Main Icon

باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 652

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاٰى نُخَامَةً فِيْ الْقِبْلَةِ، فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَيْهِ حَتّٰى رُؤِيَ فِيْ وَجْهِهِ،فَقَامَ فَحَكَّهُ بِيَدِهِ فَقَالَ: اِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَا قَامَ فِيْ صَلَاتِهِ فَاِنَّهُ يُنَاجِيْ رَبَّهُ، وَ اِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلَا يَبْزُقَنَّ اَحَدُكُمْ قِبَلَ الْقِبْلَۃِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ اَوْ تَحْتَ قَدَمِهٖ ثُمَّ اَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيْهِ ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلٰى بَعْضٍ فَقَالَ: اَوْ يَفْعَلُ هٰكَذَا.‘‘

عن انس رضی اللہ عنہ ان النبي صلى الله عليه وسلم راى نخامة في القبلة، فشق ذلك عليه حتى رؤي في وجهه،فقام فحكه بيده فقال: ان احدكم اذا قام في صلاته فانه يناجي ربه، و ان ربه بينه وبين القبلة فلا يبزقن احدكم قبل القبلۃ ولكن عن يساره او تحت قدمه ثم اخذ طرف ردائه فبصق فيه ثم رد بعضه على بعض فقال: او يفعل هكذا.‘‘

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبلہ کی طرف دیوار میں رینٹھ دیکھی تو آپ کو یہ بہت ناگوار گزرا، چہرۂ اَنور سے یہ نا گواری ظاہر بھی ہورہی تھی۔آپ کھڑے ہوئے اور اپنے مبارک ہاتھ سے اُسے صاف کیا اور فرمایا :”تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مُناجات کرتا ہے، اُس کے اور قبلہ کے درمیان اُس کے رب کی خاص توجہ ہوتی ہے تو تم میں سے کوئی بھی قبلہ کی جانب ہرگز نہ تھوکےبلکہ بائیں جانب یا پیروں کے نیچےتھوکے۔“ پھر آپ نے اپنی چادر کا ایک حصہ لے کر اُس میں تھوکا اور چادر کے ایک حصے کو دوسرے پرمَلا اور فرمایا :” یا پھر اِس طرح کرلیا کرے ۔“

شرح حدیث

جانب قبلہ اور مسجد میں تھوکنا:فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اَحناف کے نزدیک قبلہ کی جانب تھوکنا مطلقاً منع ہے خواہ نماز میں ہو خواہ نماز کے باہر۔نماز میں کراہت زیادہ سخت ہے ۔ اسی طرح مسجد میں تھوکنا منع ہے خواہ نماز میں ہو خواہ نماز کے باہر۔حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث میں اِس کی تصریح ہے۔خود حضورِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا۔“اور نماز میں کراہت زیادہ ہے ۔نماز میں اگر بلغم آجائے یا ناک صاف کرنے کی حاجت پیش آئے تو اسے اپنے رومال یا کپڑے میں لے کر مَل ڈالےجیساکہ حدیث میں فرمایا۔”اپنے مبارک ہاتھ سے اسے صاف کیا۔“اس سے مراد یہ ہے کہ ہاتھ میں کنکری یا لکڑی لے کر اسے کھرچ دیا جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی حدیث میں ہے کہ حضور نے کنکری لی اس سے دور فرمایایا جیساکہ ابو داؤد میں حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث میں ہےکہرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہماری مسجد میں تشریف لائے اور حضور کے دست اَقدس میں ”ابن طاب“کے کھجور کی شاخ تھی۔حضور نے مسجد میں نظر ڈالی تو مسجد کے قبلے میں بلغم دیکھا تو اسے کھجور کی شاخ سے کھرچ دیا۔داہنی طرف تھوکنے کی ممانعت کی علت،حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث میں یہ بیان فرمایا کہ اس کی داہنی جانب فرشتہ ہے۔اس پر اشکال یہ ہے کہ بائیں طرف بھی فرشتہ ہےاس کا ایک جواب علامہ عینی نے یہ دیا بائیں طرف جو فرشتہ ہے وہ گناہ لکھتا ہے اورنماز کی حالت میں وہ علیحدہ ہوجاتا ہے۔“مسجد سے کن اشیاء کو دور کیا جائے ؟ہر وہ شے جس سے مسجد آلودہ یا گندی ہو اس شے کو مسجد سے دور کردینا مستحب ہے اگرچہ وہ پاک ہو۔نمازی اور قبلہ کے درمیان ۔۔۔:”تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہےاس کے اور قبلہ کے درمیان اس کا رب ہوتا ہے۔‘‘اِس جملے کی شرح نزہۃ القاری میں یہ ہے :”مناجات اس کا مادہ نجویٰ ہے جس کے معنیٰ کان میں بات کہنے کے ہیں یعنی کسی سے راز دارانہ بات چیت کرنی۔امام نووی نے فرمایا :یہاں مناجات سے اِخلاص اور حضورِ قلب کے ساتھ ذِکرِ اِلٰہی میں ہمہ تن مشغول ہونا مراد ہے۔علامہ عینی نے فرمایا:تحقیق یہ ہے کہ یہ باب تشبیہ سے ہے ۔نماز میں بندے کا خشوع خضوع کے ساتھاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف قراءت و ذِکر کرتے ہوئے متوجہ ہونے کو اس غلام کے ساتھ تشبیہ دی گئی جو اپنے آقا سے سر گوشی کرتا ہے کہ اس حالت میں غلام پورے طور سے حُسن ادب کا لحاظ کرتا ہے ۔اسی طرح نمازی کو لازم ہے کہ نماز میں حُسن ادب کو ملحوظ رکھے۔جانب قبلہ اور مسجد میں تھوکنے کی مذمت میں 4روایات:جانب قبلہ اور مسجد میں تھوکنے کی مذمت پربہت ساری روایات ہیں جن میں سے کچھ روایات کوعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِینے مذکورہ حدیث کی شرح کے تحت ذکر کیا ہے جن میں سے چار روایات درج ذیل ہیں: (1) مَروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکسی مسجد کی دیوار میں بلغم لگا ہوا دیکھاتو آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ اس مسجد کا امام کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کی کہ فلاں شخص امام ہے۔ نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :میں نے اسے امامت سے معزول کردیا۔ (2)رسولِ اکرم ،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخصاللّٰہکی بارگاہ میں کھڑا ہوکر نماز پڑھتا ہے اور اپنے سامنے تھوکتا ہے تو کیا اسے یہ پسند ہے کہ وہ باہر سے آئے تو اس کے منہ پر تھوکا جائے ۔“(3)حضرت سَیِّدُنَا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :” قبلہ کی طرف تھوکنے والے شخص کو جب قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو وہ تھوک اس کی پیشانی پر ہوگا ۔“(4)ایک شخص کسی قوم کا امام تھا ایک دن اس نے قبلہ کی طرف تھوکاحالانکہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے دیکھ رہے تھے وہ نماز سے فارغ ہوا تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں سے فرمایا :” آئندہ یہ شخص تم لوگوں کو نماز نہ پڑھائے۔“ پھر اس واقعہ کے بعد اس نے نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے منع کرتے ہوئے کہا کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمہیں نماز پڑھانے سے منع کیا ہے تو اس نے بارگاہِ رسالت میں شکایت کی کہ لوگ اس طرح بول رہے ہیں۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”ہاں میں نے انہیں تمہارے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، تو نے اپنے اس فعل سےاللّٰہاور اس کے رسول کو ایذاپہنچائی ہے ۔‘‘
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!مسجد
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا گھر ہے اور اُس کی دینی حرمت سب پر آشکار ہے۔مسجد میں تھوکنا اور اسے رینٹھ وغیرہ سے آلودہ کرنا اس کی بے حرمتی ہے جس سے حدیث پاک میں منع فرمایا گیا لہٰذا ہمیں چاہیے کہ مسجدوں کو پاک وصاف رکھیں اور اس کی دِینی حرمت کو پامال نہ ہونے دیں۔مدنی گلدستہ’’غار حرا‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
( 1) قبلہ کی جانب اور مسجد میں تھوکنا منع ہے خواہ نماز میں ہو خواہ نماز کے باہر۔
( 2) نماز میں بلغم یا ناک صاف کرنے کی حاجت ہوتو اپنے رومال یا کپڑے میں لے کر مَل ڈالے۔
( 3) ہر وہ شے جو مسجد کو آلودہ کرے اسے مسجد سے دور کردینا مستحب ہے اگرچہ وہ شے پاک ہو۔
( 4)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّمکان اور مكانيات سے پاک ہے۔
( 5) جانب قبلہ تھوکنے والاشخص روزِقیامت اسطرح اٹھایا جائے گا کہ اس کا تھوک اس کی پیشانی پر لگا ہوگا ۔
( 6) جس نے قبلہ کی جانب تھوکا اُس نے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ناراض کیا ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسجد کا ادب واِحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 652