Main Icon

باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 650

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:قَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله ُعَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِيْ بِقِرَامٍ فِيْهِ تَمَاثِيْلُ فَلَمَّا رَاٰهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَتَكَهُ وَ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ يَا عَائِشَةُ! اَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللّٰہ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِيْنَ يُضَاهُوْنَ بِخَلْقِ اللهِ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت:قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم من سفر وقد سترت سهوة لي بقرام فيه تماثيل فلما راه رسول الله صلى الله عليه وسلم هتكه و تلون وجهه وقال يا عائشة! اشد الناس عذابا عند اللہ يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک سفر سے تشریف لائے تو میں نے اپنے چبوترے (کے دروازے)پرایک باریک پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب اسے دیکھا تواتار پھینک دیا،آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اورفرمایا :” قیامت کے دن لوگوں میں سے سخت ترین عذاب ان کو ہوگا جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق جیسی چیزیں بناتے ہیں ۔“

شرح حدیث

آل فرعون کی طرح سخت عذاب:فتح الباری میں ہے:”جس نے اِس لئے تصویر بنائی کہ اس تصویر کی عبادت کی جائے تو چونکہ اس مقصد کی وجہ سے تصویر بنانے والا کافر ہوگیا لہٰذا اسے آلِ فرعون کی طرح سخت عذاب دیا جائے گا اور جس شخص کے تصویر بنانے کا مقصد عبادت کرنا نہیں تو وہ گناہ گار تو ہوگا لیکن کافر نہ ہوگا مگر اسے دیگر گناہ گار مسلمانوں کے مقابلے میں سخت عذاب دیا جائےگا۔“تصاویربنانے کا حکم شرعی:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”(بلاضرورتِ شرعی)حیوان کی تصویر بنانا سخت حرام اور کبیرہ گناہ ہے کیونکہ اَحادیث مبارکہ میں تصویر بنانے والے کے لئے سخت سزا کو بیان کیا گیا ہے چاہے تصویر کو اس لئے بنا یا گیا ہو کہ اسے قدموں تلے روندا جائے گا یا کسی اور مقصد کے لئے بنا یا گیا ہو تصویر بنانا ہر حال میں حرام ہے خواہ وہ تصویر کپڑے میں بنائی گئی ہو یا چادر میں یا درہم و دینار میں یا کسی دیوار پر یا برتن میں ہر صورت میں حرام ہے۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”جمہور فقہاء اور محدثین فرماتے ہیں ہر وہ تصویر جس میں حیوان کی صورت نہ ہو جیسے درخت،پتھر ، پہاڑ کی تصاویر تو ان کے بنانے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ کیونکہ یہ شرعی اعتبار سے تصویر ہی نہیں ہیں۔حدیث پاک کی باب سے مطابقت:تصاویرشرعاً ممنوع ہیں اور ممنوعاتِ شرعیہ کو روکنا بھی دِین کی مدد ہے، رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تصاویرکو ہٹاکردِین کی مدد فرمائی اور یہ باب بھی دِینی حرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کرنے کے بارے میں ہے اِسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے اِسے اِس باب میں بیان فرمایا۔مدنی گلدستہ’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) متعدد اَحادیث مبارکہ میں تصویر بنانے والے کے لئے سخت عذاب کو بیان کیا گیا ہے ۔
(2) حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب غیرشرعی کام دیکھتے تو آپ کا چہرہ متغیر ہوجاتا اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کی قباحت بیان فرماتے۔
(3) جس شخص نے تصویر اس لئے بنائی کہ اس کی عبادت کی جائے تو ایسا شخص کافر ہوجائے گااور اسے آلِ فرعون کی طرح سخت عذاب دیا جائےگا۔
(4) غیرجاندار کی تصاویر بنانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں جاندار وں کی تصویر بنانے اور دیگر غیر شرعی کاموں سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 650