باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرت ابومسعودعُقْبَهبن عَمْروبَدْرِیْ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوکر عرض کی:’’میں فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ پاتاکیونکہ وہ ہمیں طویل نماز پڑھاتا ہے۔‘‘تومیں نے وعظ ونصیحت کے موقعہ پر رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کبھی اتنا جلال میں نہیں دیکھا جتنا آپ کو اُس دن جلال میں دیکھا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرما یا:”اے لوگو!تم میں سے بعض ایسے لوگ ہیں جو دوسرے لوگوں کومُتَنَفِّرکرتے ہیں تو تم میں سےجو لوگوں کی امامت کرے وہ نماز مختصر پڑھائے کیونکہ اس کے پیچھے بوڑھے ،بچےاور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔

عَنْ اَبِيْ مَسْعُودٍ عُقْبَةَبْنِ عَمْرو الْبَدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النِّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنِّي لَاَتَاَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ اَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيْلُ بِنَا فَمَا رَاَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِيْ مَوْعِظَةٍ قَطُّ اَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ يَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِيْنَ فَاَيُّكُمْ اَمَّ النَّاسَ فَلْيُوْجِزْ فَاِنَّ مِنْ وَرَائِهِ الْكَبِيرَ وَالصَّغِیْر وَذَا الْحَاجَةِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 649 ، باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک سفر سے تشریف لائے تو میں نے اپنے چبوترے (کے دروازے)پرایک باریک پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب اسے دیکھا تواتار پھینک دیا،آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اورفرمایا :” قیامت کے دن لوگوں میں سے سخت ترین عذاب ان کو ہوگا جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق جیسی چیزیں بناتے ہیں ۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:قَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله ُعَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِيْ بِقِرَامٍ فِيْهِ تَمَاثِيْلُ فَلَمَّا رَاٰهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَتَكَهُ وَ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ يَا عَائِشَةُ! اَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللّٰہ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِيْنَ يُضَاهُوْنَ بِخَلْقِ اللهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 650 ، باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت کے معاملے نے بہت پریشان کیا جس نے چوری کی تھی۔وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس بارے میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کون بات کرے گا؟تو بولے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیارےحضرت اُسامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے سوا کون اس کی جرأت کرسکتا ہے؟ چنانچہ حضرت اُسامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس بارے میں بات کی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”کیا تماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتے ہو۔“ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:” اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اِس لئے ہلاک ہوئے کہ اُن میں سے جب کوئی مالدارشخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اُس پر حد قائم کرتے۔ خدا کی قسم! اگر فاطمہ بنتمُحَمَّدبھی چوری کرتی تو میں ضرور اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔“

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا اَنَّ قُرَيْشًا اَهَمَّهُمْ شَانُ الْمَرْاَةِ الْمَخْزُوْمِيَّةِ الَّتِيْ سَرَقَتْ فَقَالُوْا وَمَنْ يُّكَلِّمُ فِيْهَا رَسُوْل اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوْا وَمَنْ يَّجْتَرِیْءُ عَلَيْهِ اِلَّا اُسَامَةُ بْن زَيْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، فَكَلَّمَهَ اُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللهِ تَعَالٰی؟ ثُمّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ: اِنَّمَا اَهْلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا اِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الشَّرِيْفُ تَرَكُوْهُ وَاِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الضَّعِيْفُ اَقَامُوْا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَاَيْمُ اللهِ! لَوْ اَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 651 ، باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان

حضرت سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبلہ کی طرف دیوار میں رینٹھ دیکھی تو آپ کو یہ بہت ناگوار گزرا، چہرۂ اَنور سے یہ نا گواری ظاہر بھی ہورہی تھی۔آپ کھڑے ہوئے اور اپنے مبارک ہاتھ سے اُسے صاف کیا اور فرمایا :”تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مُناجات کرتا ہے، اُس کے اور قبلہ کے درمیان اُس کے رب کی خاص توجہ ہوتی ہے تو تم میں سے کوئی بھی قبلہ کی جانب ہرگز نہ تھوکےبلکہ بائیں جانب یا پیروں کے نیچےتھوکے۔“ پھر آپ نے اپنی چادر کا ایک حصہ لے کر اُس میں تھوکا اور چادر کے ایک حصے کو دوسرے پرمَلا اور فرمایا :” یا پھر اِس طرح کرلیا کرے ۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاٰى نُخَامَةً فِيْ الْقِبْلَةِ، فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَيْهِ حَتّٰى رُؤِيَ فِيْ وَجْهِهِ،فَقَامَ فَحَكَّهُ بِيَدِهِ فَقَالَ: اِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَا قَامَ فِيْ صَلَاتِهِ فَاِنَّهُ يُنَاجِيْ رَبَّهُ، وَ اِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلَا يَبْزُقَنَّ اَحَدُكُمْ قِبَلَ الْقِبْلَۃِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ اَوْ تَحْتَ قَدَمِهٖ ثُمَّ اَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيْهِ ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلٰى بَعْضٍ فَقَالَ: اَوْ يَفْعَلُ هٰكَذَا.‘‘

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 652 ، باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان