اس سائے میں انہی خوش نصیبوں کو جگہ ملے گی جن پر ربّ کریم نظر ِکرم فرمائے گا۔ مگر افسوس کہ مُتکبرشخصاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نظر کرم سے محروم رہے گا ۔ پھر اسے جو تکلیف ہوگی وہ بیان سے باہر ہے۔ لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ غرور وتکبر سے بچتے ہوئے عاجزی وانکساری اپنائے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں عاجزی کی دولت سے مالا مال فرمائے،تکبر سے محفوظ فرمائے۔ آمینمرتے دم تک چادر ٹخنوں سے نیچے نہ کی:حضرت سیدنا جُبیر بن مطعمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضرت سیدنا ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس سے ایک شخص گزرا جو اپنی چادر گھسیٹتا ہواچل رہا تھا۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے بُلا کر فرمایا:’’تجھ پر افسوس! کیاتویہ بات پسند نہیں کرتا کہ بروزِ قیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتجھ پر نظرِ کرم فرمائے ؟‘‘ اس نے عرض کی: کیوں نہیں!میں ضرور ربّ کریم کی نظرِ کرم کامحتاج ہوں ۔فرمایا: میں نے حضورنبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سنا کہ’’جو تکبر کی وجہ سے اپنی چادر گھسیٹتاہواچلےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبروزِ قیامت اس پر نظرِ کرم نہیں فرمائے گا۔“آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی نیکی کی دعوت کااس نوجوان پر ایسا اثر ہواکہ پھر مرتے دم تک کبھی اپنی چادر ٹخنوں سے نیچے نہ کی ۔“درد ناک عذاب کے حق دار:حضرت سیدنا ابوذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ تاجدارِرِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے بروزِ قیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنہ تو کلام فرمائے گا ، نہ ان پر نظرِ کرم فرمائےگا نہ انہیں پاک کرے گابلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔میں نےعرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ تو رُسوا وبرباد ہوگئے،وہ کون ہیں؟فرمایا:’’(تکبر کرتے ہوئے) اپنی چادر گھسیٹنے والا،اِحسان جتلانے والا اورجھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا۔‘‘ناپسندیدہ لوگ:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس سے ایک شخص گزرا جس کی چادر زمین پر گِھسٹ رہی تھی۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِس سے ارشادفرمایا:’’اپنی چادراوپر کر! بے شک !اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّچادر لٹکا کرچلنےوالوں کو پسندنہیں فرماتا۔‘‘اس نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری پنڈلیاں کمزور ہیں اس لئے چادر سے چھپائی ہوئی ہیں۔فرمایا: ’’ چادر لٹکانے کا عیب تیری پنڈلیوں کے عیب سے زیادہ ہے۔“مدنی گلدستہ’’جنّتِ عدن ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) تین قسم کے لوگوں کوبروزِقیامت درد ناک عذاب ہوگا:چلتے وقت بطورِتکبراپنی چادر گھسیٹنے والا،احسان جتلانے والااورجھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے والا۔
(2) اگراخلاص وخیر خواہی کی نیت سے نیکی کی دعوت دی جائے تو عموماً قبول کر لی جاتی ہے ۔
(3) صِدقِ دل سے بارگاہِ اِلٰہی میں دعاکی جائے تو مصیبت وپریشانی دور ہوجاتی ہے۔
(4) اچھا ہے وہ بندہ جو کسی کے سمجھانے سے سمجھ جائے۔
(5) اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا بھی نیکی ہے ۔
(6)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکوایسا بندہ پسند نہیں جوبطور ِتکبر اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں عاجزی واِنکساری عطا فرمائےاورتکبر سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 616