Main Icon

باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 883

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مُوْسٰى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُوْنَ عِنْدَ رَسولِ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَرْجُونَ اَنْ يَّقُوْلَ لَهُمْ يَرْحَمُكُمُ اللهُ،فَيَقُوْلُ: يَهْدِيْكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.

عن ابي موسى رضي الله عنه قال:كان اليهود يتعاطسون عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يرجون ان يقول لهم يرحمكم الله،فيقول: يهديكم الله ويصلح بالكم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں یہودی جان بوجھ کر چھینکتےتاکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیںيَرْحَمُكَ اللّٰهکہیں،مگر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے جواب میں فرماتے:يَهْدِيْكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں ہدایت عطا فرمائے اور تمہارے حال کو درست فرمائے ۔“

شرح حدیث

کافر کی چھینک پر حمد کا جواب:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’یہودی نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں جان بوجھ کر چھینکا کرتے تھے تا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّميَرْحَمُكَ اللّٰهکہیں اور انہیں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا کی برکت حاصل ہو،وہ باطنی طورپرجانتے تھے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں مگر ظاہری بغض و عناد کی وجہ سے انکار کرتے تھے،مگر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپھربھی ان پر مہربانی فرماتے انہیں حاضری کی برکت سے محروم نہ فرماتے بلکہ اپنی محفل میں آنے کے صلے میں انہیں یہ دعا دیتے:يَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں ہدایت عطا فرمائے اور تمہارے حال کو درست کرے کہ تمہیں اسلام لانے کی توفیق نصیب ہو۔“کفارکیلئےرحمت و مغفرت کی دعاکرنا:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: (یہودی بارگاہِ رسالت میں)دیدہ و دانستہ چھینک لیا کرتے تھے، ناک میں تنکے ڈال کر یا کسی اور طریقہ سے ،تاکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کويَرْحَمُكَ اللّٰهکہیں،تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے جواب میں فرماتے:يَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:*ایک یہ کہ یہود بھی حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکومقبولُ الدّعاء،اللّٰہکا محبوب جانتے تھے اس لیے آپ کی دعا لینے کی کوشش کرتے تھے مگر ایمان نہ لاتے تھے۔حضورسے دعا لینے کی ترکیب ایمان لانا اور نیک اَعمال کرنا ہے خصوصًا نمازِتہجد کی پابندی کرنا۔ *دوسرے یہ کہ کفار کے لیے دعائے مغفرت، دعائے رحمت کرنا ممنوع ہے، انہیں دعائے ہدایت کرے، رحمت،مغفرت صرف مسلمانوں کے لیے ہے ہدایت کفار کو بھی مل سکتی ہے کہ وہ ہدایت پاکر ایمان قبول کرلیں۔“چھینک کا جواب دینے کے بعض اَحکام:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:” عورت کو چھینک آئی اگر وہ بوڑھی ہے تو مرد اس کا جواب دے، اگر جوان ہے تو اس طرح جواب دے کہ وہ نہ سنے۔ مرد کو چھینک آئی اورعورت نے جواب دیا، اگر جوان ہے تو مرد اس کا جواب اپنے دل میں دے اور بوڑھی ہے تو زور سے جواب دے سکتا ہے۔خطبہ کے وقت کسی کو چھینک آئی تو سننے والا اس کو جواب نہ دے۔ کافر کو چھینک آئی اور اس نےاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہا تو جواب میںیَھْدِ یْکَ اللّٰہکہا جائے۔” کوئی مسلمان چھینک کر حمدِ الٰہی بجا لائے تو ہر سننے والایَرْحَمُکَ اللّٰہکہے۔کوئی کلمہ گومُرتد چھینک کر لاکھ با راَلْحَمْدُ لِلّٰہکہے اُسےیَرْحَمُکَ اللّٰہکہنا جائز نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 883