Main Icon

باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 651

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا اَنَّ قُرَيْشًا اَهَمَّهُمْ شَانُ الْمَرْاَةِ الْمَخْزُوْمِيَّةِ الَّتِيْ سَرَقَتْ فَقَالُوْا وَمَنْ يُّكَلِّمُ فِيْهَا رَسُوْل اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوْا وَمَنْ يَّجْتَرِیْءُ عَلَيْهِ اِلَّا اُسَامَةُ بْن زَيْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، فَكَلَّمَهَ اُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللهِ تَعَالٰی؟ ثُمّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ: اِنَّمَا اَهْلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا اِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الشَّرِيْفُ تَرَكُوْهُ وَاِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الضَّعِيْفُ اَقَامُوْا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَاَيْمُ اللهِ! لَوْ اَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.

عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ان قريشا اهمهم شان المراة المخزومية التي سرقت فقالوا ومن يكلم فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالوا ومن يجتریء عليه الا اسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه و سلم، فكلمه اسامة، فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اتشفع في حد من حدود الله تعالی؟ ثم قام فاختطب ثم قال: انما اهلك من قبلكم انهم كانوا اذا سرق فيهم الشريف تركوه واذا سرق فيهم الضعيف اقاموا عليه الحد، وايم الله! لو ان فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت کے معاملے نے بہت پریشان کیا جس نے چوری کی تھی۔وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس بارے میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کون بات کرے گا؟تو بولے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیارےحضرت اُسامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے سوا کون اس کی جرأت کرسکتا ہے؟ چنانچہ حضرت اُسامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس بارے میں بات کی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”کیا تماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتے ہو۔“ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:” اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اِس لئے ہلاک ہوئے کہ اُن میں سے جب کوئی مالدارشخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اُس پر حد قائم کرتے۔ خدا کی قسم! اگر فاطمہ بنتمُحَمَّدبھی چوری کرتی تو میں ضرور اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔“

شرح حدیث

واقعہ کا پس منظر:حدیث مذکور میں جس عورت کا ذکر آیا ہے اس کا نام فاطمہ بنت اسود بن عبد الاسد تھا جو قریش کے ایک بہت بڑے قبیلے بنو مخزوم کی عورت تھی ،ابو جہل بھی اسی قبیلہ سے تھا ۔اس عورت کی عادت یہ تھی کہ یہ لوگوں سے عاریتاً سامان لیتی اور پھر اس کا انکار کردیتی لیکن ہاتھ کاٹنے کی سزا اس وجہ سے نہ تھی بلکہ اس نے کسی کا مال چوری کیا تھا تو مال کی چوری پر رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہاتھ کاٹنے کی سزا سنائی۔عمدۃ القاری میں ہے:”چوری کا یہ واقعہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا۔ایک روایت میں ہے کہ اُس مخزومی عورت نےنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاشانۂ اَقدس سے ایک چادر چُرائی تھی جبکہ بعض جگہ یہ ذکر ہوا کہ اس نے زیور چُرایا تھا تو ان دونوں باتوں کو جمع کرنا ممکن ہے وہ اس طرح کہ اس نے زیور چادر میں رکھا ہو اور چادر سمیت زیور چوری کئے ہوں ۔“چنانچہ اس عورت کی قوم کے لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس عورت کی سزا کے بارے میں نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں سفارش کون کرے گا تو بعض نے کہا کہ حضرت اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُہی یہ کام کر سکتے ہیں۔حضرت اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اِس آیت پر نظر رکھتے ہوئے سفارش کی کہ: (مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ-) (پ۵، النساء:۸۵)”ترجمۂ کنزالایمان:جواچھی سفارش کرے اُس کے لیے اس میں سے حصّہ ہے۔“انہوں نے یہ گمان کیا کہ یہ سفارش بھی اچھی شفاعت میں داخل ہے۔کیا حُدُوْدُاللّٰہمیں سفارش کی جاسکتی ہے ؟جب تکحُدُوْدُ اللّٰہوالا کوئی معاملہ حاکم اِسلام تک نہ پہنچے تو اُس سے پہلے صاحب حق سے معافی کی درخواست کی جاسکتی ہے بشرطیکہ جس کے لئے سفارش کی جارہی ہے وہ شریر اور لوگوں کو تکلیف دینے والا نہ ہو لیکن جب یہ معاملہ حاکم اِسلام کے سامنے پیش ہوگیا تو اب اِس بارے میں کسی بھی طرح کی کوئی سفارش یا معافی نہیں دی جاسکتی۔سفارش کرنے والا گناہ گار ہوگا، حاکم اِسلام بھی کسی طرح کی کوئی رعایت نہیں کر سکتا لیکن وہ جرائم جن میں شریعت کی طرف سے کوئی حدمقرر نہیں صرف تعذیر ہےتو ان میں شفاعت کرنا بھی جائز اور شفاعت کو قبول کرنا بھی جائزبلکہ مستحب ہے خواہ حاکم اِسلام تک معاملہ پہنچ گیا ہو جبکہ جس کے متعلق شفاعت کی جارہی ہے وہ ضرر رساں نہ ہو۔ملکی انتظام کے لیے دو چیزوں کی ضرورت:”تم سے پہلے لوگ اِسی لئے گمراہ ہوئے کہ اُن میں سے جب کوئی مالدار شخص چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے۔“حدیث کے اِن الفاظ کی شرح کرتے ہوئے مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اِن لوگوں سے مراد یہودوعیسائی ہیں اور ہلاکت سے مراد قومی تباہی ملکی بدنظمی ہے۔ یہودونصاریٰ میں زنا ،چوری،قتل وغیرہ جرائم اِس لیے بڑھ گئے کہ اُن کے حکام و سلاطین نے مالداروں اور بڑے آدمیوں کی حدود(سزاؤں )میں رعایتیں کرنا شروع کردیں۔ملکی انتظام صرف دو چیزوں سے قائم رہ سکتا ہے سزائیں سخت ہوں جیسے اسلامی سزائیں ہیں اورکسی مجرم کی رعایت ضمانت نہ ہو کوئی بدمعاش قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔“خاتونِ جنت کا نام لینے کی وجہ:حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی پیاری بیٹی خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرارَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکا نام کیوں ذکر کیا؟ اس کی وجہ مرآۃ المناجیح میں یہ بیان کی گئی کہ:”تمام اولاد اطہار میں حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو جناب سیدہ فاطمہ زہرارَضِیَ اللّٰہ عَنْہَابہت ہی پیاری ہیں کیونکہ سب اولاد میں چھوٹی ہیں،نیز ان کی والدہ ماجدہ اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ،آپ کو بہت چھوٹی عمر میں چھوڑکر وفات پاگئیں لہٰذا آپ حضور ہی کی گود شریف میں پلیں بڑھیں اس لیے آپ کا نام شریف ہی لیا۔“مدنی گلدستہ’’شفاعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
( 1)
حُدُوْدُ اللّٰہوالا کوئی معاملہ جب تک حاکم اسلام تک نہ پہنچے تو اُس میں سفارش کرنا اور سفارش کو قبول کرنا دونوں جائز ہےہیں۔
( 2) جوشخص شریر ہو اور لوگوں کو تکلیف دیتا ہو اس کی سزا کے بارے میں کوئی مقدمہ پیش ہو تو وہاں سفارش نہ کی جائےخواہ اس کے جرم کا تعلق
حُدُوْدُ اللّٰہسے ہو یا نہ ہو۔
( 3) وہ جرائم جن کے بارے میں شریعت کی طرف سے کوئی حدمقرر نہ ہو اُس میں سفارش کرنا بھی جائز اورسفارش قبول کرنا بھی جائز ،چاہے یہ معاملہ حاکم اسلام تک پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو۔
حضورنبی پاک
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحُدُوْدُاللّٰہمیں کسی کی رعایت نہ کرتےتھے۔
( 4) ملکی نظام صرف دو چیزوں سے قائم رہ سکتا ہے:(1)سخت سزائیں نافذ العمل ہوں اور(2) کسی مجرم کی رعایت نہ کی جائے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ناجائز سفارش سے بچائے اور جائز سفارش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 651