Main Icon

باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 618

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ:اَلْعِزُّ اِزَارِي،وَالْكِبْر يَاءُ رِدَائي،فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهُ.

عن ابي هريرةرضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:قال الله عزوجل:العز ازاري،والكبر ياء ردائي،فمن ينازعني عذبته.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے:عَظَمت میرا اِزار ( تہبند)اور کبریائی میری چادرہےجو اُن میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی مجھ سے جھگڑے گا میں اسے عذاب دوں گا۔‘‘

شرح حدیث

کبریائی سے مراد:مُفَسِّرِشَہِیر،مُحَدِّثِ کبیرحکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتےہیں:’’ کبر سے مراد ذاتی بڑائی ہے اور عظمت سے مراد صفاتی بڑائی۔ چادراورتہبندفرمانا ہم کو سمجھانے کے لئے ہے کہ جیسےایک چادر، ایک تہبند دوآدمی نہیں پہن سکتے یوں ہی عظمت وکبریائی سوائے میرے، دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی۔‘‘تکبر کی تین اَقسام واَحکام:(1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکےمقابلے میں تکبر:تکبر کی یہ قسم کفر ہے جیسے فرعون کا تکبر کہ اس نے کہا تھا: (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ(۲۴) فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ(۲۵))(پ۳۰، النازعات:۲۴،۲۵)ترجمۂ کنزالایمان:’’میں تمہارا سب سے اُونچا رب ہوں تواللّٰہنے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا ۔‘‘فرعون کی ہدایت کے لیےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا موسیٰکَلِیْمُ اللّٰہاور حضرت سیِّدُنا ہارونعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بھیجا مگر اُس بدبخت نے اُن رسولوں کو جھٹلایا تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے اُسے اور اُس کی قوم کو دریائے نیل میں غرق کر دیا۔ مفسرین کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامفرماتے ہیں:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے فرعون کو مَرے ہوئے بیل کی طرح دریا کے کنارےپر پھینک دیاتاکہ وہ بنی اسرائیل اوردیگر لوگوں لیے عبرت کا نشان بن جائے اوراُن پر یہ بات واضح ہوجائے کہ جو شخص ظالِم ہواوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی جناب میں تکبر کرےاُس کی پکڑ اِس طرح ہوتی ہے کہ اُسے ذِلَّت ورُسوائی کی پستی میں پھینک دیا جاتا ہے۔
(2)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکےرسولوں کے مقابلے میں تکبر:تکبر کی یہ قسم بھی کفر ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ تکبر و جہالت اور بغض وعداوت کی بنا پر کسی رسولعَلَیْہِ السَّلَامکی پیروی نہ کرنا یعنی خود کو عزت والا اور بلند سمجھ کر یوں تصور کرنا کہ عام لوگوں جیسے ایک انسان کا حکم کیسے مانا جائے ، جیسا کہ بعض کفارِمکہ نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں(مَعَاذَاللّٰہ)حقارت سے کہا تھا: (لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ(۳۱))(پ۲۵، الزخرف:۳۱) ترجمۂ کنزالایمان:’’کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن اِن دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر۔‘‘
(3)بندوں کے مقابلے میں تکبر:اس سے مراد یہ ہے کہ
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور رسولوں کے علاوہ مخلوق میں سے کسی پر تکبر کرنا، یعنی اپنے آپ کو بہتر اور دوسرے کو حقیر جان کر اس پر بڑائی چاہنا اورباہم برابری کو ناپسند کرنا۔ یہ صورت اگرچہ پہلی دو صورتوں سے کم تر ہے مگر یہ بھی حرام اور بہت بڑا گناہ ہے ،کیونکہ کبریائی اور عظمت بادشاہِ حقیقیاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہی کو لائق ہے، عاجزو کمزور بندے کے لائق نہیں ۔میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آ پ نے ملاحظہ فرمایا کہ تکبر جب بڑھ جائے تو کفر کی طرف بھی لے جاسکتاہے۔ اگر کفر کی طرف نہ بھی لے جائے پھربھی حرام اورجہنم میں لے جانے والا کام ہے۔لہٰذا ہرمسلمان کو چاہیے کہ غرور وتکبر سے دور رہے اور عاجزی و اِنکساری کو اپنا شِعار بنائے کیونکہ تکبر سے بچ کر عاجزی اختیار کرنا سعادت مندی اور غروروتکبر بدبختی کی علامت ہے ۔چنانچہ،سعادت مندی کی علامات:منقول ہے کہ سعادت مندی کی گیارہ علامات ہیں:(1)دنیا کوچھوڑ کر آخرت میں رغبت رکھنا(2) ہروقت عبادت اور تلاوت میں مشغول رہنا(3)فضول باتوں سے بچنا(4)نماز پنجگانہ کاپابند ہونا(5)ہر حال میں حرام سے بچنا(6)نیک لوگوں کو محبوب رکھنا(7)تکبر سے بچ کرعاجزی اختیار کرنا(8) سخی وشریف ہونا (9) مخلوق پر رحم کرنا(10) مخلوق کوفائدہ پہنچانا(11)موت کوکثرت سے یاد کرنا۔بدبختی کی علامات:بدبختی کی بھی گیارہ علامات ہیں:(1) مال جمع کرنے کی حرص(2)لذاتِ دنیا اور خواہشات میں پھنس جانا (3)فحش گوئی(4)نمازوں میں سُستی (5)حرام اورمشکوک اَشیاء اَستعمال کرنا،بُروں کی صُحبت اختیار کرنا (6)بداَخلاقی(7)اِترانا اورغُروروتکبر کرنا (8) لوگوں سے بھلائی روک لینا(9) مسلمانوں پررحم نہ کرنا (10) کنجوسی(11)موت کوبھول جانا۔مدنی گلدستہ’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) عظمت وکبریائی خالقِ حقیقی
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہی کے لائق ہے عاجزو کمزور بندے کے لائق نہیں ۔
(2) بندوں کے مقابلے میں تکبر کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
(3)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولوں کے مقابلے میں تکبر کرنا کفر ہے ۔
(4) فرعون بدبخت دریائے نیل میں ڈوب کر ہلاک ہوا پھراسے مرے ہوئے بیل کی طرح دریا کے کنارے پھینک دیا گیا تاکہ لوگوں کے لئے عبرت بن جائے ۔
(5) جو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے اس کی عظَمت و کبریائی کے بارے میں جھگڑتا ہے یعنی اس کے مقابلے میں تکبر کرتا ہے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے تباہ و برباد کر دیتا ہے ۔
(6)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے کسی بھی نبیعَلَیْہِ السَّلَامکی توہین کفرہے۔
(7) اپنے آپ کو بہتر اور دوسرے کو حقیر جان کر اس پر بڑائی چاہنا اورباہم برابری کو ناپسند کرنا تکبر ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں تکبر سے محفوظ فرمائےاور عاجزی عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 618