Main Icon

باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 619

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّم قَالَ:بَيْنَمَارَجُلٌ يَمشِي في حُلَّةٍ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ،مُرَجِّلٌ رَاْسَهُ،يَخْتَالُ فِي مِشْيَتهِ،اِذْ خَسَفَ اللهُ بِهِ،فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ في الْاَرْضِ اِلٰی يَوْمِ القِيَامَةِ.

عن ابي هريرةرضی اللہ تعالی عنہ ان رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم قال:بينمارجل يمشي في حلة تعجبه نفسه،مرجل راسه،يختال في مشيته،اذ خسف الله به،فهو يتجلجل في الارض الی يوم القيامة.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُہی سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ایک شخص عمدہ لباس پہنے ،بالوں میں کنگھی کئے اِتراتا ہواچل رہا تھا اور خود کواچھا سمجھ رہا تھا ،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے زمین میں دھنسا دیاپس وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔‘‘

شرح حدیث

زمین میں دھنسنے والا شخص کون تھا؟دلیل الفالحین میں ہے کہ زمین میں دھنسنے والے اس شخص کانام ”ہیزن “تھا ، جوترکی النسل فارسی بدو تھا۔ ایک قول کے مطابق وہ قارون تھا۔ تفسیر خازن میں حضرت سیدنا قتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ قارون کوزمین میں دھنسادیا تھا،وہ روزانہ انسان کے قد کے برابر زمین میں دھنستاہے اور قیامت تک دھنستا رہے گا لیکن پھر بھی جہنم کی گہرائی تک نہ پہنچے گا۔ اسے تھوڑا تھوڑا اس لئے دھنسایا جاتا ہے تاکہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے اور تکبر کرنے کی وجہ سے اس کی ذلت و رسوائی میں اضافہ ہوتا رہے۔
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!غرورو تکبراور خود پسندی ایسی مذموم صفات ہیں کہ یہ انسان کو راہِ حق سے دور اور جہنم سے قریب کردیتی ہیں۔مغرورشخص کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ شیطان نے تکبر کیا تو ہمیشہ کے لئے ذِلَّت و رُسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیا ۔ نمرود و فرعون کو تکبر نے اس حد تک ہلاکت میں ڈالا کہ وہ مَردود خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے،جس کا انجام یہ ہوا کہ وہ رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بنا د ئیے گئے اور جہنم کی دائمی سزا کے حقدار ہوئے ۔ الغرض تکبر وہ موذی مرض ہے جو بے شمار ہلاکتوں کا مجموعہ ہے۔
تکبرکی آفات:غرور وتکبرایسی آفت ہے جوبالکل ہلاک کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم میں خدائے بزرگ وبرتر نے ابلیس لعین کے بارے میں فرمایا: (اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴))(پ۱،البقرۃ:۳۴)ترجمۂ کنزالایمان: ’’مُنکِر ہوا اور غرور کیا اور کافِر ہوگیا۔‘‘تکبراَعمالِ صالحہ اور فُرُوْعَاتِ دِیْنِیَّہ کے لئے تمام آفات سے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ یہ ایمان واِعْتِقاد میں خَلَل انداز ہوتا ہے۔ جب تکبر کامرض بڑھ جائے تو اس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ متکبر پر کم از کم یہ چارآفات تو ضرورآتی ہیں:(1)پہلی آفت:حق و صداقت سے محرومی،آیاتِ الٰہیہ کی معرفت اور اَحکامِ خداوندی کی سمجھ سے دل کا اندھا ہوجانا۔(2)دوسری آفت:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے غَضَب و ناراضی کا سامنا۔(3)تیسری آفت : دنیا و آخرت میں ذِلَّت و رسوائی۔ حضرت سیدنا حاتِم اَصَمّعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْاَکْرَمفرما تے ہیں : تین حالتوں پر مرنے سے بچو!(۱) تَکَبُّر کرتے ہوئے(۲)لالچ کرتے ہوئے(۳)گھمنڈ کرتے ہوئے۔ کیونکہ مُتَکَبِّر شخص کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس وقت تک دنیا سے نہیں اٹھاتا جب تک اسے اس کے کمترین اہل و عَیال اورخادموں سے زیادہ رسوا وذلیل نہ کر دےاورلالچی کواللّٰہتعالیٰ اس وقت تک موت نہیں دیتا جب تک اُسے روٹی کے ایک ٹکڑے اور پانی کے ایک گھونٹ کے لیے نہ تَرْسا لے اورگھمنڈی کو اس وقت تک موت نہیں دیتا جب تک اسے پیشاب و پاخانہ میں آلودگی کی ذِلَّت نہ دکھا دے۔ (4)چوتھی آفت: متکبرآخرت میں جہنم کی آگ میں جلے گا۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی میں ہے:”اَلْکِبْرِیَاءُ رِدَآئِیْ وَ الْعَظَمَۃُ اِزَارِیْ فَمَنْ نَازَعَنِیْ فِیْ وَاحِدٍ مِنْھُمَا اَدْخَلْتُہُ،نَارَجَہَنَّمَیعنی’’بڑائی میری چادر ہے اورعَظَمَت وبزرگی میرا اِزَار، توجوشخص ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی مجھ سے لینے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم کی آگ میں داخل کروں گا۔‘‘یعنی بڑائی اور عظمتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی خاص صفات ہیں جو کسی اور کو لائق و منا سب نہیں، جیسا کہ انسان کی چادراو رتہبند اسی کے لئے خاص ہوتےہے اور بیک وقت ایک چادراورایک تہبند کو دوشخص استعمال نہیں کرسکتے۔توجوچیزمعرفتِ خداوندی زائل کردے، اَحکامِ الٰہیہ کو سمجھنے سے محروم کردے،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کا سبب بنے ، جس کی وجہ سے دنیا میں ذِلَّت و رسوائی اورآخرت میں جہنم کی آگ کا سامناکرنا پڑے ،تو ایسی خطرناک اور مُہْلِک آفت سے بچنا اور دور رہنا نہایت ضروری ہے، کسی بھی عقلمند وسمجھدار شخص کو ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی ہلاکت خیز شےسے بچنے میں غفلت برتے ،بلکہ اس پر لازم ہے کہ اِس آفت سے کوسوں دور رہے اوراس سے بچنے کے لئےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ لے۔بے شکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہی گناہوں سے بچانے والااور اپنے فضل وکرم سے نیکیوں کی توفیق دینے والاہے۔مدنی گلدستہ’’جنتِ فردوس ‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّمغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔
(2) مغرور حق و صداقت سے محروم اور اَحکامِ خداوندی سے نابَلد رہتا ہے۔
(3) تکبر، حرص اورگھمنڈ ایسی برائیاں ہیں کہ جن کی سزا دنیا وآخرت دونوں میں ملتی ہے۔
(4) متکبر موت سے پہلے اپنے خادمو ں اور گھر والوں کی نظرمیں ذلیل و خوار کر دیا جاتا ہے ۔
(5) حریص کو اس وقت تک موت نہیں آتی جب تک اسے ایک ایک لقمے کے لئے نہ ترسایا جائے ۔
(6) تکبر کی وجہ سے انسان غضب الٰہی کا حقدار ہوجاتا ہے ۔
(7) ہر گناہ سے بچنا ضروری ہےاور جو گناہ جتنا زیادہ ہلاکت خیز ہو اس سے اتنا ہی زیادہ دور رہنا چاہیے۔
(8) ہر گناہ و برائی سے بچنےکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس سے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگی جائے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں غرور وتکبرسے بچا کر عاجزی واِنکساری کا پیکر بنائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 619