باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 651
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا اَنَّ قُرَيْشًا اَهَمَّهُمْ شَانُ الْمَرْاَةِ الْمَخْزُوْمِيَّةِ الَّتِيْ سَرَقَتْ فَقَالُوْا وَمَنْ يُّكَلِّمُ فِيْهَا رَسُوْل اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوْا وَمَنْ يَّجْتَرِیْءُ عَلَيْهِ اِلَّا اُسَامَةُ بْن زَيْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، فَكَلَّمَهَ اُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللهِ تَعَالٰی؟ ثُمّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ: اِنَّمَا اَهْلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا اِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الشَّرِيْفُ تَرَكُوْهُ وَاِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الضَّعِيْفُ اَقَامُوْا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَاَيْمُ اللهِ! لَوْ اَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ان قريشا اهمهم شان المراة المخزومية التي سرقت فقالوا ومن يكلم فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالوا ومن يجتریء عليه الا اسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه و سلم، فكلمه اسامة، فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اتشفع في حد من حدود الله تعالی؟ ثم قام فاختطب ثم قال: انما اهلك من قبلكم انهم كانوا اذا سرق فيهم الشريف تركوه واذا سرق فيهم الضعيف اقاموا عليه الحد، وايم الله! لو ان فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها.
حدیث ترجمہ
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت کے معاملے نے بہت پریشان کیا جس نے چوری کی تھی۔وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس بارے میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کون بات کرے گا؟تو بولے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیارےحضرت اُسامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے سوا کون اس کی جرأت کرسکتا ہے؟ چنانچہ حضرت اُسامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس بارے میں بات کی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”کیا تماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتے ہو۔“ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:” اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اِس لئے ہلاک ہوئے کہ اُن میں سے جب کوئی مالدارشخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اُس پر حد قائم کرتے۔ خدا کی قسم! اگر فاطمہ بنتمُحَمَّدبھی چوری کرتی تو میں ضرور اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔“
شرح حدیث
واقعہ کا پس منظر:حدیث مذکور میں جس عورت کا ذکر آیا ہے اس کا نام فاطمہ بنت اسود بن عبد الاسد تھا جو قریش کے ایک بہت بڑے قبیلے بنو مخزوم کی عورت تھی ،ابو جہل بھی اسی قبیلہ سے تھا ۔اس عورت کی عادت یہ تھی کہ یہ لوگوں سے عاریتاً سامان لیتی اور پھر اس کا انکار کردیتی لیکن ہاتھ کاٹنے کی سزا اس وجہ سے نہ تھی بلکہ اس نے کسی کا مال چوری کیا تھا تو مال کی چوری پر رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہاتھ کاٹنے کی سزا سنائی۔عمدۃ القاری میں ہے:”چوری کا یہ واقعہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا۔ایک روایت میں ہے کہ اُس مخزومی عورت نےنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاشانۂ اَقدس سے ایک چادر چُرائی تھی جبکہ بعض جگہ یہ ذکر ہوا کہ اس نے زیور چُرایا تھا تو ان دونوں باتوں کو جمع کرنا ممکن ہے وہ اس طرح کہ اس نے زیور چادر میں رکھا ہو اور چادر سمیت زیور چوری کئے ہوں ۔“چنانچہ اس عورت کی قوم کے لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس عورت کی سزا کے بارے میں نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں سفارش کون کرے گا تو بعض نے کہا کہ حضرت اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُہی یہ کام کر سکتے ہیں۔حضرت اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اِس آیت پر نظر رکھتے ہوئے سفارش کی کہ: (مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ-) (پ۵، النساء:۸۵)”ترجمۂ کنزالایمان:جواچھی سفارش کرے اُس کے لیے اس میں سے حصّہ ہے۔“انہوں نے یہ گمان کیا کہ یہ سفارش بھی اچھی شفاعت میں داخل ہے۔کیا حُدُوْدُاللّٰہمیں سفارش کی جاسکتی ہے ؟جب تکحُدُوْدُ اللّٰہوالا کوئی معاملہ حاکم اِسلام تک نہ پہنچے تو اُس سے پہلے صاحب حق سے معافی کی درخواست کی جاسکتی ہے بشرطیکہ جس کے لئے سفارش کی جارہی ہے وہ شریر اور لوگوں کو تکلیف دینے والا نہ ہو لیکن جب یہ معاملہ حاکم اِسلام کے سامنے پیش ہوگیا تو اب اِس بارے میں کسی بھی طرح کی کوئی سفارش یا معافی نہیں دی جاسکتی۔سفارش کرنے والا گناہ گار ہوگا، حاکم اِسلام بھی کسی طرح کی کوئی رعایت نہیں کر سکتا لیکن وہ جرائم جن میں شریعت کی طرف سے کوئی حدمقرر نہیں صرف تعذیر ہےتو ان میں شفاعت کرنا بھی جائز اور شفاعت کو قبول کرنا بھی جائزبلکہ مستحب ہے خواہ حاکم اِسلام تک معاملہ پہنچ گیا ہو جبکہ جس کے متعلق شفاعت کی جارہی ہے وہ ضرر رساں نہ ہو۔ملکی انتظام کے لیے دو چیزوں کی ضرورت:”تم سے پہلے لوگ اِسی لئے گمراہ ہوئے کہ اُن میں سے جب کوئی مالدار شخص چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے۔“حدیث کے اِن الفاظ کی شرح کرتے ہوئے مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اِن لوگوں سے مراد یہودوعیسائی ہیں اور ہلاکت سے مراد قومی تباہی ملکی بدنظمی ہے۔ یہودونصاریٰ میں زنا ،چوری،قتل وغیرہ جرائم اِس لیے بڑھ گئے کہ اُن کے حکام و سلاطین نے مالداروں اور بڑے آدمیوں کی حدود(سزاؤں )میں رعایتیں کرنا شروع کردیں۔ملکی انتظام صرف دو چیزوں سے قائم رہ سکتا ہے سزائیں سخت ہوں جیسے اسلامی سزائیں ہیں اورکسی مجرم کی رعایت ضمانت نہ ہو کوئی بدمعاش قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔“خاتونِ جنت کا نام لینے کی وجہ:حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی پیاری بیٹی خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرارَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکا نام کیوں ذکر کیا؟ اس کی وجہ مرآۃ المناجیح میں یہ بیان کی گئی کہ:”تمام اولاد اطہار میں حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو جناب سیدہ فاطمہ زہرارَضِیَ اللّٰہ عَنْہَابہت ہی پیاری ہیں کیونکہ سب اولاد میں چھوٹی ہیں،نیز ان کی والدہ ماجدہ اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ،آپ کو بہت چھوٹی عمر میں چھوڑکر وفات پاگئیں لہٰذا آپ حضور ہی کی گود شریف میں پلیں بڑھیں اس لیے آپ کا نام شریف ہی لیا۔“مدنی گلدستہ’’شفاعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
( 1)حُدُوْدُ اللّٰہوالا کوئی معاملہ جب تک حاکم اسلام تک نہ پہنچے تو اُس میں سفارش کرنا اور سفارش کو قبول کرنا دونوں جائز ہےہیں۔
( 2) جوشخص شریر ہو اور لوگوں کو تکلیف دیتا ہو اس کی سزا کے بارے میں کوئی مقدمہ پیش ہو تو وہاں سفارش نہ کی جائےخواہ اس کے جرم کا تعلقحُدُوْدُ اللّٰہسے ہو یا نہ ہو۔
( 3) وہ جرائم جن کے بارے میں شریعت کی طرف سے کوئی حدمقرر نہ ہو اُس میں سفارش کرنا بھی جائز اورسفارش قبول کرنا بھی جائز ،چاہے یہ معاملہ حاکم اسلام تک پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو۔
حضورنبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحُدُوْدُاللّٰہمیں کسی کی رعایت نہ کرتےتھے۔
( 4) ملکی نظام صرف دو چیزوں سے قائم رہ سکتا ہے:(1)سخت سزائیں نافذ العمل ہوں اور(2) کسی مجرم کی رعایت نہ کی جائے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ناجائز سفارش سے بچائے اور جائز سفارش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 651