مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرت سیدنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص دنیا میں کسی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ ‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا اِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَة. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 240 ، مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’ میرے ہر امتی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ معاف فرمائے گا سوا اُن کے جو علانیہ گناہ کرتے ہیں اور اعلانیہ گناہ کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کوئی شخص رات کو ایک(گناہ کا )عمل کرتا ہے پھر جب صبح ہوتی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے اِس عمل کی پردہ پوشی فرماتا ہے لیکن وہ صبح کے وقت کہتا ہےکہ اے فلاں ! میں نے رات کوایسا ایسا کیاحالانکہ رات میں اُس کے ربّ نے اُسے چھپالیا وہ صبح کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پردے کو خودہی چاک کردیتا ہے۔ ‘‘

وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم يَقُوْلُ: كُلُّ اُمَّتِي مُعَافًی اِلَّا الْمُجَاهِرِينَ وَاِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَ ةِ اَنْ يَّعْمَلَ الرَّجُلُ باللَّيلِِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحُ وَقَدْ سَتَرَهُ اللهُ عَلَيهِ فَيقُولُ : يَا فُلانُ! عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَاوَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 241 ، مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جب کسی لونڈی کا زنا ظاہر ہو جائے تو اُسے بطورِ حد کوڑے لگائے جائیں لیکن اُسے ملامت نہ کیا جائے ، پھر اگر دوبارہ زنا کرے تو بطورِ حد کوڑے لگائےجائیں اور اِس پر اُسے ملامت نہ کیا جائے ، پھر اگر تیسری بار زنا کرے تو اسے بیچ دو اگر چہ بال کی رسی کے عوض۔ ‘‘

وَعَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا زَنَتِ الْاَمَةُ فَتَبيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ اِنْ زَنَتِ الثَّانِيَةَ فَلْيَجْلِدْهَا الحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ اِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَر . ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 242 ، مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص کو حا ضر کیا گیا جس نے شراب پی ہوئی تھی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اس کو مارو۔ ‘‘سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ہم میں سے بعض لوگوں نے اسے

ہاتھ سے مارا ، بعض نے جوتے سےاور بعض نے کپڑے سے ۔ ‘‘جب وہ واپس لوٹا تو کسی نے کہا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے رُسوا کرے۔ ‘‘تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’اِس طرح نہ کہو ، اِس کے خلاف شیطان کی مدد مت کرو۔ ‘‘

وَعَنْهُ ، قَالَ:اُتِیَ النَّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ خَمْرًا قَالَ : اضْربُوهُ قَالَ اَبُوْ هُرَيْرَةَ : فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ والضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعضُ القَومِ : اَخْزَاكَ اللهُ قَالَ : لَا تَقُوْلُوْا هٰكَذالَا تُعِيْنُوْا عَلَيهِ الشَّيْطَانَ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 243 ، مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان