- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اللّٰہتعالیٰ چھینک کو پسند جبکہ جماہی کو نا پسند فرماتاہے،جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرے تو سننے والے مسلمان پريَرْحَمُكَ اللّٰهکہنا لازم ہے اور جماہی شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ممکن ہو اسے روکے کیونکہ جب تم میں سے کوئی جماہی لیتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے ۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ:اِنَّ الله يُحِبُّ الْعُطَاسَ،وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَاِذَا عَطَسَ اَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللهَ تَعَالٰی كَانَ حَقَّاعَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ اَنْ يَقُوْلَ لَهُ:يَرْحَمُكَ اللهُ، وَاَمَّا التّثَاؤُبَ فَاِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ،فَـاِذَا تَثَاءَبَ اَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ،فَاِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 878 ، باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے چاہیے کہاَلْحَمْدُلِلّٰہکہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھیيَرْحَمُكَ اللّٰهُکہے،جب وہيَرْحَمُكَ اللهُکہہ لے تو پھر ( چھینکنے والا)’’يَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ‘‘کہے،یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں ہدایت عطا فرمائے اور تمہارے حال کو درست فرمائے ۔
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم اِذَا عَطَسَ اَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰه، وَلْيَقُلْ لَهُ اَخُوْهُ اَوْ صَاحِبُهُ:يَرْحَمُكَ اللهُ،فَاِذَا قَالَ لَهُ:يَرْحَمُكَ الله فَلْيَقُلْ:يَهْدِيْكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 879 ، باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
حضرت سَیِّدُنَاابو موسیٰرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا :”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرے تو تم اسے جواب دو، اگر وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد نہ کرے تو جواب نہ دو ۔“
عَنْ اَبِي مُوْسٰى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقُوْلُ:اِذَا عَطَسَ اَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتُوْهُ فَاِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللهَ فَلَا تُشَمِّتُوْهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 880 ، باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک کو جواب دیا دوسرے کو نہ دیا ،جسے جواب نہ دیا اس نے عرض کی:فلاں کو چھینک آئی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے جواب مرحمت فرمایاجبکہ مجھے جواب عطا نہ فرمایا؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اس نےاللّٰہ عَزَّ وجَلَّکی حمد کی تھی اور تو نے حمد نہ کی۔‘‘
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم فَشَمَّتَ اَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ،فَقَالَ الَّذِيْ لَمْ يُشَمِّتْهُ:عَطَسَ فُلَانٌ فَشَمَّتَّهُ وَعَطَسْتُ فَلَمْ تُشَمِّتْنِيْ؟فَقَالَ:هَذَا حَمِدَ الله، وَاِنَّكَ لَمْ تَحْمَدِ اللهَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 881 ، باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو چھینک آتی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنا ہاتھ مبارک یا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آواز کو پَست فرماتے۔‘‘راوی کو اس بارے میں شک ہے کہ ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےخَفَضَکا لفظ کہا یاغَضَّکا ۔
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِذَا عَطَسَ وَضَعَ يَدَهُ اَوْ ثَوبَهُ عَلٰی فِيْهِ وَخَفَضَ اَوْ غَضَّ بِهَا صَوْتَهُ. شَكَّ الرَّاوِي.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 882 ، باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں یہودی جان بوجھ کر چھینکتےتاکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیںيَرْحَمُكَ اللّٰهکہیں،مگر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے جواب میں فرماتے:يَهْدِيْكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں ہدایت عطا فرمائے اور تمہارے حال کو درست فرمائے ۔“
عَنْ اَبِي مُوْسٰى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُوْنَ عِنْدَ رَسولِ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَرْجُونَ اَنْ يَّقُوْلَ لَهُمْ يَرْحَمُكُمُ اللهُ،فَيَقُوْلُ: يَهْدِيْكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 883 ، باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
حضرت سَیِّدُناابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔“
عَنْ اَبِي سَعِيْدِنِالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اِذَا تَثَاءَبَ اَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلٰی فِيْهِ فَاِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 884 ، باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان