Main Icon

باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 882

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِذَا عَطَسَ وَضَعَ يَدَهُ اَوْ ثَوبَهُ عَلٰی فِيْهِ وَخَفَضَ اَوْ غَضَّ بِهَا صَوْتَهُ. شَكَّ الرَّاوِي.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا عطس وضع يده او ثوبه علی فيه وخفض او غض بها صوته. شك الراوي.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو چھینک آتی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنا ہاتھ مبارک یا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آواز کو پَست فرماتے۔‘‘راوی کو اس بارے میں شک ہے کہ ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےخَفَضَکا لفظ کہا یاغَضَّکا ۔

شرح حدیث

چھینک میں آواز پست کرنے کی حکمتیں:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”چھینک کے وقت اپنا پورا چہرہ یا پورا منہ کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانپ لینا سنت ہے کہ اس سے رطوبت کی چھینٹیں نہ اُڑیں گی اور اپنے یا دوسرے کے کپڑے خراب نہ ہوں گے اور چھینک کی آواز حتَّی الامکان پست کرنا بھی سنت ہے کہ یہ آواز بلند ہو تو بُری معلوم ہوتی ہے لوگ اُچھل پڑتے ہیں،چھینک کی آواز آہستہ نکلےاَلْحَمْدکی آواز بلند ہو۔“صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”چھینک کے وقت سرجھکالے اور مونھ چھپالے اور آواز کو پست کرے، چھینک کی آواز بلند کرنا حماقت ہے۔“”آواز کو پست کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس طرح تمام اعضا جھنجھناہٹ سے بچ جاتے ہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 882