Main Icon

باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 879

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم اِذَا عَطَسَ اَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰه، وَلْيَقُلْ لَهُ اَخُوْهُ اَوْ صَاحِبُهُ:يَرْحَمُكَ اللهُ،فَاِذَا قَالَ لَهُ:يَرْحَمُكَ الله فَلْيَقُلْ:يَهْدِيْكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم اذا عطس احدكم فليقل الحمدلله، وليقل له اخوه او صاحبه:يرحمك الله،فاذا قال له:يرحمك الله فليقل:يهديكم الله ويصلح بالكم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے چاہیے کہاَلْحَمْدُلِلّٰہکہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھیيَرْحَمُكَ اللّٰهُکہے،جب وہيَرْحَمُكَ اللهُکہہ لے تو پھر ( چھینکنے والا)’’يَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ‘‘کہے،یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں ہدایت عطا فرمائے اور تمہارے حال کو درست فرمائے ۔

شرح حدیث

چھینک پر حمد کرنے کی حکمت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”چونکہ چھینک سے دماغی بخارات خارج ہوجاتے ہیں(تودماغ کوسکون ملتاہے)اس نعمت کے شکرانے میں حمد کرنے کا حکم دیا گیاہے۔“مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”چونکہ چھینکاللّٰہتعالیٰ کی نعمت ہے لہٰذا اس پراللّٰہکی حمد کرنی چاہیے،چونکہ اس حمد سے اس نےاللّٰہکی نعمت کی قدر کی لہٰذا سننے والے نے اسے دعا دییَرْحَمُکَ اللّٰہ،چونکہ اس دعا دینے والے نے اس پر اِحسان کیا لہٰذا احسان کا بدلہ اِحسان سے کرتے ہوئے یہ پھر اسے دعا دے اور کہےیَہْدِیْکُمُ اللّٰہغرضکہ ان ذکروں کے اَیرپھیر میں عجیب حکمت ہے۔“چھینک کا جواب دینا واجب ہے :صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”چھینک کا جواب دینا واجب ہے، جبکہ چھینکنے والااَلْحَمْدُ لِلّٰہکہے اور اس کا جواب بھی فوراً دینا اور اس طرح جواب دینا کہ وہ سن لے، واجب ہے۔جس طرح سلام کے جواب میں ہے یہاں بھی ہے۔چھینک کا جواب ایک مرتبہ واجب ہے، دوبارہ چھینک آئی اور اس نےاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہا تو دوبارہ جواب واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے۔“چھینک آنے پر حمدِ الٰہی مسنون ہے:”چھینک پر حمدِ الٰہی بجا لانا مسنون ہے، بہت لوگ صِرفاَلْحَمْدُلِلّٰہکہتے ہیں ۔ پورا کلمہ کہنا چاہیے ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ حدیث میں ہے جو چھینک پراَلْحَمْدُلِلّٰہکہے فرشتہ کہتا ہے:رَبِّ الْعَالَمِیْنیعنی اس کلمہ کو پورا کردیتا ہے اور جو کہتا ہےاَلْحَمْدُ لِلّٰہ رَبِّ الْعَالَمِیْنفرشتہ کہتا ہےیَرْحَمُکَ اللّٰہ،اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) تجھ پر رحم کرے ۔توکتنی بڑی دولت ہے کہ معصوم فرشتے کی زبان سے دعائے رحمت (ملے)۔ آدمی پر واجب ہے کہ جب چھینکنے والا مسلمان حمدِ الٰہی بجا لائے اگر چہ صرفاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہے یہ( یعنی سننے والا)یَرْحَمُکَ اللّٰہکہے پھر اسے( یعنی چھینکنے والے کو)مستحب کہ اس( جواب دینے والے) سے کہے:یَغْفِرُاللّٰہ لَنَا وَلَکُمْ، اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) ہماری اور تمہاری مغفرت کرے اور چھینک پر افضل و اکمل صیغہ حمد کا یہ ہے:اَلحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ عَلٰی کُلِّ حَالِ مَا کَانَ مِن حَالٍ وَصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ اَھْلِ بَیْتِہٖ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 879